کشمیر کنٹرول لائن پر حالات بہت خراب ہوسکتے ہیں، پاکستان کی دفاعی تیاریاں مضبوط ہونی چاہئیں

کشمیر کنٹرول لائن پر حالات بہت خراب ہوسکتے ہیں، پاکستان کی دفاعی تیاریاں ...

  

لاہور (پاکستان رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں اُڑی کے مقام پر بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد بھارت کشمیر کی کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی سے صورتحال کو خراب کرسکتا ہے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے اندر کشمیریوں کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم سے دنیا کی توجہ کو ہٹاسکے۔ پاکستان کو بدتر صورتحال کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سیکٹر میں باقاعدہ جنگ کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے چار سابق سفیروں نے اپنے ایک مشترکہ مضمون میں کیا ہے ان میں انعام الحق، ریاض حسین کھوکھر، ریاض محمد خان اور محمود درانی شامل ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان، چین اور اسلامی ملکوں کی حمایت پر انحصار کرسکتا ہے لیکن بہت کچھ انحصار اپنی دفاعی تیاریوں اور سفارتی مہارت پر ہے۔ ہمیں ایسی پالیسی بنانی چاہئے جس سے خطرات کم ہوں اور کشمیریوں کو بھی یہ پیغام نہ جائے کہ انہیں نظرانداز یا فراموش کیا جا رہا ہے۔ ہمیں کابل اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات درست کرنے چاہئیں جو اس وقت بہت نچلی سطح تک چلے گئے ہیں۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں اسے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یا اب تک کرنا پڑ رہا ہے اس کی ذمہ داری پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے حالانکہ امریکہ عراق اور افغانستان میں غلط پالیسی فیصلے کرتا رہا۔ کابل اور واشنگٹن دونوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں دینی مدارس اب تک طالبان کی بغاوت کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ہم نے نیک نیتی کے ساتھ جو کوششیں کیں اس کی وجہ سے ہمیں طالبان کا ساتھی سمجھا گیا ہمیں اپنی طالبان پالیسی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ واضح پالیسی موقف اپنالینا چاہئے کہ پاکستان طالبان قیادت کی کوئی بھی ذمے داری کیسی حالت میں نہیں لے سکتا اور مصالحت کیلئے افغان حکومت یا وہاں کے کوئی گروپ اگر طالبان کے ساتھ براہ راست رابطہ کرتے ہیں تو ہم ہم اس کا خیر مقدم کریں گے تاہم اس کے باوجود اگر خاص طور پر اس مقصد کیلئے کوئی درخواست کی جائے تو پاکستان کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنی سرزمین کو افغانستان کے اندر کارروائیوں کیلئے کسی صورت استعمال نہ ہونے دیں ہم پر جو یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم ’’اچھے اور برے طالبان‘‘ میں فرق کرتے ہیں ہمیں اس تاثر کو ختم کرانے میں کردار ادا کرنا چاہئے اور اگر وزیراعظم جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں اس کا ذکر کردیں تو یہ اچھا رہے گا۔ حقانی گروپ کو پاکستان کی میزبانی کا غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ طالبان کے ساتھ ہمارے تعلق کی وجہ سے ہمارے عالمی تصور کو دھچکا لگا ہے۔ ہمیں بھارت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کرنا چاہئے تاہم مذاکرات کے عمل میں کشمیری رہنماؤں کو بھی شریک ہونا چاہئے۔ جس سے انہیں احساس ہو کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر رہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -