حج کے اعلیٰ انتظامات پر پاکستانی حاجی خوش

حج کے اعلیٰ انتظامات پر پاکستانی حاجی خوش
حج کے اعلیٰ انتظامات پر پاکستانی حاجی خوش

  

اس سال پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے حج کا مقدس فریضہ انجام دیا اور واپسی پر برملا پاکستانی حکومت کی تعریف کی کہ پاکستانیوں کے لئے اس مرتبہ حج کے بہترین انتظامات کئے گئے تھے، جن کی وجہ سے حج کا فریضہ انجام دینے میں بہت سہولت میسر آئی۔ بزنس لیڈر اور یونائٹیڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے بھی اس سال حج کی سعادت حاصل کی اور واپسی پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا:’’ ہر صاحب حیثیت انسان کو حج کا فریضہ ضرور انجام دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے حج کی عبادت حیرت انگیز خصوصیات سے بھرپورکر رکھی ہے، اور واقعی سچی بات ہے کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے خانہ کعبہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے غیبی شعاعیں دل کی میل صاف کرنے لگی ہیں اور کچھ مدت گزرنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ دل کا تمام میل صاف ہو گیا ہے، اس سے احساس ہوا کہ واقعی انسان بالکل اسی طرح کا ہو جاتا ہے، جیسے وہ بچپن میں اپنے صاف ستھرے دل کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ حج کرنے کے بعد بالکل یہی احساس ہوتا ہے جیسے انسان نے دوبارہ جنم لیا ہے‘‘۔۔۔ خانہ کعبہ کے اندر میں نے ہر نماز کے بعد پاکستان اور پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت دعائیں مانگیں۔ جس طرح علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ پاکستان کوواقعی ایک فلاحی ریاست بنادے، جہاں کوئی غریب نہ رہے، بلکہ ہر کوئی معاشی طور پر خوشحال ہو۔

حج کے دوران مجھے جمال عبدالناصر کی کتاب’’فلسفۂ انقلاب‘‘ کا دیباچہ یاد آگیا جس میں جمال عبدالناصر نے لکھا ہے :’’حج کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر اپنے مسائل حل کریں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا عزم کریں‘‘۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ حج کے دوران ہر مسلمان ملک کے حاجیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور یہ حیرت انگیز بات دیکھی کہ تمام ممالک کے مسلمانوں کو پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے پر فخر تھا اور ان کا کہنا تھا کہ مضبوط پاکستان سے عالمِ اسلام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔ تمام اسلامی ممالک کے باشندے یہی سمجھتے ہیں کہ صرف پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بنا،بلکہ تمام اسلامی دنیا ایٹمی طاقت بن گئی ہے۔ ہر کسی نے پاکستان کے دشمنوں کے برباد ہونے کے لئے دعائیں مانگیں اس موقع پر میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ پر اعتقاد اور رحمتوں کی وجہ سے پاکستان تمام بحرانوں سے نکل رہا ہے ، ورنہ 2013ء سے پہلے تو ہر باخبر اور باشعور پاکستانی پریشانی میں ڈوبا ہوا تھا کہ ایسا کون سا معجزہ ہوگا کہ پاکستان معاشی بحرانوں سے باہر نکل آئے،پھر ہر کسی نے دیکھا کہ واقعی حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے اور پاکستان نہ صرف معاشی بحرانوں سے نکل آیا، بلکہ ہر سطح پر بھی پاکستان نے حیرت انگیز حیثیت حاصل کرلی ہے۔ چند روز پہلے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دورۂ فرانس کی رپورٹ عالمی میڈیا پر دیکھ رہا تھا۔ پاکستانیوں کو احساس ہے کہ عید کے موقع پر ہر عام وخاص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے درمیان ہو، لیکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس کے باوجود اپنا دورۂ فرانس ملتوی نہیں کیا،بلکہ پاکستان کی خوشحالی اور معاشی استحکام کے لئے انہوں نے بھرپور اعتماد کے ساتھ یورپی یونین کے اہم ملک فرانس کے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کئے اور پاکستان کی بہتری کیلئے بہت سے مفید امور سر انجام دیئے۔

اس دورے میں پاکستان آرگنائزیشن فار اکنامک ڈویلپمنٹ (DECD)کا ممبر بن گیا۔ دنیا کے 80 اہم ترین ممالک اس اہم تنظیم کے ممبرہیں۔ اس ممبر شپ کے نتیجے میں پاکستان کو بہت سی ایسی قیمتی معلومات حاصل ہوں گی،جن کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو دور رس فوائد حاصل ہوں گے۔امریکہ کے معتبر جریدے ’’فوربس‘‘ نے بھی پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت پر ایک حیرت انگیز رپورٹ شائع کی ہے، جس میں پاکستان کی ایکٹویٹی مارکیٹ کی تیز تر ترقی پر پاکستان کی لیڈر شپ اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کی معاشی ٹیم کی تعریف کی ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی سٹاک ایکسچینج نے حیرت انگیز ترقی سے بنگلہ دیش،بھارت اور چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی آنے والے دنوں میں بہت سے ایسے منصوبے مکمل ہونے جارہے ہیں،جن کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا رخ پاکستان کی طرف پہلے سے زیادہ ہوگا۔ پاک چین اقتصادی راہداری میں 46ارب ڈالر تو پہلے مرحلہ میں خرچ کررہا ہے، لیکن جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو اربوں ڈالر سے پیداواری یونٹ قائم کئے جائیں گے اور مشترکہ سرمایہ کاری سے بے روز گاری ختم کرنے کے علاوہ ہر کسی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور پیداواری عمل تیز ہونے سے اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں کمی ہوگی اور بجلی اور سوئی گیس کے بل بھی انرجی سستی ہونے سے کم ہو جائیں گے۔

مزید :

کالم -