صوبائی اسمبلی سمیت ہر فورم پر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے،اسد قیصر

صوبائی اسمبلی سمیت ہر فورم پر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہیں گے،اسد قیصر

  

پشاور( پاکستان نیوز)سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے سی پیک کے حوالے سے ہمارے ساتھ کی گئی کمٹمنٹس پوری نہ کیں تو ہم صوبائی اسمبلی سمیت ہر فورم پر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کریں گے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کے علاوہ جنوبی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی گل صاحب خان ، ملک قاسم ، ادینہ ناز ، احتشام خان ، ضیاء اللہ بنگش اور زرین ضیاء بھی موجود تھیں ۔سپیکر نے کہا کہ ہم کسی ایک صوبے کی بات نہیں کرتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک کے حوالے سے مرکزی حکومت تمام صوبوں میں یکساں طور پر پراجیکٹس کا اجراء کرے تاکہ کسی صوبے کی حق تلفی نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی صوبے کو سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے محرومی کا شکار کیا گیا تو اس کا سخت ردعمل سامنے آئے گا ۔ سپیکر نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی سے قراردادیں بھی پاس کروائی ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ مختلف اجلاسوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے ہمارے ساتھ کمٹمنٹس کی گئی ہیں ان کمٹمنٹس کے مطابق پشاور ڈی آئی خان روڈ کی اپ گریڈیشن ، کوہاٹ تا ہکلہ نئے روڈ کی تعمیر ، پشاور تا راولپنڈی ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن اور پشاور تا ڈی آئی خان ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کی جائے گی ۔ سپیکر نے کہا کہ تا حال مذکورہ بالا کمٹمنٹس کی طرف توجہ نہیں دی گئی تا ہم مرکزی حکومت کی جانب ے دی گئی کمٹمنٹس کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں شروع کئے گئے سوات موٹروے کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے جبکہ کرک ، ہنگو اور کوہاٹ جہاں گیس اور تیل پیدا ہو رہا ہے وہاں پر بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی جائے ۔ ۔ سپیکر نے مرکزی حکومت سے چشمہ لفٹ بنک کینال پر بھی توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اس منصوبے سے تین ہزار ایکٹر اراضی سیراب ہو سکے اور صوبے کی غذائی ضروریات پوری ہو سکیں ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -