زیروٹالرنس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے پر عزم ہیں: چیئرمین نیب

زیروٹالرنس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے پر عزم ہیں: ...

  

لاہور (سپیشل رپورٹر)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے‘ قومی احتساب بیورو کی انسداد بدعنوانی کی جامع قومی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں نیب 2016ء میں بھی اس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوار ٹر میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیا جس میں نیب ہیڈکوار ٹر اور تمام علاقائی بیوروز کی وسط مدتی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ نیب کی چیئرمین انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم کو نیب ہیڈکوارٹر اورر تمام علاقائی بیوروزکی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ذمہ داری سونپی کی گئی تھی۔نیب کے تمام علاقائی بیورو ز اورنیب ہیڈکوار ٹرکی وسط مدتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد سینئر ممبر چیئرمین مانیٹرنگ اینڈ انسپکشن ٹیم نے تمام علاقائی بیورو ز اورنیب ہیڈکوار ٹرکی وسط مدتی کارکردگی سے متعلق چیئرمین نیب کو بریفنگ دی اور تمام علاقائی بیورو ز اورنیب ہیڈکوار ٹرکی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا تاکہ مستقبل میں ان خامیوں پر قابو پایا جا سکے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ نیب میں مقدمات کو نمٹانے کے لئے 10 ماہ کاوقت مقررکیا گیا ہے۔ 2 ماہ میں مقدمات کو شکایات کی جانچ پڑتال، 4 ماہ میں انکوائری اور4 ماہ میں انوسٹی گیشن کر کے 10 ماہ میں ریفرنس احتساب عدالت میں بھیجنے کے لئے مدت مقرر کی گئی ہے ،۔ نیب نے معیار کو یقینی بنانے کیلئے 10 سال کے عرصہ کے بعد انوسٹی گیشن آفیسر کیلئے کام کے معیاری طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش اور تجربہ کا فائدہ اٹھانے کیلئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انوسٹی گیشن آفیسر اور لیگل کونسل پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا۔ اس سے نہ صرف کام کے معیار میں بہتری آئی ہے بلکہ اس سے کوئی بھی فرد تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا،۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے، اس گریڈنگ نظام کے تحت چیئرمین مانیٹرنگ اینڈ انسپکشن ٹیم نے نیب کے علاقائی بیوروز کی وسط مدتی کارکردگی کا مقررہ طریقہ کار کے تحت جائزہ مکمل کر لیا ہے،۔نیب نیاپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی4 264. بلین روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، انہوں نے کہا کہ پلڈاٹ کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 42 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں، 30 فیصد پولیس اور 29 فیصد سرکاری افسران پر اعتماد کرتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں بدعنوانی پرسپشن انڈیکس میں پاکستان 126 ویں سے 117 ویں نمبر پر آ گیا ہے جو کہ چیئرمین نیب کی کوششوں سے پاکستان کی اہم کامیابی ہے، نیب نے نیب راولپنڈی اسلام آباد علاقائی بیورو میں پہلی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہیچیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا کہ نیب زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب افسران مقدمات نمٹانے کیلئے میرٹ پر عمل کریں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں نوجوانوں میں بدعنوانی کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کیلئے نیب اور ایچ ای سی کے تعاون سے یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں کردار سازی کی 22 ہزارسے زائد انجمنیں قائم کی گئی ہی،ان اقدامات سے نیب کی بدعنوانی کے خلاف مہم میں تیزی آئی ہے،نیب نے بدعنوانی کے موثر خاتمے کیلئے سمت کا تعین کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی سے انکار کی مہم کے ذریعے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر آگاہی اور تدارک کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -