کارکنان جذباتی ہو کر نعرے لگا دیتے ہیں ،ان لوگوں پر نظر رکھیں جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر ملک لوٹتے ہیں :خواجہ اظہار الحسن

کارکنان جذباتی ہو کر نعرے لگا دیتے ہیں ،ان لوگوں پر نظر رکھیں جو پاکستان زندہ ...
کارکنان جذباتی ہو کر نعرے لگا دیتے ہیں ،ان لوگوں پر نظر رکھیں جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر ملک لوٹتے ہیں :خواجہ اظہار الحسن

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )سند اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ کارکنا ن اپنے رہنما کو لے کر جذباتی ہوتے ہیں اس لیے نعرے لگ جاتے ہیں لیکن ان لوگوں پر نظر رکھی جائے جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر ملک کو لوٹتے ہیں ،ہم اپنے عمل سے پاکستان زند ہ باد کے نعرے لگا ئیں گے ۔ان کا کہنا ہے کہ 22اگست کے بعد سے اب تک بہت مشکل دور دیکھا ہے ،اگر ابھی ایم کیو ایم کو چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں چلا جاﺅں تو میں بالکل صاف شفاف ہو جاﺅں گا ۔

پاکستان ائیر فورس کی فضائی مشقوں کے لیے کالا شا کاکو سے شیخو پورہ تک موٹر وے کل صبح 5سے 9بجے تک بند رہے گی

سند ھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  22اگست کے بعد سے جو ہمارے ساتھ گزری ہے اس کا پانچ فیصد لوگوں کو پتہ ہو گا ،22اگست کی صبح تک تمام معاملات معمول کے مطابق چل رہے تھے ،مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے اور ہمارے مطالبات کو جائز طریقے سے حل کرانے کی یقین دہانی کرا رہے تھے ،ہمار ا بھی یہ مقصد تھا کہ شام تک کوئی حکومتی وفد آئے گا اور بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 22اگست کو وزیر اعلیٰ سندھ نے فون کر کے صورتحال کے بارے میں بتا یا تو انہیں کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے لیکن پھر اس رات ہمارے ساتھ جو ہوا وہ کسی قیامت سے کم نہیں ۔انہوں نے کہا کہ 22اگست کی رات کو فیصلہ کیا کہ پریس کلب جا کر اس واقعے کی مذمت ،قطع تعلق ،شرمندگی اور معذرت کا اظہار کریں گے لیکن اس سے پہلے ہی ہمیں حراست میں لے لیا گیا جس کی وجہ سے یہ سب کچھ دوسرے دن کرنا پڑا ۔اظہار الحسن نے کہا کہ22اگست کے بعد ہمارے پاس تین آپشن تھے پہلا موبائل بند کر کے ملک چھوڑ جائیں ،دوسرا یہ کہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں اور تیسرا راستہ وہ ہی تھا جس پر ہم چل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تینوں آپشنز میں سے سب سے خطر ناک آپشن یہ ہی تھی جس پر چل رہے ہیںلیکن ہم اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے بہت آسان تھا کہ کسی دوسری جماعت میں چلا جاتا تو ایک گھنٹے میں ہیرو بن کر سامنے آتا لیکن ہم نے انگاروں پر چلنے کا فیصلہ کیا ۔انہوںنے کہا کہ اس شہر میں راسمیت کسی ملک دشمن ایجنسی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ہم سب صف اول کا کردار ادا کریں گے ۔

مزید :

کراچی -