کرپشن کے مقدمات میں فریقین کے مابین سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: مظفر علی رانجھا

کرپشن کے مقدمات میں فریقین کے مابین سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: مظفر علی رانجھا

  

لاہور(سپیشل رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئر (ریٹائرڈ) مظفر علی رانجھا نے کہا ہے کہ کرپش کے مقدمات میں فریقین کے مابین سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ اگر اپنے بیان سے منحرف ہو جائے تب بھی شکایت کنندہ کے صرف بیان پر مالی بدعنوانی میں ملوث سرکاری ملازم کو معافی کیسے دی جاسکتی ہے ؟انہوں نے کہا کہ اگر کسی سرکای ملازم کے خلاف مالی بدعنوانی کے ٹھوس ثبوت موجود ہوں توکسی نوعیت کے بیان حلفی ، نیاں یا قسم کا سہار الے کر اسے بے گناہ کیسے قرار دیا جاسکتاہے؟بریگیڈئر (ر) مظفر علی رانجھا نے کہا کہ محکمہ اینٹی کرپشن سرکاری ملازمین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے نہیں بلکہ معاشرے اور نظام سے مالی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بنایا گیا ہے اس لئے سرکاری ملازمین کوبلیک میل کرنے والے پیشہ ور اورعادی شکایت کنندگان کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور کرپشن کی درخواست دینے کے بعد ملزمان سے سمجھوتہ کرنے والے شکایت کنندگان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔ان امور کا فیصلہ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئر (ر) مظفر علی رانجھاکی صدارت میں ریجنل ڈائریکٹرزکے ماہانہ اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں ریجنل ڈائریکٹرز کے علاوہ ایڈیشنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ندیم سرور اور تمام شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران زیر التوا ء انکوائریوں میں سے 41فیصد انکوائریاں مکمل ہو چکی ہیں اور71مقدمات کے چالان اینٹی کرپشن کورٹس بھجوائے گئے ہیں ۔گذشتہ ایک ماہ کے دوران 23اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کرپشن کے مختلف مقدمات میں ملوث 149ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیاہے ۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن ندیم سرورنے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے 21میں سے 9مقدمات نمٹادیئے گئے ہیں ۔ڈی جی اینٹی کرپشن نے ایڈیشنل ڈی جی کو ہدایت کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کے معاملات کی خود نگرانی کریں اور31اکتوبر تک بقایا مقدمات بھی نمٹ دئیے جائیں ۔ڈی جی اینٹی کرپشن نے پنجاب بھر میں ٹیکنیکل انکوائریاں 31اکتوبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی اور اس ضمن میں ٹیکنیکل ونگ میں خالی اسامیوں پر فوری طور پر محنتی اورپرعزم افسران تعینات کرنے کی ہدایت کی ۔ڈی جی اینٹی کرپشن نے ریجنل ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ عوامی خدمت کے جن محکموں کے بارے میں لوگوں کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دینے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں ان کے معاملات گہری نظر اوربے رحم انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے اس ضمن میں انہوں عوامی خدمت کے چار محکموں کی جانب توجہ مبذول کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔

مظفر علی رانجھا

مزید :

صفحہ آخر -