صوبائی دارالحکومت ، سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ہولناک اضافہ ، 7ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے

صوبائی دارالحکومت ، سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ہولناک اضافہ ، 7ہزار سے زائد ...

  

 لاہور(وقائع نگار)صوبائی دارالحکومت میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے ،2015اور 2016میں یومیہ 70وارداتیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 2014میں اسٹریٹ کرائم کی یومیہ 40وارداتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق شہر میں رواں سال کے دوران 7ہزار سے زائدافراد کو سٹریٹ کرمنلز نے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء اور سواریوں سے محروم کر دیا۔دوسری جانب سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لئے بنائی جانے والی پولیس کی جدید ڈولفن فورس نے بھی جرائم پیشہ افراد سے ڈیل کرنا شروع کردیا ہے۔ ڈولفن اہلکاروں شہباز سلیم، محمد افضل، عامر اور محمد شہباز نے چند ہفتے قبل منشیات فروش کے قبضہ سے ڈیڑھ کلومنشیات برآمد کی تھی۔ڈولفن اہلکاروں نے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے جیل بھجوانے کی بجائے 90ہزار روپے رشوت وصول کرنے کی ڈیل کی۔ چند روز بعد ملزم کے ساتھیوں نے اہلکاروں کے خلاف پولیس حکام کو شکایت کردی جس پر چاروں ڈولفن اہلکاروں کو معطل کردیا گیا اور انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس سٹریٹ کرائم کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ لاہور میں سٹریٹ کرائم میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے ، آئے روز عوام چوروں ، ڈکیتوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں لوٹے اور ظلم و تشد د کا شکار ہو رہے ہیں لیکن انتظامیہ نہ ان جرائم پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھاتی ہے اور نہ ہی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے جس سے مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے ہیں۔دوسری جانب حکومت بھی عوامی مسائل کی بجائے میٹرو اور اورنج لائن ٹرین جیسے پروجیکٹس میں دلچسپی رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی ، لوڈشیڈنگ اور پینے کے صاف پانی کی وجہ سے پریشان ہیں اور اس پر مستزاد جرائم میں اضافہ ہے۔

جس کی وجہ سے غریب عوام ہر جانب سے پس رہے ہیں۔شہریوں نے پولیس حکام اور پنجاب حکومت سے اپیل کی کہ لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کراچی کی طرز پر کریک ڈاؤن کیا جائے اور سٹریٹ کریمنلز کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -