سارا بھارتی سماج یک قطبی نہیں ہے!

سارا بھارتی سماج یک قطبی نہیں ہے!
سارا بھارتی سماج یک قطبی نہیں ہے!

  

جس طرح ہمارے ٹی وی چینل آزاد ہیں اور بعض اوقات بے لگام ہونے کی حدوں تک چلے جاتے ہیں اس طرح کی کوئی روش بھارت میں نہیں ہے۔ اس کے چینل اگر 100فیصد نہیں تو 80فیصد کی حد تک Embedded ہیں۔ وہ وہی زبان بولتے ہیں جو ان کی سرکار بولتی ہے۔ باقی 20فیصد بھی نیم آزاد اور نیم گرفتار (Semi-Embedded)کہے جا سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے پرائیویٹ چینل بھی سرکاری چینلوں کی اوورآل ابلاغی پالیسی کی پیروی کرتے ہیں۔ مثلاً دو روز پہلے اوڑی بیس پر جو حملہ ہوا اس کی کوریج میں تمام کا تمام بھارتی میڈیا یک زبان، یکسو اور یک جہت تھا۔

انڈیا کی پراپیگنڈہ مشینری کی ہاہا کار کا اندازہ کیجئے کہ جونہی مودی جی نے پاکستان کو تنہا کرنے کی راگنی چھیڑی فوراً ہی اس کے چینلوں پر یہ خبر فلیش کر دی گئی کہ روس نے پاکستان کے ساتھ جو مشترکہ مشقیں پلان کی تھیں وہ منسوخ کر دی گئی ہیں اور یہ انڈیا سے روس کی یکجہتی کا ایک اظہار ہے۔۔۔ حالانکہ ماسکو میں پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ یہ مشقیں منسوخ یا ملتوی نہیں کی گئیں بلکہ مقررہ وقت پر ہی ہوں گی۔ ان کا دورانیہ دو ہفتوں (24ستمبر تا 7اکتوبر 2016ء) کا ہو گا اور یہ رٹو (گلگت بلتستان) اور چراٹ (خیبرپختونخوا) کے کوہستانی علاقوں میں کی جائیں گی۔۔۔ دوسری جھوٹی خبر یہ فلیش کی گئی کہ سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین (چین، روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس) نے یک زبان ہو کر کہا ہے کہ وہ اوڑی میں دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی ہو گی، ہم اس کی مذمت کریں گے۔۔۔ اس کا مطلب بھارت نے یہ نکالا ہے کہ ان پانچوں بڑی طاقتوں (بشمول چین) نے اوڑی پر دہشت گردانہ حملہ کرنے پر ’’پاکستان کی مذمت‘‘ کی ہے۔۔۔ حالانکہ پاکستان کا نام کسی نے نہیں لیا۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو اس کی مکمل تعریف بھی ابھی تک نہیں کی گئی۔ بھارت جو کچھ مقبوضہ کشمیر اور پاکستان (بلوچستان) میں کر رہا ہے اسے اگر دہشت گردی نہیں تو اور کیا کہا جائے گا؟

ہماری طرح ان کے ٹاک شوز بھی بی جے پی اور کانگریسی رہنماؤں کو کسی ایک موضوع پر دعوتِ گفتگو دیتے ہیں اور ساتھ ہی ایک آدھ ممتاز اور غیر جانبدار تجزیہ نگار بھی شامل کر لیا جاتا ہے جس کی تجزیاتی گفتگو طرفین کی نمائندگی کرتی معلوم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں جو بڑے بڑے ٹی وی تجزیہ نگار ہیں ان میں فکر و نظر کا توازن کم کم سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔ وہ جس سیاسی پارٹی کے حق میں بولتے ہیں اس کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی مخالف پارٹی کی بھی ایسی تیسی پھیر دینے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ بھارت میں ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ جو ہم پاکستانیوں اور بھارتیوں میں مابہ الاامتیاز ہے وہ بھارت کا مسلسل 70سالہ جمہوری کلچر ہے جس میں بعض ایسی ابلاغی روایات پروان چڑھ چکی ہیں جن کو (بمقابلہ پاکستان) سراہا جا سکتا ہے۔

پاکستانی اور بھارتی میڈیا میں ایک فرق زبان کا بھی ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنے ٹاک شوز ہوتے ہیں ان کی اکثریت کی زبان اردو ہوتی ہے جبکہ بھارت میں انگریزی ہے۔ انگریزی کے مبصرین اور سیاسی رہنماؤں کا تعلیمی پس منظر ان کو ایک تو مروجہ ادب و آداب کی حد سے آگے نکلنے نہیں دیتا اور دوسرے انگلش میڈیم تدریسی اداروں میں پڑھنے والے طلبا اور طالبات کا ذہنی افق وسیع تر ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اردو میڈیم سکولوں کے سٹوڈنٹ کی ذہنی وسعت محدود ہوتی ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اردو میڈیم تدریسی اداروں کے فارغ التحصیل طلباء اور طالبات بھی جب تک انگریزی زبان کے گہرے معلوماتی سمندر میں غوطہ زن نہیں ہوتے تب تک ان کی گفتگو اور ان کے دلائل سطحِ آب پر ہی تیرتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں انگریزی زبان کو چونکہ میڈیا میں کم پذیرائی ملتی ہے اس لئے بھارت کے جن چینلوں سے خبریں، تبصرے، جائزے اور تجزیئے وغیرہ نشر ہوتے ہیں، ان سے پاکستان کا سوادِ اعظم کم کم مستفید ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا میں پاکستان کی مخالفت جس شد و مد سے کی جاتی ہے، اس کا اظہار ہمیں اپنے اردو میڈیا میں اسی شد و مد سے دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتا۔ بعض اوقات یہ شدت ایک ناگوار حدّت میں بدل جاتی ہے اور بعض اوقات گوارا نرماہٹ میں۔۔۔ اس کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے والے لکھاریوں اور صحافیوں کو دینا چاہیے!

میں قارئین سے جس ٹاک شو کی بات کرنا چاہتا ہوں، وہ انگریزی زبان میں تھا، موضوع وہی اوڑی پر فدائین کا حملہ تھا جو بھارتیوں کے مطابق دہشت گرد تھے اور پاکستان نے بھیجے تھے اور ان کا اسلحہ، گولہ بارود اور کھانے پینے کے پیکٹوں تک پر ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔شرکائے گفتگو میں ایک ریٹائرڈ جنرل تھے، ایک حکومتی وزیر، ایک سپریم کورٹ کے وکیل اور ایک صحافی تھے۔ (ان کے نام لکھنا چنداں ضروری نہیں)۔۔۔اینکر پرسن ایک خاتون تھی جو عموماً اس چینل کی ان تین چار خواتین میں شامل تھی جو عموماً یہ ٹاک شو کرتی ہیں اور جس کا دورانیہ پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے شب تک ہوتا ہے۔وہ بہت تیز تیز بولتی ہیں لیکن بین الاقوامی سیاسی موضوعات پر خاصا عبور بھی رکھتی ہیں لیکن یہ عبور تعصب گزیدہ بھی ہوتا ہے! چونکہ موضوع ایک ملٹری بیس پر حملہ تھا اس لئے سب سے پہلے جنرل صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا: ’’پاکستان ایک طویل عرصے سے لائن آف کنٹرول کے پار اپنے دہشت گرد بھیج رہا ہے اور ہم ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے ہیں۔ہمیں بھی ایک ایسی ہی فورس تیار کرنی چاہیے جو لائن آف کنٹرول عبور کرے اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو کر پاکستانی فوج کی چوکیوں اور ہیڈکوارٹروں پر حملہ کرے۔ یہ ایک قسم کا ٹیکٹیکل جواب (Tactical Response) ہو گا جو آج تک ہم نے نہیں دیا۔ دوسرے لفظوں میں ہم اپنے دشمن کو ہمیشہ موقع دیتے رہے ہیں کہ وہ لائن آف کنٹرول پار کرے اور جہاں موقع ملے وار کردے۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے جو یہ کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سیاسی بساط پر تنہا کر دیا جائے تو یہ ایک قسم کا سٹرٹیجک جواب (Strategic Response) ہے۔ اس کا اثر دیرپا ہوگا۔ لیکن ہماری جنتا ٹیکٹکل جواب بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کا ذکر ہمارے آرمی چیف نے کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم اس ٹیکٹیکل Response کے لئے وقت اور جگہ کا انتخاب خود کریں گے‘‘۔

اس کے بعد حکومتی وزیر کو تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا : ’’ٹیکٹیکل جواب ہماری جلد بازی کو ظاہر کرے گا اور ممکن ہے اس سے معاملہ زیادہ بگڑ جائے۔ اس لئے وزیر اعظم نے پاکستان کو تنہا کرنے کا جو حکم صادر کیا ہے وہ بہترین آپشن ہے۔ جنتا کو شائد معلوم نہیں کہ جب دو نیو کلئیر ممالک ایک دوسرے کے خلاف ٹیکٹیکل رسپانس سے آغاز کرتے ہیں تو بات سٹرٹیجک رسپانس تک جا پہنچتی ہے جس کے نتائج اتنے خوفناک ہیں کہ ان کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے فی الحال حکومت کی کوشش ہوگی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اپنا کیس پیش کریں تو ہماری وزیر خارجہ سوشیما سوراج ان کو منہ توڑ جواب دیں اور اس طرح ساری دنیا کو معلوم ہو جائے کہ پاکستان ہی دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور اِسے اپنے ہمسایوں کو ایکسپورٹ بھی کر رہا ہے‘‘۔

اس کے بعد دو چار جملے کہہ کر اینکر پرسن نے صحافی تجزیہ نگار کی رائے لی تو انہوں نے کہا:’’ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کو خصوصی طور پر اس دہشت گردانہ حملے کے لئے وقت کا یہ انتخاب کیوں کرنا پڑا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ وقت کشمیریوں کے باغیانہ خیالات کو ساری دنیا میں پھیلانے کا سبب بنے گا۔ ہمیں پاکستان کے جیشںِ محمد کے ان رابطوں کو بھی نگاہ میں رکھنا چاہیے جو ہمارے کشمیر میں سہولت کاری کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ پٹھانکوٹ پر حملے کے وقت بھی میں نے آپ کے پروگرام میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ ہمیں اپنی صفوں میں جو غدار اور ملک دشمن عناصر موجود ہیں ، ان کو تلاش کیاجائے اور یہ گٹھ جوڑ (NEXUS)توڑا جائے‘‘۔

اینکر پرسن نے اس پر یہ کہا :’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ملک کا ایک طبقہ یہی سوال دہراتا ہے کہ جب تک دہشت گردوں کے رابطے مقامی سہولت کاروں سے نہیں ہوتے، اِس قسم کے حملے نہیں ہوسکتے۔ یہ حملے جو پاکستان گاہے بگاہے کرتا اور کرواتا رہتا ہے ان کی وجوہات کی گہرائی میں جانا چاہیے۔۔۔ اب میں سپریم کورٹ کے ممتاز ایڈووکیٹ کو دعوت دوں گی کہ وہ اس اوڑی سانحے پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔‘‘۔۔۔

اس پر اس وکیل صاحب نے زبان کھولی اور کہا:’’میں اپنے فوجیوں کا حد درجہ احترام کرتا ہوں۔ آرمی ہو یا نیوی یا ائرفورس ،ہماری مسلح افواج کے جوان اور آفیسرز اپنی جانوں کانذرانہ پیش کر کے قوم اور ملک کی بے بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میں دوبارہ ان کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ لیکن اس قسم کا جب بھی کوئی حملہ ہمارے کسی فضائی یا آرمی مستقر پر ہوتا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دہشت گردکسی مستحکم اور مضبوط کیمپ کا حصار توڑ کر اندر داخل ہوں اور خونریزی کا بازار گرم کردیں؟ ہم ایک ہی سوراخ سے بار بار کیوں ڈسے جاتے ہیں؟ہم نے لائن آف کنٹرول پر باڑھ لگا رکھی ہے، دن رات پٹرولنگ ہوتی ہے،چپہ چپہ کی نگرانی کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ایک صبح یہ خبر آتی ہے کہ دہشت گردوں نے حفاظتی حصار توڑ کر حملہ کردیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان لمحات میں کیمپ یا بیس کے محافظ کہاں ہوتے ہیں؟ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہماری سروے لینس کے نظام میں کہیں نہ کہیں بڑے بڑے سوراخ ہیں اور کہیں نہ کہیں کمزوری، لاپرواہی اور غفلت کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ میرا سوال پھر وہی ہے کہ اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟‘‘

یہاں جنرل صاحب نے دخل اندازی کی کوشش کی تو وکیل صاحب نے انہیں خاموش کروادیا اور اینکر نے بھی کہا کہ ان کو اپنا بیان اور اپنا پوائنٹ مکمل کرنے دیں ۔ وکیل صاحب دوبارہ گویا ہوئے:’’سچی بات ہے کہ میں کئی برسوں سے سپریم کورٹ میں جارہا ہوں۔ اور روزانہ جاتا ہوں، اس سپریم کورٹ کے وسیع و عریض احاطے کی حفاظت کے لئے 500محافظوں کا عملہ دن رات حفاظتی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ لیکن یقین کیجئے، جب بھی میں لائن آف کنٹرول کراس کر کے پاکستانی دہشت گردوں کے حملے کی خبر سنتا ہوں تو لرز جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں اگر ان دہشت گردوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا تو کیا ہوگا؟۔۔۔ کیا آپ اس منظر کا تصور کرسکتے ہیں کہ جب فاضل جج صاحبان دہشت گردوں کا شکار ہو چکے ہوں گے اور ہم بعد میں میڈیا پر آکر یہ کہہ رہے ہوں گے کہ حکومت نے تو 500مسلح محافظوں کو سپریم کورٹ کی حفاظت پر مامور کردیا تھا؟ ذرا تصور کیجئے اور میرے سوال کا جواب دیجئے کہ اگر ایسا ہوگیا تو ہمارا ٹیکٹیکل رسپانس کیا ہوگا اور سٹرٹیجک رسپانس کیا ہوگا؟ کیا سپریم کورٹ کے محافظ(گارڈز) ریگولر فوجیوں سے زیادہ بہتر طور پر مسلح اور تربیت یافتہ ہیں؟‘‘

وہ وکیل صاحب جذبات میں آکر دلائل کا انبار لگا رہے تھے اور باقی تینوں شرکائے مباحثہ کے پاس اس کا لولا لنگڑا جواب بھی نہیں تھا۔ ہمارے ٹی وی چینلوں کی طرح انڈیا کے بعض چینلوں پر اشتہاری وقفے ضرور ہوتے ہیں لیکن بعض پر بالکل نہیں ہوتے۔ وہ چینل یا تو ابتداء میں دس منٹ تک کمرشل چلا لیتے ہیں یا آخری دس منٹوں میں اشتہاروں کو بھگتاتے ہیں۔۔۔۔ وکیل صاحب کی اس حقیقت پسندانہ گفتگو کے بعد شائد پروگرام کا وقت ختم ہو گیا تھا یا شائد پروڈیوسر نے اینکر کو کہا ہوگا کہ کمرشل کا وقفہ کردو۔

اس ٹاک شو کو دیکھ اور سن کر مجھے ایسے محسوس ہوا کہ بھارت کی ساری سوسائٹی ہی یک قطبی نہیں ہے، بعض معاملات و موضوعات میں کبھی کبھار ’’بائی پولرازم‘‘ کامظاہرہ بھی دیکھنے میں آتا ہے جیسا کہ اس پروگرام میں دیکھا گیا۔

مزید :

کالم -