بھارت کے معروف ٹی وی نے بھارتی فوج کا’’ کچا چٹھا‘‘کھول کے رکھ دیا ،مقبوضہ کشمیر میں فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے بارے ایسے سوالات اٹھا دیئے کہ بھارتی فوج ہی مشکوک ٹھہر گئی

بھارت کے معروف ٹی وی نے بھارتی فوج کا’’ کچا چٹھا‘‘کھول کے رکھ دیا ،مقبوضہ ...
بھارت کے معروف ٹی وی نے بھارتی فوج کا’’ کچا چٹھا‘‘کھول کے رکھ دیا ،مقبوضہ کشمیر میں فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے بارے ایسے سوالات اٹھا دیئے کہ بھارتی فوج ہی مشکوک ٹھہر گئی

  

بارہمولہ (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کو’’ جنگ‘‘کی دھمکیاں اور گیدڑ بھبکیاں دینے والی بھارتی فوج اپنے ہیڈ کوارٹر کی حفاظت نہیں کر سکی تو وہ پاکستانی فوج کا مقابلہ کیسے کرے گی ؟ہندوستانی ٹی وی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں بھارتی فوج کی ناقص پلاننگ اور کمزوریوں کا پردہ چاک کر دیا ،بھارتی میڈیا پراڑی سیکٹر میں انڈین فوج پر ہونے والے حملے میں سنگین نوعیت کی غلطیوں اور لاپرواہی برتنے کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔

ہندوستانی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ نے دعوی کیا ہے کہ اسے اڑی سیکٹر ‘‘ پر ہونے والے حملے کی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں ،جس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حملے کے وقت کہیں نہ کہیں بڑی اہم لاپروائی ہوئی ہے ۔ ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کو ملی معلومات کے مطابق اس حملے کی بابت 12اور13ستمبر کو ہی معلومات مل گئیں تھیں جسے فوج کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا ،جبکہ حملے سے 2روز قبل 15ستمبر کو ایک بار ایسی ہی معلومات دوسری بار شیئر کی گئیں اور بھارتی فوج کی ہائی کمان کو بھی اس حملے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا ۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ حملہ آور اڑی سیکٹر میں فوجی ہیڈ کوارٹر میں 2راستوں سے لگی ہوئی خار دار تار کاٹ کر داخل ہوئے اور بلا روک ٹوک150میٹر تک فوجی ہیڈ کوارٹر کے اندر چلے آئے ،اس دوران انہیں کسی نے بھی کیوں نہ روکا ؟

مزید پڑھیں:جنگی جنون، بھارت پاگل ہوگیا،مخصوص اہداف پر حملوں کی تیاری کا پہلا مرحلہ مکمل،فضائی فوج،لڑاکا طیارے اڈوں پر پہنچ گئے،پاکستان منہ توڑ جواب دینے کو تیار

بھارتی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے فوجی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے حملہ قطار میں کھڑے ان فوجیوں پر کیا جو ’’واش روم ‘‘ جانے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف سے داخل ہونے والوں نے موٹر ٹرانسپورٹ والی جگہ پر ہلہ بولا ۔حملہ آوروں کی فائرنگ اور دستی بموں سے کچن میں پڑے مٹی کے تیل کو آگ لگ گئی جس نے ہتھیاروں کے زخیرے  اور خیموں میں سوئے ہوئے فوجی جوانوں کو اپنی زد میں لے لیا ،اس آگ سے 15خیمے جل کر راکھ ہو گئے ۔ بھارتی ٹی وی نے پاکستان پر روائتی الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم 28 اگست سے سرحد پار تعینات تھی اور معلومات تھی کہ وہ کوئی بڑی کاروائی  انجام دے سکتے ہیں۔اصل سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر حملہ آور حساس ترین فوجی ہیڈ کوارٹر کے اتنے قریب کیسے پہنچ گئے؟ ان حملہ آوروں کو فوجی ہیڈ کوارٹر کےاندر تک  الگ الگ حصوں کی اتنی پکی معلومات کیسے تھیں؟ کیا کوئی اندرونی شخص ان کی مدد کر رہا تھا ؟ بھارتی خفیہ ایجنسیاں ان سب باتوں کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں بہت سے اور سوالات بھی اٹھ رہے ہیں، فوج کا دعوی ہے کہ فوجی ہیڈ کوارٹر کے چاروں طرف روشنی کا سیلاب ہوتا ہے اور زمین پر رینگنے والی’’ کیڑی‘‘ بھی نظروں میں ہوتی ہے ، لیکن اس کے باوجود حفاظت پر معمور اہلکاروں نے دو دو جگہ سے خار دار تاروں کو کاٹتے ہوئے کسی کو کیوں نہیں دیکھا ؟ واش روم کے پاس بنی چیک پوسٹ کی کارروائی کیوں بے معنی رہی؟ اگر پوسٹ سے گولی چلی تو اس کے نشان کہاں ہیں؟ وادی میں دراندازی کی مسلسل خبروں کے درمیان’’ اڑی سیکٹر ‘‘ کی حفاظت میں یہ کوتاہی کس طرح ممکن ہوئی؟بھارتی ٹی وی کا اپنی اس خصوصی رپورٹ کے آخر میں انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہندوستانی فوج اور تحقیقاتی اداروں کے لئے سب سے مشکل اَمر یہ ہے کہ چاروں حملہ آوروں کے زیر استعمال اسلحہ،سامان اور لاشیں مکمل طور پر جل چکی ہیں جنہیں تحقیقات کے لئے دہلی بھیجا گیا ہے،اگر ان میں سے کوئی چیز بھی سلامت ہوتی تو شاید حملہ آوروں کا پاکستانی روٹ کہیں زیادہ صاف ہوکر سامنے آ گیا ہوتا۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ فی الحال تحقیقات میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ حملہ آوروں کا فوجی ہیڈ کوارٹر میں موجود مبینہ رابطہ کاروں کے بارے میں معلوم ہو اور یہ پتہ چلے کہ انہیں کس کس کی اندرونی مدد حاصل تھی؟

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -