بینکنگ عدالتوں کی مخدوش چھتیں، ججز اور وکلا ء خوفزدہ

بینکنگ عدالتوں کی مخدوش چھتیں، ججز اور وکلا ء خوفزدہ

  

لاہور(نامہ نگار)فیڈرل کورٹس بلڈنگ میں قائم بینکنگ کی 7عدالتوں میں سہولیات کا فقدان، حکام کی عدم توجہی کے باعث کمروں کی چھتیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،خستہ حال چھتوں کے باعث ججزبھی خوف کے سائے تلے کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ وکلاء بھی عدالتوں میں سماعت کے موقع پر وقت خوف میں مبتلا رہنے لگے ہیں،رہی سہی کسر گزشتہ روزبارش نے پوری کردی ،چھتوں سے پانی ٹپکنے کی وجہ سے ریکارڈ روم میں رکھی اہم دستاویزات بھیگنے کے باعث خراب ہوگئیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے جی پی او کے نزدیک فیڈرل کورٹس بلڈنگ میں بینکنگ کی 7عدالتیں قائم کر رکھی ہیں، وکلاء مدثر چودھری، مرزا حسیب اسامہ ، مجتبی چودھری اورارشاد گجر نے نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس عمارت کی حالت زار اس قدر مخدوش ہے کہ لگتا ہے چھتیں کسی بھی وقت زمین پر آ گریں گی، وکلاء کا مزید کہنا ہے کہ عدالتی عملے کے کمروں میں جاتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے ہیں،بینکنگ کی ان عدالتوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں میں سنجیدہ نہیں ہے ،اگر فوری طور پر عمارت کی مرمت نہ کی گئی تو کوئی بھی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمارت کے عقب میں بنے ریکارڈ روم میں اکثر بارش کا پانی داخل ہو جاتا ہے،اس حوالے سے عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ متعددبار انتظامیہ کو چھتوں کی تعمیر نو کی درخواست کی گئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک امر ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -