اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا روز، وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت کے علاوہ جاپان کے وزیراعظم اور ترک صدر سے ملاقاتیں کیں: سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا روز، وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت کے علاوہ ...
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا روز، وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت کے علاوہ جاپان کے وزیراعظم اور ترک صدر سے ملاقاتیں کیں: سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس کے پہلے دن کے سیشن میں شرکت کے علاوہ جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ملاقاتیں کیں جو انتہائی مفید ثابت ہوئیں۔

اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں اجلاس کے پہلے روز اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور اس کے بعد ان کی دو بہت اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں ایک ملاقات جاپان کے وزیراعظم اور دوسری ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ تھی۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ جاپان کے ساتھ ہمارے زیادہ تر تعلقات تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں رہے ہیں اس لئے یہ پاکستان کا اہم ترقیاتی شریک ہے اور اسی دونوں ممالک کے وزرااعظم کے درمیان اسی حوالے سے بات چیت بھی ہوئی۔ جاپان کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان کے نزدیک بہت اہمیت کیونکہ ایک تو پاکستان بہت بڑی مارکیٹ ہے ، دوسرا جغرافیائی اہمیت اور تیسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جاپانی سرمایہ کاری اور تجارت کی ایک تاریخ ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں۔

اعزاز چوہدری نے بتایا کہ علاقائی صورتحال پر بات چیت کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر جاپانی وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ آپ جیسا ملک دنیا میں ایک اہم آواز ہے اور آپ کو چاہئے کہ اس معاملے میں اپنا ادار کریں۔ جاپانی وزیراعظم نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ گزشتہ تین سال سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جاپانی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے۔

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے مطابق ترکی میں مارشل لاءکی ناکام کوشش کے بعد ترک صدر سے یہ پہلی ملاقات کی اس لئے انہوں نے مشکل وقت میں جمہوریت کا ساتھ دینے پر وزیراعظم اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان اور ترکی میں جمہوریت کی صحیح خدمت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے خطے کی صورتحال بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور گزشتہ روز او آئی سی کے رابطہ اجلاس میں کشمیری عوام کی حمایت اور بھارتی مظالم کے خلاف زوردار بیان دینے پر ترک وزیراظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سیکرٹری خارجہ کے مطابق ترک صدر نے او آئی سی کے ممبر کی حیثیت سے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے میں جو کچھ بھی ہو سکا ضرور کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ مل کر وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت بھی کی گئی۔ چونکہ ترکی نے پاکستان میں بہت سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور دفاع کے شعبے میں بہت ساری چیزیں ہم ان سے خرید رہے ہیں اور وہ ہم سے خرید رہے ہیں، تو یہ تجارت دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ علاقائی صورتحال پر بات چیت کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے ترک وزیراعظم کو افغانستان سے متعلق بریف کیا جبکہ انہوں نے ہمارے وزیراعظم کو سیریا، عراق اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے حوالے سے انتہائی مثبت اور ٹھوس انداز میں پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے پر وزیراعظم نواز شریف نے ان کا شکریہ ادا بھی کیا۔

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے مطابق ان دو ملاقاتوں کے علاوہ کچھ اور تقاریب بھی ہوئیں اور وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تمام ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے میں بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مہاجرین کے حوالے سے صدر اوما کی جانب سے منعقدہ سمٹ سے بھی خطاب کیا۔

اس کے علاوہ وزیراعظم کی کیا مصروفیات رہیں؟ سیکرٹری خارجہ اور دیگر مشیران کی کیا مصروفیات رہیں؟ ذیل میں ان کی مکمل کانفرنس دی جا رہی ہے۔

مزید :

قومی -