ساہیوال بنچ کی متوقع علیحدگی کیخلاف ہائیکورٹ بار ملتان،ڈسٹرکٹ بار خانیوال میں وکلاء ہڑتال

ساہیوال بنچ کی متوقع علیحدگی کیخلاف ہائیکورٹ بار ملتان،ڈسٹرکٹ بار خانیوال ...

  

ملتان،خانیوال (خبر نگار خصو صی،نمائندہ پاکستان ) ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے ساہیوال کو ملتان سے علیحدہ کرنے کے خدشہ اورجنوبی پنجاب کی محرومیوں کے خلاف ہڑتال پر ہائیکورٹ اور دفاتر میں بھی غیر اعلانیہ ہڑتال کردی گئی اور چیف جسٹس سے مذاکرات کے بعد ایک بجے مقدمات کی سماعت شروع کی گئی تاہم بار کی ہڑتال پر عمل کیا گیا۔تفصیل کے مطابق ایک روز قبل جنوبی پنجاب کی بارایسوسی ایشنز و نمائندگان کے کنونش میں ہونے والے فیصلے کے مطابق ہائیکورٹ بار نے ارجنٹ (بقیہ نمبر35صفحہ7پر )

مقدمات کی سماعت کے بعد جبکہ ڈسٹرکٹ بار نے مکمل دن ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا تھاجس پر گزشتہ روز وکلاء اورسائل ارجنٹ مقدمات کی سماعت کے لئے عدالتوں میں پہنچے تو عدالتوں میں فاضل ججز کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات کی سماعت نہیں کی جارہی تھی اس طرح ملتان بنچ کے د فاتر میں بھی کام بند کیاگیاتھا جس کے بعد وکلاء صدر بار کے کمرے اور بارہال میں جمع ہو گئے اور بحث مباحثہ شروع ہو گیا اور صبح 10 بجے بارعہدیداران اور سینئر وکلاء کے درمیان بحث و تجاویزکے تبادلہ اورعدلیہ کے ذمہ داران سے رابطہ کے بعد 12 بجے وکلاء صدربارشیخ جمشید حیات،جنرل سیکرٹری چوہدری عمر حیات ،صدر ڈسٹرکٹ بارعظیم الحق پیرزادہ ،سابق وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل میاں عباس احمدو مرزاعزیز اکبربیگ،سابق صدور ہائیکورٹ بار ملک حیدر عثمان ،محمد محموداشرف خان ،سید محمد علی گیلانی نے سنئیر جج ملتان بنچ کے چیمبر میں گئے اور ایک گھنٹہ مذاکرات کے بعد عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کی گئی جبکہ وکلا ء ارجنٹ مقدمات کی سماعت بعد مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔دریں اثناء صدر بار شیخ جمشید حیات نے بارروم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سینئر جج کے چیمبر میں ویڈیولنک کانفرنس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ سے مذاکرات کئے گئے جس میں فاضل چیف جسٹس کیساتھ جسٹس شاہد حمید ڈار اور رجسٹرار سید خورشید انور رضوی بھی موجود تھے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے ساہیوال کو ملتان بنچ سے علیحدہ نہ کرنے ،پرنسپل سیٹ پر مقدمات کی بل واسطہ دائر ی روکنے،ملتان بنچ میں ججز کو مختلف ڈویڑنز کے لئے مخصوص نہ کرنے اوربنچ کے اند ر بنچ کے قیام کی کیفیت کو ختم کرنے کے مطالبات پیش کئے گئے جس پرفاضل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ ملتان بار کے مطالبات درست ہیں اور برملا اظہار کیا کہ ساہیوال کو ملتان بنچ سے علیحدہ کرنے کا کوئی معاملہ بھی زیر تجویز نہیں ہے نیز اس معاملہ پر ہائیکورٹ باراور سینئر وکلاء کی مشاورت کے بناء کوئی اقدام نہیں اٹھایاجائیگا۔دریں اثنا ء ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے مکمل دن ہڑتال کی گئی اور وکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے پیش نہیں ہوئے ہیں۔خانیوال سے نمائندہ پاکستان کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ساہیوال کو ملتان ہائی کورٹ بینچ سے الگ کرکے لاہور کے ساتھ شامل کرنے کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی کوئی وکیل کسی عدالت میں پیش نہیں ہوا اس موقع پر صدر بار چوہدری سعید اختر، جنرل سیکرٹری چوہدری شاہد اقبال ،شیخ محمداکرم، اکرام ہاشمی نے کہاکہ ملتان ہائی کورٹ کی ترقی اور بہتری کے لئے نہ صرف یہ کہ ساہیوال کو الگ نہیں ہونے دیں گے بلکہ خودمختار ہائی کورٹ کے قیام کے لئے جدوجہد کریں گے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -