بھارتی فوج کا 10کشمیری نوجوانوں کو’’ پاکستانی جنگجو‘‘ قرار دے کر شہید کرنے کا دعوی ٰ

بھارتی فوج کا 10کشمیری نوجوانوں کو’’ پاکستانی جنگجو‘‘ قرار دے کر شہید کرنے ...

  

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این) ہندوستانی فوج نے اڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی ) کے قریب 10کشمیر ی نوجوانوں کو ’’پاکستانی جنگجو ‘‘ قرار دے کر شہید کر دیا ہے ،بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شہید ہونے والے تمام افراد آزاد کشمیر کے راستے سے جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے ،ان کے مارے جانے سے جموں و کشمیر بڑی تباہی سے بچ گیا ہے۔بھارتی نجی چینل ’’ای ٹی وی ‘‘اور’’ زی نیوز ‘‘ کے مطابق بھارتی فوج نے اڑی سیکٹر میں دو روز قبل ہونے والے حملے کے بعدجنگجوؤں کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے 10 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اوڑی سیکٹر میں تعینات فوجی اہلکاروں نے جنگجوؤں کے ایک گروپ کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے سرحد کے اس پار داخل ہوتے ہوئے دیکھا، تاہم جب جنگجوؤں کو للکارا گیا اور انہیں خودسپردگی اختیار کرنے کے لئے کہا گیا، تو انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی، فوجی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر جھڑپ چھڑ گئی جس میں دس جنگجوؤں کو شہید کر دیا گیا۔دوسری طرف ’’زی نیوز ‘‘ نے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اڑی سیکٹر میں پاکستانی در اندازی جاری ہے اور پاکستانی فوج بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحد پار سے گولہ باری کر رہی ہے ،بھارتی ٹی وی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 15 دہشت گرد جنگ بندی کی خلاف ورزی کے دوران ہندوستانی سرحد میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے کہ بھارتی فوج نے ان میں سے 10دہشت گردوں (کشمیریوں)کو مار گرایا (شہیدکر دیا)ہے جبکہ 5مجاہدین کے ساتھ ابھی تک مقابلہ جاری ہے ،اس تازہ جھڑپ میں کئی بھارتی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔دوسری طرف بھارتی ٹی وی ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار سے چھوٹے اور خود کار ہتھیاروں سے بھاری فائرنگ کی ہے،تاہم بھارتی چوکیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آخری اطلاعات ملنے تک آپریشن جاری تھا۔دوسری طرف اے این این کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ٗ شوپیاں پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے طالبہ جاں بحق ٗ پرامن احتجاجی مظاہرین پر بھارتی فورسز کا وحشیانہ تشدد ٗ ایک درجن سے زائد کشمیری زخمی ٗ 74 روز میں شہادتوں کی تعداد 105 تک جا پہنچی ٗ 13 ہزار سے زائد زخمی ٗ ترال میں ایک رہائشی مکان اور ایک سکول نذر آتش کردیاگیا ٗطالبہ کی شہادت اور سکول نذر آتش کرنے پر کشمیری سراپا احتجاج ٗ لوگ کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے باہر نکل آئے ٗ وادی کے مختلف مقامات پر تاحال کرفیو نافذ ٗ انٹرنیٹ اور فون سروس بھی بدستور معطل ۔ تفصیلات کے مطابق شوپیاں کے وہیل چٹ واٹن علاقے میں 7ویں جماعت کی طالبہ جس کی عمر13برس تھی احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے جاں بحق ہوگئی ۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خوشبو بھارتی فوجیوں کی جانب سے پھینکے گئے آنسو گیس کے گولوں سے گھبرا کر بھاگی اور پیلٹ گن کی زد میں آگئی تاہم پولیس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبہ کی موت جس جگہ واقع ہوئی وہ جائے وقوع سے7کلو میٹر دور ہے۔خوشبو کا والد تل دوزی کا کام کرتا ہے جبکہ خوشبو جان اپنی 4بہنوں میں سے سب سے چھوٹی تھی اور اس کا ایک بھائی ہے۔ طالبہ کی شہادت کی خبر سنتے ہی لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔

مزید :

صفحہ اول -