نئے جوڈیشل کمپلیکس میں چیمبرز کی جگہ مختص نہ ہونے پر وکلاء کااحتجاج

نئے جوڈیشل کمپلیکس میں چیمبرز کی جگہ مختص نہ ہونے پر وکلاء کااحتجاج

  

صادق آباد(تحصیل رپورٹر)نئے جوڈیشنل کمپلیکس میں وکلاء کیلئے چیمبرز کی جگہ مختص نہ کرنے پر صادق آباد کے بار نے گذشتہ روز عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا اس موقع پر کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوا جس کی وجہ سے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کیسوں میں نئی تاریخیں پڑ گئیں اس مو قع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکلاء رہنماؤں خالد بن سعید‘ عبدالرؤف سولنگی‘ سعید ثاقب (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

اور مظہر غفور ایڈووکیٹس نے بتایا کہ صادق آباد تحصیل اپنے جغرافیہ محل و قوع سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے سند ھ پنجاب بلوچستان بارڈر لگنے اور ضلع راجن پور کی قربت کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید دوچند ہوگئی ہے قیام پاکستان سے قبل 1939میں یہاں پر عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے بعد سے لیکر اب تک اسی جگہ پر تمام تر عدالتی امور نبٹائے جاتے ہیں سال 2013میں یہاں کے وکلاء کی جدوجہد رنگ لائی اور 7کروڑ روپے کی لاگت سے نیا جوڈیشنل کمپلیکس قائم ہوگیا مگر تب سے لیکر اب تک جوڈیشنل کمپلیکس پر تالے پڑے ہیں کیونکہ وکلاء کیلئے وہاں پر سرے سے ہی چیمبرز کی جگہ نہیں چھوڑی گئی اس لئے وکلاء نے وہاں پر شفٹ ہونے سے انکا رکردیا موجودہ جوڈیشنل کمپلیکس کی حالت یہ ہے کہ عمارت خستہ حال ہوچکی ہے صادق آباد بار کے 325کے لگ بھگ وکلاء ممبر ہیں جن میں سے 150کے قریب وکلاء کے پاس بیٹھنے کیلئے چیمبرز ہی موجود نہیں ہیں دھوپ ہو یا چھاؤں‘ موسم نرم ہو یا گرم تپتی دھوپ میں بھی یہ وکلا عدالتوں کی راہدریوں اور درختوں کے نیچے فرنیچر رکھ کر اپنا کام چلا رہے ہیں وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وکلاء جن کے دم سے عدالتیں آباد ہیں اور جنہوں نے عوام کو انصاف دلانا ہے وہ خود اپنے حق سے محروم ہیں انہوں نے وزیر اعلی پنجاب ‘ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ نئے جوڈیشنل کمپلیکس میں وکلاء کیلئے چیمبرز کی جگہ مختص کی جائے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -