امن کے فروغ میں جامعات کا کردار

امن کے فروغ میں جامعات کا کردار
 امن کے فروغ میں جامعات کا کردار

  



ہر سال 21ستمبر کو دُنیا بھر میں امن کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اِس سلسلے میں دُنیا بھر میں امن کے افکار کے فروغ کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس سال عالمی یوم امن کا عنوان پائیدار ترقی کے سترہ اہداف اور امن کے لئے کاوشیں ہیں، جس کی متفقہ منظوری اقوام متحدہ کے 193ممبر ممالک نے ستمبر 2015ء میں دی تھی اور 2030ء تک یہی ایجنڈا چلے گا،جو اپنے ممبر ممالک پر زور دیتا ہے کہ ان اہداف کے حصول کے لئے اگلے پندرہ برسوں میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں، جن میں غربت ،نا انصافیوں ، عدم مساوات کا خاتمہ اور تمام ممبر ممالک میں بسنے والے افراد کے لئے خوشحالی کو یقینی بنانا ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل بان کی مون کے مطابق پائیدار ترقی کے اہداف، انسانیت، مشترکہ بصیرت ،دُنیا بھر کے لیڈروں اور عوام کے مابین ایک سماجی معاہدہ ہے ۔ بڑھتے ہوئے عالمی مسائل میں غربت ،افلاس، انسانی ذرائع کی کمی ،جہالت، صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی، پانی کی کمی ،سماجی عدم مساوات ،ماحولیاتی آلودگی، بیماریاں ،کرپشن،نسل پرستی شامل ہیں،جو امن کو برقرار رکھنے کے لئے بہت بڑی رکاوٹیں ہیں ۔تعلیم انسانوں اورمختلف قومیتوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کے لئے ایک فعال ذریعہ ہے، جبکہ جامعات، جن کو خیالات ،جدت طرازی اور تخلیقی علوم کا محور مانا جاتا ہے، وہ امن، برداشت ،ہم آہنگی،انسانیت کا احترام جیسی روایات کو پروان چڑھانے اور نوجوان نسل میں ان کے بارے میں آگاہی کے لئے کلیدی کردار کی حامل ہیں۔

جامعات میں امن کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے غیر نصابی سر گرمیوں کا انعقاد ،کھیلوں کی سرگرمیاں،سٹو ڈنٹس سوسائٹیزکا قیام اور جامعات کے کمیونٹی کے ساتھ مو ثر روابط جیسے اقدامات نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مزید برآں نصاب میں پائیدار ترقی کے اہداف،امن، بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے متعلقہ موضوعات شامل کئے جائیں، جن سے نہ صرف نوجوانوں کی معلومات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،بلکہ وہ موثر اور باخبر شہری کی حیثیت سے معاشرے کی بہتری میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جامعات کو ان اہم مو ضوعات پر سیمینار ، کانفرنس، ورکشاپ ،تقریری مقابلہ جات ،مضمون نویسی اور شارٹ کورسز کا انعقاد کروانا چاہئے ۔پاکستان کو اس وقت بہت سے سیاسی ، سماجی، لسانی ،مذہبی ماحولیاتی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا سامنا ہے،جن سے نمٹنے کے لئے پاکستانی جامعات کو دوسرے متعلقہ اداروں کی شراکت سے ان اہم مسائل کی جانب توجہ دینے کی اشداور فوری ضرورت ہے، کیونکہ امن کے قیام اور تنازعات کے حل سے ہی پائیدار معاشی ترقی اورموثر جمہوریت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے اور ان کے ثمرات سے عوام براہ راست مستفید ہو سکتے ہیں۔ امر ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حالیہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران بلوچستان میں مخدوش امن و امان کی صورتِ حال اور مالی وجوہات کی بنا پر بلوچستان یونیورسٹی کے 70سے زائد اساتذہ دوسرے صوبوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ جامعات کی سیکیورٹی یقینی بنانے اور پر امن تعلیمی ماحول کے لئے فوری طور پر موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور اس سلسلے میں جامعات کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے خصوصی گرانٹ کا اعلان کیا جائے، جبکہ ایک خصوصی روڈ میپ بھی بنایا جائے، جیسا کہ 30سے زائد پاکستانی جامعات کے خود مختار ادارے انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسز کی جانب سے پاکستان میں سماجی علوم اور امن،برداشت کے فروغ کے لئے تیار کیا گیا ہے، جس پر عمل در آمد کر کے حکومتی ادارے، جامعات اور سول سوسائٹی پاکستان میں امن کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں ،ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پاکستانی جامعات میں مقامی تنازعات کے اسباب جاننے اور ان کے حل کے لئے تحقیق کی جائے ،اس سلسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو تحقیقی پراجیکٹ کے لئے خصوصی فنڈ مختص کرنا چاہئے اور سماجی علوم کے ماہرین کو اس کاوش میں شامل کرنا چاہئے ۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہر سال عالمی یوم امن کے سلسلے میں مُلک بھر کی جامعات میں نوجوانوں کو ان کی اہمیت اور ان کے کلیدی کردار کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔ جامعات کے کیمپس ریڈیو کو خصوصی پروگرام اور ٹاک شو نشرکرنے چاہئیں،جن سے نہ صرف طلباء مستفید ہوں گے،بلکہ جامعات کے ارد گرد کی کمیونٹی بھی فائدہ اٹھا سکے ،آج کے اس اہم دن کے موقع پر ہمیں باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کی گراں قدر قربانیوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے، جنہوں نے علم اور امن کے تحفظ کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔

مزید : کالم