شام میں جنگ بندی ختم، امدادی قافلے پر فضائی حملہ، 32ہلاک

شام میں جنگ بندی ختم، امدادی قافلے پر فضائی حملہ، 32ہلاک

  

حلب/واشنگٹن/لندن(این این آئی)شامی فوج کی جانب سے ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد ہی حلب میں ایک امدادی قافلے پر فضائی حملہ کیا گیا ۔شامی ریڈ کریسٹ کا قافلہ اورم الکبریٰ کے علاقے میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے امداد لے کر جا رہا تھا،حملے میں 32افرادہلاک ہوگئے ،حملے میں اقوام متحدہ کے امدادی کارکن بھی ز د میں آئے،فضائی حملوں اور شیلنگ کے ذریعے سوکاری اور امریریا نامی دو مشرقی اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔حکومت کی حمایت سے کیے جانے والے ان فضائی حملوں میں حمص، ہما اور ادلب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ادھراقوامِ متحدہ کے ترجمان نے کہاہے کہ 18 سے 31 امدادی ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم انھوں نے یہ تصدیق نہیں کی کہ یہ فضائی حملہ تھا،بعدازاں شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن ڈی مستورہ نے کہاہے کہ یہ انتہائی ظلم ہے یہ امدادی قافلہ ایک طویل عمل کے نتیجے میں جا رہا تھا، اس کے ذریعے علاقے میں محصور آبادی کو امداد پہنچانے کی اجازت لی گئی تھی اور اس کے لیے تیاریاں کی گئی تھیں۔دوسری جانب امریکا نے کہاہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے میں توسیع کے لیے کام کر رہا تھا مگر اب روس سے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے اورفضائی بمباری کے آنے والے بیان کی وضاحت کرے ،قبل ازیں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اچھا ہوتا اگر وہ اس میں پہل نہ کرتے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امدادی قافلہ حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ دیہی علاقوں میں جا رہا تھا۔ ایک غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حملے میں 32 افراد ہلاک ہوئے ۔فضائی حملوں اور شیلنگ کے ذریعے سوکاری اور امریریا نامی دو مشرقی اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔حکومت کی حمایت سے کیے جانے والے ان فضائی حملوں میں حمص، ہما اور ادلب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ اس سے قبل شامی فوج نے کہا تھا کہ اس کے سات روزہ’خاموش حکومت‘ کی مدت پوری ہو گئی ہے۔باغی گروہ جسے شامی فوج نے دہشت گرد کہہ کر پکارا تھا کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی کسی بھی شق پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 18 سے 31 امدادی ٹرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم انھوں نے یہ تصدیق نہیں کی کہ یہ فضائی حملہ تھا۔شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹیفن ڈی مستورہ کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی ظلم ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کو بھجوائی گئی ایک ای میل میں ان کا کہنا تھاکہ یہ امدادی قافلہ ایک طویل عمل کے نتیجے میں جا رہا تھا، اس کے ذریعے علاقے میں محصور آبادی کو امداد پہنچانے کی اجازت لی گئی تھی اور اس کے لیے تیاریاں کی گئی تھیں۔امریکہ جس نے روس کے ساتھ مل کر جنگ بندی کا یہ معاہدہ کیا تھا، نے کہا کہ وہ اس معاہدے میں توسیع کے لیے کام کر رہا تھا مگر اب امریکہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب سے آنے والے بیان کی وضاحت کرے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہاکہ ہمارا انتظام روس کے ساتھ ہے جو کہ شامی حکومت کی فرمانبرداری کا ذمہ دار ہے، ہم روس سے وضاحت کی توقع کرتے ہیں۔ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان پر تنقید کی اور کہا ’یہ اچھا ہوتا اگر وہ اس میں پہل نہ کرتے۔روسی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل سرگئی ردسکوئی نے کہا تھا کہ باغیوں کی جانب سے فائر بندی کا احترام نہیں کیا جا رہا، ہم شامی فوج کی جانب سے اس کے یکطرفہ احترام کو بے معنی سمجھتے ہیں۔اس جنگ بندی میں محصور شامیوں تک امداد پہنچانا بھی شامل تھا تاہم پیر تک بہت سی امداد ابھی متاثرہ علاقوں تک پہنچنی باقی تھی۔باغیوں کے زیرِ قبضہ مشرقی حلب جہاں دو لاکھ 75 ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں میں 20 امدادی گاڑیوں کو پہنچنا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -