بھارت کی احمقانہ الزام تراشی

بھارت کی احمقانہ الزام تراشی
 بھارت کی احمقانہ الزام تراشی

  

اُڑی (یہ آوڑی نہیں، واؤ کے ساتھ لکھا بھی جائے تو واؤ کو کھینچ کر نہیں پڑھتے اس لئے پھر بھی اس کا تلفظ اُڑی ہی بنتا ہے) ضلع بارہ مولا کا ایک سرحدی مقام ہے۔ ایک بھارتی انفنٹری بٹالین10 ڈوگرہ رجمنٹ اپنی تعیناتی کی مدت ختم کر کے واپس جانے کے لئے اُڑی میں عارضی کیمپوں میں مقیم تھی۔ اسے اب وہاں سے اپنے معمول کے ٹھکانے پر پہنچنا تھا۔ 18ستمبر کو صبح ساڑھے پانچ بجے چار مسلح اشخاص اس عارضی خیموں کے کیمپ میں داخل ہوئے، بھارتی اطلاعات کے مطابق یہ چار افراد کلاشنکوفوں اور دستی بموں سے مسلح تھے۔ انہوں نے کیمپ میں گھستے ہی بھارتی فوجیوں پر اپنے ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ بھارتی خبروں کے مطابق اس سے خیموں میں آگ بھی لگ گئی،اس حملے میں18بھارتی فوجی مارے گئے اور 25 زخمی ہو گئے، زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جائے حادثہ سے سو کلو میٹر دور سری نگر آرمی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر، وزیر داخلہ راج ناتھ اور مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے زخمیوں کی عیادت کی اور اس موقع پر اپنے الگ الگ بیانات میں اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی۔ اس کے بعد جس طرح بھارت میں جنگی جنون کو ہَوا دی گئی اور پاکستان کو ’’سبق سکھانے‘‘ کا نعرہ لگ گیا۔ دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے سابق سرگرم کارکن اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی پاکستان سے انتقام لینے اور سبق سکھانے والی باتیں کی ہیں اور بھارتی میڈیا نے ایک طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف سٹرٹیجک سٹرائیکس کرنے والا ہے۔ گویا بھارت اِس واقعہ کو ’’پرل ہاربر‘‘ بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں امریکہ کی بھونڈی نقالی بھارت کا طرۂ امتیاز ہے۔

بھارت ایسا کر سکتا ہے یا نہیں؟ آیئے ذرا اِس بات کا جائزہ لیا جائے کہ پاکستان اُڑی حملے کی حماقت کر سکتا تھا یا نہیں۔اس وقت کی معروضی صورتِ حال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو اڑھائی ماہ ہونے والے ہیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں اس کرفیو کے دوران سو سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، چار ہزار کے لگ بھگ زخمی ہیں، سینکڑوں زخمی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ کشمیر میں اڑھائی ماہ سے جاری اس خونی ڈرامے سے دُنیا کے کچھ لوگ اگر بے خبر تھے تو وہ اب باخبر ہو چکے ہیں۔باخبر ہوتے ہوئے، جنہوں نے بے حسی کی چادر اُوڑھ رکھی تھی ان کے لئے بھی اب بے حسی کی چادر میں مُنہ چھپانا ممکن نہیں رہا ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اس پر شور مچا رہی ہیں۔ بھارت کے ساتھ تازہ تازہ دوستی کے عہدو پیمان کرنے والے امریکہ نے انسانی آزادیوں اور حقوقِ انسانی کے دعوؤں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں وہ غیر جانبدار رہے گا۔ اگرچہ میرے نزدیک اِس قسم کی غیر جانبداری درحقیقت بھارت کی طرفداری ہے تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے اگر امریکہ اس وقت بھارت کی طرف داری کرنے کی بجائے غیرجانبدار رہتا ہے تو یہ بھی حالات کی مجبوری ہے وگرنہ جس طرح امریکہ اور بھارت شیرو شکر ہیں وہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ اب وہ بھارتی ’’پرل ہاربر‘‘Flas Flag Attack پر کس قدر غیرجانبدار رہتا ہے۔

بھارت میں مین سٹریم میڈیا تو پاکستان دشمنی میں باولا ہو رہا ہے، لیکن بعض بھارتی سیاست دان اور صحافی اب حق بات کہنے لگے ہیں وہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کر رہے ہیں۔ ادھر کشمیریوں کی تحریک آزادی میں تیزی اور ایسے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس، تمام وہ معاملات ہیں جو کشمیریوں اور پاکستان کے حق میں ہیں۔ ایسے میں پاکستان اُڑی حملے کی حماقت کیوں کرتا۔ 18،19 بھارتی فوجیوں کو مار کر پاکستان کو کیا حاصل ہو سکتا تھا اور کیا حاصل ہوا۔ اس سے کیا کشمیریوں کی آزادی کی منزل آسان ہو گئی یا ہونے کا کوئی امکان تھا؟ایسے موقع پر کسی ایسی مہم جوئی کا صرف ایک ہی نتیجہ ہو سکتا تھا کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد جو اُن کا پیدائشی حق ہے اور اس کے لئے پاکستان کی حمایت کو دھچکا لگے اور ایک جائز جدوجہد اور اُس کی حمایت پر شدت پسندی اور دہشت گردی کا منحوس سایا چھا جائے۔ آخر کشمیری اور پاکستان ایسا کیوں چاہیں گے، ایسا کیوں کریں گے؟

