سالانہ اجلاس اقوامِ متحدہ اور مسئلہ کشمیر

سالانہ اجلاس اقوامِ متحدہ اور مسئلہ کشمیر
سالانہ اجلاس اقوامِ متحدہ اور مسئلہ کشمیر

  

 1947ئ میں ہندوستان کی تقسیم کے وقت متنازعہ ریاست جموں و کشمیر پر کانگریسی لیڈروں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ مل کر جس سنگین سازش کے تحت بھارتی فوج کے ذریعے غاصبانہ قبضہ کیا تھا آج سات دہائیاں گزرجانے کے باوجود کشمیری اس قبضے سے اپنے لاکھوں پیاروں کی قیمتی جانوں کے نذرانے دے کر بھی جوان مردی سے آزادی کے لئے جہدوجہد کررہے ہیں۔69برسوں پر محیط بھارتی افواج کا ظلم وستم نہ کشمیریوں کے آزادی کے جذبے کو ماند کرسکا اور نہ ہی ان کے حوصلوں کو پست کرسکا ،بلکہ ہر گزرتا دن جہاں تاریخ میں بھارتی مظالم کی ایک نئی داستان تحریر کرتا ہے، وہیں کشمیریوں کا ہردن نئے جذبۂ آزادی کو رقم کرتا ہے۔عین کسی شاعر کے شعر کی طرح کہ:

ادھر آ ستم گر تو ہنر آزما

تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں

69سالہ دور میں کشمیری اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں لٹا کر اور اپنے بزرگوں کی جانوں کا نذرانہ دے کر رائی کے جذبے برابر بھی آزادی کے مطالبہ سے پیچھے نہیں ہٹے اور نہ ہی شیخ عبداللہ سے لے کر محبوبہ مفتی تک بھارت کی کٹھ پتلی حکومتوں کے کسی دھوکے میں آئے،بلکہ آج تک جوان ہویا بوڑھا، خاتون ہویا بچہ ہر ایک کی زبان پر ایک ہی نعرہ مستانہ ہے:’’ہم ہیں چاہتے۔۔۔آزادی‘‘۔۔۔ حالیہ کچھ عرصہ قبل کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی کی شہادت سے شروع ہونے والی تحریک نے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو ایک نیا ولولہ وجوش بخش دیا ہے۔75 روز پر محیط مسلسل کرفیو اور سفاکیت پر مبنی تشدد بھی کشمیریوں کو ان کے مشن سے باز نہیں رکھ سکا۔جانوروں پر استعمال ہونے والی پیلٹ گن نے نہ صرف کشمیریوں کے چہرے و جسم، دل ودماغ زخمی کئے ہیں،بلکہ سینکڑوں کشمیریوں کی، جن میں بچے، بوڑھے،جوان سبھی شامل ہیں ، آنکھیں چھین کر انہیں نابینا کردیا ہے اور سینکڑوں کو زندگی بھر کے لئے ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج بنادیا ہے،بھارتی ظلم وتشددنے کشمیر میں اپنے پرانے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے، لیکن صد افسوس کہ اِس دُنیا کے امن پسند اور انسانی حقوق کے دعویدار کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و اس ظلم و تشدد پر ایک لفظ بھی نہ بول سکے۔

وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سربراہِ مملکت کے سالانہ اجلاس میں دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کی طرف مبذول کروانے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ وہ اپنے خطاب کے ذریعے دنیا کو بھارتی سفاکیت کے بارے میں بتائیں گے۔وہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ضمیر کو کشمیریوں کی رو داد سنا کر جھنجھوڑیں گے۔ نواز شریف دُنیا میں امن کے تمام داعیوں سے پوچھیں گے کہ بتائیں جانوروں پر استعمال ہونے والی پیلٹ گن کو معصوم انسانوں پر استعمال کر کے دُنیا میں امن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟وہ اظہارِ رائے کے چیمپئن ممالک کے سربراہوں سے پوچھیں گے کہ کیا اس جدید دور میں بھی پتھر کے زمانے کی طرح لوگوں کو غلام بنایا جا سکتا ہے؟وہ دُنیا کے بڑوں سے یہ سوال بھی کریں گے کہ اس دنیا میں جانوروں کے حقوق پر کام بھی ہو رہا ہے اور اس پر عمل بھی، لیکن بتائیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے لوگوں کے حقوق پر کوئی کیوں بات نہیں کرتا؟ کشمیریوں کے حق میں منظور کی گئیں آپ ہی کی 19سے زائد قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کروایا جا سکا؟

پاکستانی وزیراعظم ان سوالوں کے ذریعے کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کرنے کی کوشش تو کریں گے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ غفلت کی نیند سوئے دنیا کے بڑے ممالک کب مقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں کی حالت زار پر جوابی اقدام کریں گے،کب بھارت سے کہیں گے۔۔۔Enough isEnough۔۔۔بند کرو یہ ظلم و دہشت اور کشمیریوں کو استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دو اور اسی سال استصوب رائے کرایا جائے تاکہ کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق دینے کے لئے ایک لمحہ کی بھی دیر نہ کی جائے۔میری ،تمام پاکستانیوں اور کشمیریوں کی طرح یہی دُعا ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ اجلاس ہی کشمیریوں کے لئے فیصلہ کن ثابت ہواور کشمیریوں پر بھارتی ظلم و جبر کا سیاہ دور اب ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے۔

مزید :

کالم -