بھارتی دہشت گردی اور نئی سازش

بھارتی دہشت گردی اور نئی سازش
 بھارتی دہشت گردی اور نئی سازش

  

بھارت کی ظالم فوج نہتے کشمیریوں پر ویسے تو سارا سال ہی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتی ہے لیکن گزشتہ 73روز سے جاری تحریک آزادی کی پُر امن ریلیوں کو ختم کرنے کیلئے کشمیریوں پرریاستی دہشت گردی کی انتہا کردی گئی جس کے نتیجہ میں 100سے زائد کشمیریوں کو شہید، 700کو بینائی سے محروم اورہزاروں کو زخمی کیا جا چکا ہے ۔یہ ہی نہیں وادی جموں کشمیر میں مسلسل کرفیو نافد کر کے مظلوم عوام پر زندگی اور اجیرن بنائی جا رہی ہے ۔بھارتی حکومت ابھی یہیں بس نہیں کر رہی مزیدریاستی دہشت گردی کیلئے وادی میں فوج کی اضافی نفری بھیجی جا رہی ہے تاکہ ان بھارتی دہشت گردوں کی جارحیت اور سفاکیت سے وہ کشمیریوں کے دل سے جذبہ آزادی اورپاکستان کی محبت ختم کر سکیں ۔بھارت نہتے کشمیریوں کی آزادی کی تحریکوں اورحق خودارادیت کو تسلیم کرنے کے بجائے ان کوپیلٹ گن ،فاسفورس شیل ،آنسو گیس سے چُپ کرانے کی کوشش کرتی ہے۔بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی خبریں جیسے ہی عالمی میڈیا آئیں توکسی اور نے نہیں بھارت کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنماء سیتاران نے کہا کہ بھارت سرکار حد سے زیادہ نہتے کشمیریوں پر فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے جو آزادی کی تحریک کو مزید ہوا دے گی۔

کشمیر میں فوجی دہشت گردی پریورپی یونین نے تشویش اظہار کیاتو امریکہ نے مسئلہ کے پُر امن حل پر زور دیا۔ یہی نہیں کئی سال سے خاموش تماشائی بنی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی اس ظلم پر چیخ اُٹھی ہیں اور بھارت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کرنے کیلئے حرکت میں آرہی ہیں بھارتی حکومت نے کشمیر میں عالمی میڈیا،انسانی حقوق کی تنظیموں کو جانے سے روکا ہوا ہے اور پوری وادی میں کرفیو لگا کر انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر ایک سیمینار کیا جس میں بھارت کو اس کا اصلی روپ نظر آیاتو سرکار بُرا مان گئی اور بھارت کی حکومت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو زبردستی کا م کرنے سے روک دیا۔

بھارت سرکار جموں کشمیر میں انتہائی ظلم و بر بریت اور ریاستی دہشت گردی کے بعد بھی آزادی کی تحریک دبا نہ سکی۔ بلکہ بھارت کے اس ظلم نے آزادی کی ان تحریک کو ایک انتہائی جوش دیاجو شہروں سے اب دیہات تک بھی پہنچ گئی ہے۔ بھارت سرکار عالمی سطح پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت پر بُری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بھارت کی ساری گیم اُلٹ ہو گئی ہے اور ساری دنیا میں بھارت کا مکروہ چہرہ واضح ہو گیا ہے۔ اس ساری صورت حال کے بعد بھارت سرکارکو محسوس ہو گیا کہ عالمی سطح پرمسئلہ کشمیر اُبھررہا ہے ۔ بھارت سرکارکی دہشت گرد ی اور بربریت سب دیکھ چکے ہیں ان کو خوف تھاکہ عالمی رہنماء ،صحافی ان سے کشمیر میں جاری ریاستی تشدد و سفاکیت پر سوال کریں گے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے جانا مناسب نہیں سمجھا اور منصوبہ بندی کے تحت ایک دہشت گرد کارروائی کروائی گئی۔

جب پو ری دنیا کے بڑوں کی بیٹھک میں صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں۔بارہ مولا میں بھارتی فوجیوں کے ہیڈ کواٹر پرچار دہشت گرد حملہ کرتے ہیں ۔ جس کے نتیجہ میں 17بھارت فوجی مارے اور 30فوجی زخمی ہو جاتے ہیں ۔واقعہ کے تھوڑی دیربعد ہی بھارت سرکار کو کافی شواہد ملتے ہیں کہ یہ حملہ پاکستان نے کروایاہے۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ زہر اُگلتے ہوئے پاکستان کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ خود عالمی برادری سے منہ چڑاتے ہوئے دورہ امریکہ منسوخ کردیا تاکہ عالمی میڈیااور عالمی برادری کو کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کا جواب نہ دینا پڑجائے ۔ بھارت سرکار اپنی ریاستی دہشت گردی کو چھپانے اورعالمی برادری میں کشمیر کے حق میں پاکستان کی جانب سے اُٹھائی جانے والی آواز کو دبانے کیلئے خوددہشت گردی کی کارروائیاں کر وا رہا ہے اور بدنام پاکستان کو کر رہا ہے ۔بھارت کا خیال ہے کہ اس دہشت گردی کے بعدعالمی میڈیا میں کشمیر کی آزادی کی تحریکوں اور کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و بر بریت سے توجہ ہٹ جائے گی اور ایک نئی بحث شروع ہو جائے گی۔یہ ہی نہیں اب پاکستان بھی اقوام متحدہ یا کہیں عالمی سطح پر کشمیر پر بات کرے گا تو اُلٹا پاکستان کو الزام کا جواب دینا پڑے گا۔ بھارت سمجھ رہا ہے کہ وہ پاکستان پر کیچڑ اچھال کراب ظالم سے مظلوم بن گیا ہے اور عالمی برادری کے دل میں بھارت کیلئے نرم گوشہ پیدا ہوگا، لیکن بھارت کی یہ سازش بھی انکی گلے پڑے گی، پاکستان تو پہلے ہی بھارتی چالیں سمجھتا ہے اس لیے بھارت سے ثبوت مانگ لیے ہیں اور کشمیر ایشو کو ہر حال میں عالمی سطح پر اُٹھایا جا رہا ہے۔ اگرعالمی ضمیر پاکستان کی توجہ دلوانے سے جاگ گیااوربھارت کی ساری چالیں سمجھ گیا تو بھارت کی یہ گیم بھی ناکام اور بے نقاب ہو گی اور بھارتی حکومت کو کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی کا جواب اور کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینا پڑے گا ۔ ہم سب پاکستانی بھی دعا گو ہیں کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی دنیا بھر میں تائید ہو اور کشمیر پر جاری ظلم و جبر کا دور ختم ہو ان کو جلد آزادی کی پرسکون فضا نصیب ہو (آمین)

مزید :

کالم -