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اور پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اتنی نادان یا احمق ہیں کہ اُن کے خیال میں 18،19 بھارتی سورماؤں کے خون سے ہاتھ گندے کر کے کشمیریوں کی آزادی کا سفر کچھ آسان ہو جائے گا یا کشمیریوں پر ہونے والے مظالم میں کچھ کمی واقع ہو جائے یا اُن کے جسم و جاں اور چشم گریاں کو چھیدنے والی گولیوں میں نرمی واقع ہو جائے گی اور وہ روئی کے گالے بن جائیں گے یا پانی کے بلبلے بن کر پھٹ جائیں گے۔ بھارتی عوام کو تو شاید اِس دلیل سے بے وقوف بنایا جا سکے، لیکن نہ تو کشمیری اتنے نادان ہیں کہ 19بھارتی فوجیوں کو مار کر سمجھیں کہ اب اُن کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا ہے، نہ ہماری کوئی خفیہ ایجنسی اتنی احمق ہے کہ وہ یہ سوچ لے کہ 18،19 بھارتی فوجیوں کو مار کر وہ بھارت کو اتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں کہ بھارت ٹوٹ کر پاکستان کے قدموں پر گر پڑے گا اور کشمیری، سکھ، ٹامل، تیلگو آزاد ہو کر آئی ایس آئی کے گُن گانے لگیں گے۔

کشمیریوں کی مظلومیت اس وقت اجاگر ہو رہی ہے۔ پاکستان اُن کا مقدمہ مظلوموں کے حامی کے طور پر دُنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کیوں چاہے گا کہ مظلوموں کے حامی کی بجائے دُنیا کے سامنے ظالم کے روپ میں پیش ہو کر مظلوموں کی حمایت اور ظلم کی مذمت کرے۔ پاکستانی ادارے اُڑی حملے سے کہیں بہتر منصوبہ بندی کر کے بھارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے والی کارروائیوں کی استعداد رکھتے ہیں۔ اُڑی حملے کے لئے وقت بھی ایسا نہیں تھا کہ پاکستانی ادارے یہ وقت کھو دیتے تو ساری زندگی پچھتاتے رہتے۔ پاکستانی اداروں کی کارکردگی مسلمہ ہے تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ موقع محل کو بھی خوب پہچانتے ہیں۔ اگر انہیں10ڈوگرہ رجمنٹ سے کوئی خاص پرخاش تھی بھی تو وہ کم از کم اتنا انتظار تو کر لیتے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا موقع گزر جاتا۔ اس موقع پر جس نے بھی یہ حملہ کیا ہے پاکستان کی حمایت نہیں کی اور کشمیریوں کے کاز کو نقصان پہنچایا ہے اس کا براہ راست فائدہ بھارت کو ہوا ہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بھارت اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور ان کی عقلوں پر پردہ ڈالنے کے لئے دعویٰ کر رہا ہے کہ حملہ آوروں نے جو اسلحہ استعمال کیا اور اُن کے ساتھ کھانے پینے کا جو سامان تھا اُس پر پاکستان کا ’’مارک‘‘ تھا۔ سبحان اللہ گویا پاکستان اتنا بھی نہیں سمجھ سکتا کہ اپنا مارک شدہ سازو سامان اپنے حملہ آوروں کو دینا،اپنی پہچان کی پکی تصدیق کے مترادف ہے،وہ اپنی تمام تر ذہانت صلاحیت اور کارکردگی کے اتنا بھی نہ کر سکا کہ ان حملہ آوروں کے لئے بھارتی اسلحہ حاصل کر لیتا جو کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے۔ بھارت کے کسی دوست مُلک کا مارک کھنے والا اسلحہ یا سازو سامان یا کم از کم نشانات مٹایا ہوا اسلحہ اور سازو سامان بھی فراہم نہ کر سکے۔ ان حملہ آوروں کو خود کش بمبار بھی نہیں کہا گیا۔ اگر یہ مارے گئے تو ان کی لاشیں یا جسم کے حصے بھی تو شناخت کئے جا سکتے ہیں۔ آخر بھارت اِس بات پر کیوں بضد ہے کہ بغیر ثبوت فراہم کئے اُس کی بات پر اعتبار کر کے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ حملہ آور پاکستان کے فرستادہ تھے۔

بھارت نے ممبئی حملوں کو بھارت کا نائن الیون قرار دیا تھا۔ اب وہ اُڑی حملے کو بھارت کا ’’پرل ہاربر‘‘ بنا کر پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔پاکستان اور پاکستانی اداروں کو اس کا جھوٹ کھولنے کے لئے تمام تر کوششیں بروئے کار لانا چاہئیں۔ حکومت حزب اختلاف اور میڈیا کو اس وقت پاکستانی قوم بن کر بھارت کی اس سازش کو ناکام بنانے پر یک سو ہو جانا چاہئے۔

مزید :

کالم -