پاناما لیکس پر ثبوت ہیں نہ تحقیقات کررہے ہیں: چیئرمین نیب، ہنڈی اور حوالے سے رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ نہیں ہوتا: گورنر سٹیٹ بینک

پاناما لیکس پر ثبوت ہیں نہ تحقیقات کررہے ہیں: چیئرمین نیب، ہنڈی اور حوالے سے ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاناما لیکس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہنگامہ خیز رہا مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا، رول 203 تحقیقات میں آڑے آ گیا۔ سیکرٹری قانون، نیب اور ایف بی آر سمیت تمام سرکاری اداروں کے بڑے نو ایکشن کی گردان کرتے رہے۔ پاناما کا ہنگامہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی پہنچ گیا۔ نیب، ایف بی آر کے چیئرمین، گورنر سٹیٹ بینک اور ڈی جی ایف آئی اے حاضر ہوئے۔ بحث و تکرار اور گرما گرمی بھی رہی مگر نتیجہ صفر رہا۔چیئرمین نیب نے صاف بتا دیا کہ احتساب کا سب سے بڑا ادارہ پاناما لیکس کی تحقیقات کر رہا ہے نہ کرے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کچھ آف شور کمپنیز ہولڈرز کو نوٹس بھیجنے کا کارنامہ گنوایا لیکن منی لانڈرنگ کو اپنے بس سے باہر بتایا۔ ڈی جی ایف آئی اے اور گورنر سٹیٹ بینک نے بھی قانون کی آڑ لے کر جان بچا لی۔ گورنر سٹیٹ بینک اشرف وتھرا نے کہاہے کہ سٹیٹ بینک تحقیقاتی ایجنسی نہیں ہے ،ہنڈی اور حوالہ بزنس ہمارے بس سے باہرہے لیکن مشکوک ٹرانزیکشن پر نظر رکھتے ہیں۔غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک رقوم منتقلی کا ریکارڈ نہیں ہوتا ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اداروں کو پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے ایک ماہ کا وقت دے دیا ہے۔پی اے سی ممبر پی ٹی آئی کے عارف علوی نے کہا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری نیب کی ہے لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کررہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایک ماہ بعد اگلے ایکشن کا تعین کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے اس لیے مزید ایک ماہ کا وقت دیا جائے ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاناما پر تحقیقات کیلئے اداروں کو مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا۔ چیئرمین پی اے سی خورشید شاہ نے اداروں کے سربراہان سے کہا کہ ایک ماہ بعد پیشرفت سے آگاہ کریں، ہم مزید معاملات لائیں گے۔اجلاس میں اس وقت تلخی پیدا ہوئی جب شیخ رشید اور میاں منان میں توتکار ہو گئی۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ اس قدر ناراض ہوئے کہ اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔شیخ روحیل اصغر نے اجلاس کا ماحول بہتر کرنے کے لئے چٹکلا چھوڑا کہ ایان علی بھی تو منی لانڈرنگ کر رہی تھی اس پر کس کی نظر تھی۔ چودھری جنید نے گرہ لگائی کہ نظر ایان پر نہیں اس کے سرمائے پر رکھنی تھی۔

پی اے سی

مزید :

صفحہ آخر -