پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیار محدود علاقوں میں بڑی تباہی پھیلا سکتے ہیں

پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیار محدود علاقوں میں بڑی تباہی پھیلا سکتے ہیں

  

 لاہور(رپورٹ: محمد نواز سنگرا )اڑی حملہ کے بعد بھارت ایک مرتبہ پھر جنگی جنون میں مبتلا ہو گیا ہے لیکن ہندو بنیا یہ بات بھول چکا ہے کہ بھارت کی عددی فوجی برتری کے باوجود پاکستانی فوج کو اپنی اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں اورجدید ومؤثرہتھیاروں کے باعث بھارت پر فوقیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج ہمیشہ کی طرح پاکستان سے خائف ہے ۔پاک بھارت کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر روز نامہ پاکستان نے مختلف عالمی اداروں کی روپوٹس کی روشنی میں پاکستان اور بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں اعداد و شما راور تفصیلات اکٹھی کی ہیں۔جنگی رسائل کی رپورٹس کے مطابق بھارت کے پاس 13لاکھ25ہزار فوج ہے جبکہ 21لاکھ43ہزار ریزو فوجی ہیں۔پاکستان کے پاس 6لاکھ17ہزارفوج ہے جبکہ 5لاکھ 15ہزار ریزور فوج ہے۔ بھارت کے پاس 2086ائیر کرافٹ جبکہ پاکستان کے پاس 823ائیرکرافٹ ہیں۔بھارت کے پاس 646جبکہ پاکستان کے پاس 306ہیلی کاپٹر ہیں،اٹیک ائیر کرافٹ کی تعداد پاکستان کے پاس 394جبکہ بھارت کے پاس 809ہیں۔بھارت کے پاس 679جبکہ پاکستان کے پاس 204فلائٹ ائیر کرافٹ ہیں۔ٹرینر ائیر کرافٹ بھارت کے پاس 318اور پاکستان کے پاس 170ہیں۔ٹرانسپورٹ ائیر کرافٹ پاکستان کے پاس 261اور بھارت کے پاس 857ہیں۔سروس ایبل ائیر پورٹ پاکستان کے پاس 151اور بھارت کے پاس 346ہیں۔بھارت کی ٹینک سٹرینتھ 6464جبکہ پاکستان کی 2924ہے۔میرین سٹرننھ پاکستان کی 11اور بھارت کی340ہیں۔بھارت کے پاس 7جبکہ پاکستان کے پاس 2پورٹس ہیں۔تباہی پھیلانے والی ہتھیار کی تعداد بھارت کے پاس دس جبکہ پاکستان کے پاس کوئی ڈسٹرائیر نہیں ہے۔پٹرول کرافٹ بھارت کے پاس 135اور پاکستان کے پاس 12ہیں۔زیادہ ٹیکنالوجی اور عددی فوجی برتری کے باوجود بھارتی فوج پاکستانی فوج سے خائف ہے کیونکہ بھارتی فوج کو یقین ہے کہ ایک منظم ،پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے بھری اور جفاکش فوج کے سامنے پسائی ان کا مقدر ہو گی۔مختلف ممالک کے تھنک ٹینک کا یہ بھی کہناہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بھارت سے زیادہ موثرہیں اور پاک بھارت جنگ میں زیادہ نقصان بھارت کا ہو گا جبکہ امریکی تھنک ٹینک کے مطابق 1930تک پاکستان دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی طاقت ہو گا۔اور پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی طاقت ہے جنگی ٹینکوں کے حوالے سے پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی طاقت ہے اورٹینکوں کی تعداد 4000ہے۔پاکستانی ائیر فورس کا کوئی ثانی نہیں ہے جس میں خواتین پائلٹ بھی بھرتی کی گئی ہیں ۔پاکستان کی 10ہزار سے زائدا فواج اقوام متحدہ کی قیام امن کی کوششوں میں شانہ بشانہ ہے جو عرب اور افریقی ممالک میں ملٹری ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ بھارت پاکستان کیخلاف مہم جوئی نہیں کر سکتا،غلطی کی تو طیارے اور ٹینک چلانے والا نہیں ملے گا۔اس حوالے سے سابق مشیر نیشنل کمانڈ اتھارٹی خالد قدوائی کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کیخلاف جارحیت کرنے یا کسی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا،ایسی کسی بھی غلطی کا دشمن ملک کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا کیونکہ پاکستان نہ صرف ایٹمی قوت بلکہ چھوٹے جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک ہے۔ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار محدود علاقے میں تباہی پھیلاتے ہیں ،ان کے اثرات ایک مخصوص علاقے سے باہر نہیں جاتے،پاکستان کے ٹی این ڈبلیوز کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں ۔پاکستان اور بھارت دو ایٹمی ریاستیں ہیں جن کے درمیان جنگ خطے کی تباہی کے سوا کچھ نہیں تاہم اس ساتھ ساتھ گزشتہ دو سال سے عالمی سطح پر پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کا چرچا ہے جن کو ٹیکٹیکل نیو کلیئر ویپنز کہا جا رہا ہے۔یہ چھوٹے درجے کے ہتھیار ہیں جو ایک محدود علاقے میں تباہی پھیلاتے ہیں اور اس کے اثرات مخصوص علاقے سے باہر نہیں جاتے۔ بھارت کی جانب سے کسی جارحیت کی صورت میں پاکستان اگر اس کے کسی فوجی فضائی اڈے کو نشانہ بناتا ہے تو وہاں تباہی ہو گی،اس کے لڑاکا طیارے تو موجود رہیں گے تاہم انھیں اڑانے والا کوئی نہیں ملے گا،اسی طرح کسی توپ خانے کو نشانہ بنایا جائے تو بھارت کے ٹینک اور توپیں تو رہیں گی لیکن انھیں چلانے والا کوئی نہیں ملے ۔ان محدود پیمانے کے ہتھیاروں کے اثرات مخصوص ٹارگٹ سے باہر بھی نہیں جائیں گے۔پاکستان کے ٹی این ڈبلیوز کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں ، ہمارے محدود پیمانے کے ہتھیار بھارت کے خطرے سے نمٹنے کیلئے اور جنگ کو روکنے کے لئے ہیں اس ضمن میں کسی دوسرے ملک کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔بعد میں 30مارچ کو امریکی سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی میں ان ہتھیاروں کے حوالے سے تحفظات کا ظہار کیا گیا تھا۔ مغرب کے تمام تر تحفظات کے باوجود پاکستان ٹی این ڈبلیو ہتھیار بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کرے گا۔

مزید :

صفحہ اول -