بھارتی فوج کی طرف چھوٹے حملہ کی تجویز اور پاک فوج کا کرارا جواب

بھارتی فوج کی طرف چھوٹے حملہ کی تجویز اور پاک فوج کا کرارا جواب

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

بھارتی حکومت کی طرف سے اڑی (بارہ مولا) کے فوجی کیمپ پر مبینہ حملے کے حوالے سے جورویہ اختیار کیاگیا اس سے اس کا تعصب پوری طرح ظاہر ہو رہا ہے اور تجزیہ نگاروں کی یہ رائے درست معلوم ہو رہی ہے کہ وزیر اعظم مودی دراصل مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کے باوجود عوام کی طرف سے تحریک جاری رکھنے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں اور اسی طرح بھارت کے فوجی بھی خفت مٹانے کے لئے پاکستان پر چھوٹے پیمانے پر حملے کی تجویز دے چکے ہیں، سابق فوجی تو باقاعدہ حملہ کرکے سبق سکھانے کی بات کرتے ہیں، انہی خیالات اور بیانات کی وجہ سے جی،ایچ،کیو راولپنڈی میں ہونے والی معمول کی کورکمانڈرز میٹنگ میں ان حالات پر بھی غور کیا گیا اور واضح کردیا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کسی کو غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ہم اپنی خود مختاری اور سلامتی کا تحفظ کرنا جانتے ہیں، بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کی جماعت تعصب کے حوالے سے پرانا ریکارڈ رکھتی ہے اور بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر ڈوول نے تو کشمیریوں کو دھمکی بھی دی اور کسی قسم کی رعائت دینے سے انکار کیا ہے، یوں بھارتی زعماد صورت حال کو انتہاکی طرف لے جارہے ہیں، جس کی وجہ بھی وزیر اعظم پاکستان کا جنرل اسمبلی سے خطاب اور تنازعہ کشمیر کو عالمی راہنماؤں کے سامنے پیش کرنا ہے، بھارت کے یہ زعماء گھبراہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور میڈیا سمیت تمام توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کردیا ہے۔

وزیر اعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا خصوصی طور پر ذکر کریں گے کہ وہاں ایک سوچار افرد شہید ہو چکے، سینکڑوں زخمی ہیں ان میں سے بیسیوں نا بینا ہوگئے اور کئی معذور بھی ہوئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ممنوعہ اسلحہ استعمال ہو رہا ہے، اس پر عالمی ضمیر سویا ہوا ہے وزیر اعظم نے اپنے دورہ کے دوران اسی ضمیر کو جگانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

بھارت کی طرف سے فوری طور پر پاکستان پر الزام لگانے اور پھر اسے دہرائے جانے کی مسلسل کوشش اور دھمکیوں نے ماحول کو اس حد تک خراب کردیا کہ پاک بھارت دوستی والے بھی پریشان ہیں، بھارت میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس جواب 30ستمبر کے لئے طے ہوئی تھی، پھر ملتوی کردی گئی ہے، ایسا چوتھی بار ہوا کہ کانفرنس کی تاریخ مقرر ہوئی اور اسی قسم کے حالات کے باعث ملتوی ہوگئی ایک بار تو ویزے بھی لگ چکے تھے۔

اس سلسلے میں جو بات ہمیں کھٹک رہی ہے وہ یہ کہ پاکستان نے جو ثبوت جمع کر کے بھارتی مداخلت کے پیش کئے تھے وہ اب پھر کیوں سامنے نہیں لائے جارہے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے سامنے یہ دب کیوں گئے حالانکہ ’’را‘‘کے اعلیٰ درجہ کے ایجنٹ کل بھوشن یادیو کے انکشافات کے علاوہ سوات آپریشن کے دوران مارے جانے والی دہشت گردوں میں بھارتی ایجنسی کے کارندوں کی موجودگی بھی ثابت ہوئی تھی۔ بہتر ہوتا کہ بھارتی پراپیگنڈے کے جواب میں یہ سب ثبوت بھی دنیا کے سامنے لائے جاتے کہ بھارت کے اپنے چہرے سے بھی نقاب اترتی۔

بہر حال بھارتی رویہ خالی از علت نہیں، مودی اور ان کی جماعت اور ان کے ساتھیوں سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے ، ایسے میں ہمیں اپنی صفوں کو درست رکھنا ہوگا کہ بھارت کی طرف سے کسی شرارت یا ایڈونچر کا جواب قومی وحدت سے دیا جاسکے، ہمیں یاد ہے کہ جب 6ستمبر 1965ء کو بھارت نے بین الاقوامی سرحد پر حملہ کیا تو اگلے ہی روز ملک کی ساری حزب اختلاف اس وقت کے صدر ایوب خان سے ازخود ملاقات کرنے چلی گئی اور ان کو غیر مشروط حمائت کا یقین دلایا حالانکہ ایوب خان دھاندلی سے مادر ملت متحرمہ فاطمہ جناح کو ہرا کر صدر بنے تھے، اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو جب شملہ گئے تو جانے سے قبل پوری حزب اختلاف سے ملے اور حزب اختلاف نے قومی امور پر ان کو اپنی حمائت کا یقین دلایا تھا، آج کی صورت حال بھی یہ ہے کہ پوری قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرے، متحدہ اپوزیشن کو بھی اجلاس منعقد کر کے قومی اتفاق رائے کا اعلان کردینا چاہیے، اور جو راہنما ملک میں تحریکوں کی باتیں کرتے ہیں ان کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا یہ وقت آپس میں سر بھٹول کا نہیں ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاک بھارت دوستی کے دعویدار حضرات کو بھی بھارتی عمل پر بات کرنا چاہیے یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے پٹرول والے ذخیرہ میں آگ لگے تو اسے دہشت گردی بنا کر پاکستان پر الزام دھرا جائے اور پھرمہم جوئی شروع کردی جائے، اب تو خود بھارتی میڈیا بھی سوال اٹھا رہا ہے، ان حالات میں ان حضرات کو سامنے آنا چاہیے جو پاک بھارت دوستی کے علمبردار ہیں کہ بھارتی حکومت کا رویہ اور مقبوضہ کشمیر میں عمل(ظلم) انسانیت کی توہین اور دوستی کے پرچار اور اصولوں کے خلاف ہے، یوں بھی دونوں ممالک ایٹمی صلاحیت کے مالک ہیں، اس لئے کسی بڑے سانحہ سے بچنا ہی عقل مندی ہوگی سب کو جوش نہیں ہوش سے کام لینا ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -