نیشنل ایکشن پلان اور پنجاب

نیشنل ایکشن پلان اور پنجاب
نیشنل ایکشن پلان اور پنجاب

  

اس وقت ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ جنگ کے بادل ہیں۔ دوسری طرف ملک کے اندر بھی سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ جہاں سرحدوں پر امن ایک مسئلہ ہے۔وہاں ملک کے اندر بھی امن ایک مسئلہ ہے۔ جب سرحدوں پر امن نہ ہو تو ملک میں امن کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ جیسے جیسے بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھے گی۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پاکستان میں کارروائیاں بڑھیں گی۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بھارت سرحدوں پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان میں اپنے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تیز کرے گا۔ اس لئے بھارت کے اس وار سے نبٹنے کے لئے ملک کے کونے کونے میں نیشل ایکشن پلان پر یکسوئی سے عملدرآمد لازمی ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار اطمینان بخش نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ حکومت پنجاب نیشنل ایکشن پلان کو پوری طرح لاگو کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کی وجہ سے پنجاب میں انٹرنل سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے اعلیٰ سطحی سیاسی اتحادبنا ہے۔ پنجاب میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی بات چیت اور تعلقات سے حالات بہتر بنائے گئے ہیں۔ علماء، میڈیا سول و پولیس ایڈمنسٹریشن اور عدلیہ کے رویہ میں تبدیلی آئی ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پنجاب کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی Counter Terrorism Force بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ ایک ہزار پانچ سو Corporals پر مشتمل اس فورس میں بھرتی کے لئے میرٹ اور اہلیت کے کڑے اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ وطن عزیز کو درپیش دہشت گردی کے خطرے سے موثر طریقے سے نبردآزما ہونے کے لئے ایک ایسی فورس کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل تھا جو انٹیلی جنس معلومات کے حصول، خصوصی آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا قلع قمع کر سکیں۔ یہ ادارہ دہشت گردی کی تمام اقسام بشمول فرقہ واریت اور شدت پسندی کے خاتمے کے لئے کام کر رہا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت پنجاب کی طرف سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھائے گئے فوری اقدامات کے نتیجے میں 5ستمبر 2016ء تک موثر اقدامات کرتے ہوئے 97ہزار 608 مقدمات درج کئے گئے جبکہ نفرت انگیز تقاریر، وال چاکنگ، اسلحہ کی نمائش اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ 5ہزار 131 افراد کو گرفتار کیا گیا۔کرایہ داری ایکٹ، وال چاکنگ (ترمیمی ایکٹ) 2015ء، اسلحہ ایکٹ (ترمیمی ایکٹ)2015ء پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015، پبلک آرڈر ایکٹ 2015ء کی ترمیم شدہ بحالی قوانین نافذ عمل کئے جا چکے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔پنجاب انفارمیشن آف ٹمپریری ریذیڈنس آرڈیننس 2015ء کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں 14804 مقدمات درج کرکے 21959 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 7510 مالکان، 10392 کرائے دار، 96پراپرٹی ڈیلر اور 3961 منیجر وغیرہ شامل ہیں۔11595 چالان عدالتوں میں پیش کئے گئے۔4041 مقدمات کے فیصلے کے بعد 3669 افراد کو جرمانے اور قید کی سزا سنائی گئی۔

دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ نفرت انگیز مواد کی تقسیم ہے۔ اسی لئے نفرت انگیزمواد کی نشر و اشاعت اور ابلاغ کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد صوبہ بھر میں کارروائی کے دوران 981مقدمات درج اور 1191ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ عدالتوں میں 790 چالان پیش کئے گئے۔511مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں جبکہ 157 افراد کو جرمانے اور قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔انسداد وال چاکنگ ترمیمی آرڈیننس 2015ء کے تحت 1941 مقدمات درج کرکے 1905افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 1797 ملزمان کے چالان عدالت میں پیش کر دیئے گئے جبکہ 673 مقدمات کے فیصلے بھی ہو چکے ہیں۔500ملزموں کو جرمانے اور قید کی سزا دی جا چکی ہے۔پنجاب آرمز آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر 60691 مقدمات درج کئے گئے جبکہ 60674 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔53953 چالان عدالت میں داخل کئے گئے۔4245 مقدمات کے فیصلے سنا دیئے گئے۔3676 افراد کوجرم ثابت ہونے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔فرقہ ورانہ نفرت انگیز تحریری مواد چھاپنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 189کتابیں اور 1500سی ڈیز 570 میگزین اور 3900پمفلٹ ضبط کر لئے گئے ہیں جبکہ متحدہ علماء بورڈ کی سفارش پر نفرت انگیز مواد پر مبنی 210کتابیں اور CDs پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان میں واضح پالیسی موجود ہے۔ اسی لئے پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں اور دہشت گردی میں مالی امداد لینے یا دینے یا سہولت کار بننے پر بھی سختی سے نظر رکھی جا رہی ہے۔41پولیس افسروں کو اینٹی منی لانڈرنگ لا کے بارے میں مخصوص تربیت دی گئی ہے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت93مقدمات درج کئے گئے اور 123 افراد کو حراست میں لیا گیا اور 25افراد کو سزا سنائی گئی۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت نام بدل کر کام کرنے والی 8تنظیموں کی کڑی نگرانی کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کو موثر بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب باقاعدگی سے اپیکس کمیٹی کی میٹنگ میں لااینڈ آرڈر کی صورتحال کاجائز ہ لیتے ہیں۔اب تک اپیکس کمیٹی کی 8میٹنگز ہوچکی ہیں۔امن وامان قائم رکھنے کیلئے موثر اقدامات کی وجہ سے محرم الحرام اور دیگرتہوار بخیروعافیت اختتام پذیر ہوئے ۔

بس یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد ہو۔ کیونکہ موجودہ ملکی تناظر میں اس کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔

مزید :

کالم -