دینی مدارس کی رجسٹریشن کے مسودہ کو مسترد کرتے ہیں،قاری محمد عثمان

دینی مدارس کی رجسٹریشن کے مسودہ کو مسترد کرتے ہیں،قاری محمد عثمان

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کی نائب امیرقاری محمدعثمان نے کہا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے یکطرفہ مسودہ کو مسترد کرتے ہیں۔ سندھ حکومت اپنی حکومتوں کے ادوار کی کرپشن کو ختم کرنے پر توجہ دے ۔ دینی مدارس کو جس نے بھی ختم یا کم کرنے کا سوچاہے وہ تاریخ میں نشان عبرت بناہے۔ سید مراد علی شاہ دینی مدارس کی بڑھتی تعداد سے پریشان نہ ہوں ۔ دینی مدارس ان کیلئے مشکل پیدا نہیں کریں گے۔سندھ کابینہ کے دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے قاری محمد عثمان نے کہا کہ سندھ حکومت نے یکم ستمبر کو تبت سینٹر جے یو آئی کے کفن پوش مارچ میں مشیر قانون کے زریعہ اعلان کرایاتھا کہ مدارس کی رجسٹریشن سمیت تمام مسائل پرجمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی کی مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا ۔اس کمیٹی کا اجلاس تک نہیں ہو ا پھر دینی مدارس کی رجسٹریشن کے مسودے کی منظوری کس طرح دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہوش کے نا خن لے۔ جمعیت علماء اسلام ایسے کسی فیصلے یا مسودے کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کرے گی جسمیں دینی مدارس کی آزادی و حریت متاثر ہو، دینی مدارس آئین پاکستان اور قانون کے تحت پہلے سے ہی رجسٹریشن کے تمام مراحل مکمل کرچکے ہیں ،اب کسی نئے مسودے کے تحت مدارس کی دوبارہ رجسٹریشن کا سوال ہی پیدانہیں ہو تا ۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ حکمران جماعت اپنی روایت کونہ بھولے اور کسی ایسے عمل کا تجربہ نہ کرے جس میں خود حکمراں جماعت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔ہم نہیں چاہتے کہ طے شدہ معاملات کو دوبارہ چھیڑا جائے،مدارس کے حوالے سے اچھے اور تاریخی فیصلے حکمران جماعت کے ادوار میں وفاقی سطح پر ہوچکے ہیں جو تاریخ اور ریکارڈ کا حصہ ہے۔سندھ حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کے کردار کونہ آزمائے۔اپنے دور کے متفقہ فیصلوں کو پھر سے چھیڑنا عقلمندی نہیں،انا رکی اور تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق فیصلے کا اعلان مشیر قانون سندھ مرتضی وہاب اور سابق مشیر مذہبی امور ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے یکم ستمبر کو لاکھوں فرزندان اسلام کی موجودگی میں کیا تھا۔اگر اس اعلان کی خلاف ورزی کی گئی تو جے یو آئی دوبارہ عوام کو جمع کرنے پر مجبور ہوگی۔پھر حالات کی خرابی کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سید مراد علی شاہ کے یہ ریمارکس کہ سندھ اسمبلی میں مدارس میں اصلاحات کا بل لانا چاہتے ہیں اسلئے کہ مدارس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ان سے مدارس کی دشمنی کی بو آرہی ہے۔ارباب مدارس اور جمعیت علماء اسلام دینی مدارس پر کسی بھی نئے جبر اور قانون کو مسلط ہونے نہیں دیں گے اور ہر فورم پر مدارس کا دفاع کیا جائیگا،جو آئینی اور قانونی حق ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -