ہماری زبان نہ کھلوائیں، نیب پسند و نا پسند کی بنیاد پر گرفتاریاں کرتا ہے: سپریم کورٹ

ہماری زبان نہ کھلوائیں، نیب پسند و نا پسند کی بنیاد پر گرفتاریاں کرتا ہے: ...

  

اسلام آباد( اے این این )سپریم کورٹ میں نجی بینک سے قرضہ اجرا میں فراڈ سے متعلق کیس کی سماعت ٗ عدالت نے ملزم محمود احمد زبیری کی ایک کروڑ روپے مالیت کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو پسند اور ناپسند کی بنیاد پر گرفتاریاں کرتا ہے ٗ حال یہ ہے کہ مطلوب ملزم نیب کے دفتر کا چکر لگا کر واپس چلا جاتا ہے ، ایک ملزم گرفتار کر کے دیگر کے خود آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ منگل کو سپریم کورٹ میں نجی بینک سے قرضہ اجرا میں فراڈ سے متعلق کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کا موکل محمود زبیری 44 ماہ سے جیل میں ہے ، فراڈ کر کے قرضہ لینے والے ملزمان اختیار حسین اور ناصر عزیز مفرور ہیں ، محمود زبیری کی ضمانت منظور کی جائے ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے صرف ایک ملزم کو پکڑ رکھا ہے، باقی کھلے گھوم رہے ہیں ، کیا نیب انتظار کر رہا ہے کہ باقی ملزم خود چل کر آئیں تو گرفتار کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب پسند و ناپسند کی بنیاد پر گرفتاریاں کرتا ہے، جس کو دل کرتا ہے جیل میں ڈال دیتا ہے ، جہاں ہاتھ نہیں ڈالنا ہوتا وہاں کچھ نہیں کرتا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب میں کیا ہوتا ہے ہماری زبان نہ کھلوائیں ، حالت یہ ہے کہ مطلوب ملزم نیب دفتر کا چکر لگا کر واپس چلا جاتا ہے ۔ عدالت نے ملزم محمود احمد زبیری کی ایک کروڑ روپے مالیت کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ۔

مزید :

صفحہ آخر -