بھارت کا خوں خوار میڈیا

بھارت کا خوں خوار میڈیا
 بھارت کا خوں خوار میڈیا

  

ہمارے بعض دوست برہمی کا اظہار کرتے ہیں کہ بھارت کا میڈیا زیادہ محب وطن ہے، وہ اپنے نظریاتی اور جغرافیائی مفادات کی زیادہ بہتر بلکہ جارحانہ انداز میں ترجمانی اور حفاظت کرتا ہے۔ وہ غصے میں اپنے مقبول ترین چینلوں کو غدار اور را کا ایجنٹ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، میں اس امر سے تو اتفاق کرتا ہوں کہ جس قسم کی گالی بھارت کے الیکٹرانک میڈیا پر پاکستان، پاکستانی دفاعی اداروں اور عوام کے لئے بکی جاتی ہے ویسی جوابی گالیاں ہماری طرف سے نہیں دی جاتیں، پاکستان کامیڈیا بہت حد تک دلیل اور منطق کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ تمام تر اختلافی نکات زیر بحث لانے کے بعدیہی نتیجہ نکالتا ہے کہ معاملات کو جنگ اور جارحیت کی بجائے امن اور مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے مگر بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی تان پاکستان کو سبق سکھانے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ اگر ہمارا ایک چینل امن کی آشا کو لے کر آ گے چلتا ہے تو دوسرا بھی اس کا مقابلہ یا اس کی نفی کرتے ہوئے امن سے انکار نہیں کرتابلکہ ’ امن برابری کے ساتھ‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔

یہ سو فیصد درست نشاندہی ہے کہ بھارتی میڈیا پر انتہا پسندوں پر قبضہ ہے، یہ گھوڑے اور گاڑی والی مثال بنی ہوئی ہے، کیا بھارتی میڈیا انتہا پسند ہے جس کی وجہ سے بھارتی عوام میں بھی انتہا پسندی در آئی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی جماعتوں پر اعتماد کرنے لگے ہیں یا بھارتی عوام ہی بنیادی طور پر انتہا پسند ہیں اور بھارتی میڈیا ان کی جبلی اور فطری انتہاپسندی سے ڈرتے ہوئے ان کی جذباتی ضروریات کو پور ا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے پڑھے لکھے بھارتیوں کو زیادہ ہذیان بکتے اور تھوک پھینکتے ہوئے دیکھا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو بھارتیوں کے اسی روئیے کی بنیاد پر آج بھی پاکستان کے قیام کا مطالبہ اور تحریک سو فیصد درست نظر آتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بھارتی میڈیا بھارتی عوام کے گھٹیا جنونی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کرتا ہے تو پھر وہ جلتی پر تیل ڈالتا ہے۔ یہی خوف تھا کہ بھارتی میڈیا کے ایک بہت ہی محدود حصے نے بہت ہی محتاط انداز میں بارہ مولا ضلعے میں اُڑی کے مقام پر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے سستے سکرپٹ والے ڈرامے کو بے نقاب کیا۔اس نے ڈٹ کر یاکھل کر حق سچ بات نہیں بتائی اوروہ بھی فوجی کیمپ میںآئیل ڈپو پر لگنے والی آگ کو جنونی ہو کر کاروباری اورسیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتا رہا۔ یہ نشاندہی بجاکہ ہماری فوجی قیادت وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے بھارت کے ساتھ دوستی کی خواہش کو درست نہیں سمجھتی مگرکیا بھارت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو نظرانداز کر دیا جانا چاہئے، بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے بھی عوام اور حکومتوں کو ڈرانے کے لئے چین اور پاکستان کی صورت میں دو بت تراش رکھے ہیں۔ بھارتی فوج ، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نعرے کا بھرم رکھنے کے لئے، آمریت قائم نہیں کرتی مگر اس کی بدترین آمریت اسی طرح قائم ہے جس طرح پینٹاگون کی امریکی حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں پر قائم ہے۔بھارتی فوج کا اصل مسئلہ تو اس بھاری بھرکم بجٹ کو اپنے پیٹ میں ڈالناہے ،جس کی وجہ سے ہندوستان کے ایک ارب سے زائد غریب روٹی، کپڑے اور مکان جیسی سہولتوں سے آج بھی محروم ہیں،بھارت اپنے کسانوں کی فلاح و بہبود کا بہت ڈھنڈورا پیٹتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ پچھلے دس سے پندرہ برسوں میں ا س کے لاکھوں کسان خود کشی کر چکے ، خدا کا شکر کہ تمام تر تنقید کے باوجود پاکستان کے کسانوں کو بھارتی کسانوں جیسے تناؤ اور دباو کا سامنا نہیں، بھارتی کسان قرضوں اور بیٹیوں کی شادیوں کے معاملات پر ہر روز زکیڑے مار دو ا ئیں پی کر مر رہے ہیں۔

یہاں بات میڈیا کی ہور ہی ہے اور بھارتی میڈیا کارپوریٹ کلچر کے تحت چل رہا ہے، وہاں بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنے کاروباری اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لئے میڈیا ہاؤسز قائم کر رکھے ہیں اور وہ خبروں تجزیوں کو اسی طرح فروخت کرتے ہیں جس طرح ٹوتھ پیسٹ یا موبائیل فون فروخت ہوتے ہیں، وہ لوگوں کو حقیقت بتانے کی بجائے وہ سب کچھ بتاتے ہیں، جو ان کے کانوں کو سننا بھلا اور آنکھوں کو دیکھنا اچھا لگتا ہے ، میں نے پہلے کہا کہ بھارتی عوام انتہا پسند ہیں، وہ بطور معاشرہ اپنے مخالفوں کو جینے کا حق نہیں دیتے ، جب میڈیا اس گھن چکر کا حصہ بنتا ہے تو وہ عوام کی طرف سے تو داد وصول کرتا ہے مگر عقل اور منطق کے ساتھ ساتھ وہ بھارت اور خطے کے حقیقی مفاد کو بھی دفن کردیتا ہے جو یقینی طور پر امن میں موجود ہے۔ پھر اس دوڑ میں بھارتی وزراء اور سیاستدان بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ ہمارے غصے سے بھرے دوست تجویز کرتے ہیں کہ ہمارے وزرا ء کو بدزبانی اوربے لگامی میں ان کا مقابلہ ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس مقابلے کو جیتنا بھی چاہئے مگر میرا خیال ہے کہ ہمیں علم، انصا ف اور منطق میں آگے بڑھنا چاہئے اور اپنا پورا زور اسی طرف لگانا چاہیے۔ اسے بے غیرتی اور بزدلی قرار دیا جا سکتا ہے کہ مکے کا جواب منطق اور دلیل نہیں ہوتی، مگرمیرا سوال یہ ہے کہ دو جاہلوں کے درمیان مکوں کی مارا ماری کا اختتام کہاں ہوسکتا ہے؟

بھارت کے کارپوریٹ میڈیا کا دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھارت کو حقیقت میں ایک جمہوریت نہیں سمجھتا، وہ جانتا ہے کہ ا س کے معاشرے میں جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کا اصول ہی لاگو ہے اور لاٹھی بھی سیاستدانوں کی بجائے فوج کے ہاتھ میں ہی ہے۔ فوجی جنتا کا اشارہ ملتے ہی بھارت کا جنونی میڈیا غرانے لگتا ہے،اور کاٹنے کی صلاح دینے لگتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ، میڈیا اور عوام کے ساتھ سیاستدان کیسے باہر رہ سکتے ہیں اور یوں ان کاراستہ کولہو کے کسی گھاٹ پر ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہوئے بیلوں کی طرح ہوجاتا ہے، سب ایک دوسرے پچھواڑے کی بُو کا پیچھا کرتے اور نفرت کا زہریلاپانی نکال نکال اپنی دھرتی کی آبیاری کرتے ہیں، اس پانی سے جو فصلیں پیدا ہوتی ہیں وہ بھی زہریلی ہوتی ہیں، جو زمین سے اڑ کر بادلوں کی صورت برستا ہے وہ پانی بھی زہر سے بھرا ہوتا ہے، وہ ہر طرف زہر ہی زہر بھر دیتے ہیں، وہ ابھی تک بیسویں صدی میں رہتے ہیں جہاں جنگوں کو مسائل کا حل سمجھاجاتا ہے، وہ1971ء کی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کے دولخت ہونے کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں اور یہ گمراہ کن سوچ ان کے جنون اور وحشت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ بھارت خود کو امریکہ نہ سمجھے جو اپنی سرزمین سے ہزاروں میل دور عراق، افغانستان اور دیگر ممالک میں محاذ کھولتا ہے۔وہ جان لے، اس جنگی جنون کے نتیجے میں پاکستان کا جو نقصان ہو گا وہ اپنی جگہ مگراس کی اپنی دھرتی بھی زخموں، خون، موت ،بربادی اور تباہ کاری سے بھر جائے گی۔

بھارتی اسٹیبلشمنٹ، عوام،میڈیا اور سیاستدان ایک سویٹر میں مختلف رنگوں کی اون کی طرح آپس میں بُنے اور گُندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اسے مزید بد نماہی نہیں بلکہ پہننے اور اوڑھنے کے کام کو مشکل بناتے ہیں۔ اگر نریندرمودی یااٹل بہاری واجپائی کی صورت، کوئی ایک دھاگہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے تو ڈرتے ہیں کہ ان کا پورا سویٹر ہی نہ ادھڑجائے۔ وہ بہت تیزی کے ساتھ اسے اپنے اندرگانٹھ لگا کر جوڑ لیتے ہیں۔ خدا سے دعا کرنی چاہئے کہ کوئی بھی دشمن نہ ہو اگر ہو تو ظرف اور عقل سے عاری نہ ہو۔ ہمیں ایک ایسے گھٹیا معاشرے کی دشمنی کا سامنا ہے جس کا کوئی ایک حصہ بھی آنے والے کل کی فکر کی روشنی سے روشن نہیں حتیٰ کہ چمکتا دمکتا کارپوریٹ میڈیا بھی وقتی مالی اور تجارتی مفادات کی خاطر اپنا منہ کالا کئے پھرتا ہے۔ صحافت جب دکانداروں کے ہاتھ میں آتی ہے تووہ سمجھتے ہیں کہ ملک بھی کسی دکان کی طرح ہے، اسے آگ لگا دی جائے تو انشورنش کے پیسوں سے نقصان کو نفعے میں بدلا جا سکتا ہے۔

مزید :

کالم -