محکمہ اینٹی کرپشن نااہل افسروں سے بھرا پڑا ہے،ہائی کورٹ کی ڈی جی اینٹی کرپشن کو طلب کرکے سرزنش

محکمہ اینٹی کرپشن نااہل افسروں سے بھرا پڑا ہے،ہائی کورٹ کی ڈی جی اینٹی کرپشن ...
محکمہ اینٹی کرپشن نااہل افسروں سے بھرا پڑا ہے،ہائی کورٹ کی ڈی جی اینٹی کرپشن کو طلب کرکے سرزنش

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کروڑوں روپے کی خورد برد کے مقدمات نمٹانے میں محکمہ اینٹی کرپشن کو کوئی دلچسپی نہیں،بادی النظر میں محکمہ اینٹی کرپشن نااہل افسروں سے بھرا پڑا ہے۔کسی ادارے کی نااہلی پر عدالت خاموش نہیں رہ سکتی ،جسٹس عبادالرحمن لودھی نے یہ ریمارکس ڈی جی اینٹی کرپشن کو مخاطب کرتے ہوئے دیئے جنہیں کروڑوں روپے کی مالی کرپشن کے مقدمہ میں ریکارڈ پیش نہ کرنے پر طلب کیا گیا تھا ۔عدالت نے اس مقدمہ میں ریکارڈ پیش نہ کرنے اور محکمہ اینٹی کرپشن کے متعلقہ افسر کی عدالتی معاونت میں ناکامی پربرہمی کا اظہار کیا ۔

عزیز اللہ اور ثناءاللہ نے اپنے خلاف کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں محکمہ اینٹی کرپشن کی طرف سے درج کئے گئے مقدمہ کو چیلنج کررکھا ہے ،مقدمہ کی سماعت کے دوران ملزموںکے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نیب نے درخواست گزار کنٹریکٹرزکے خلاف جعل سازی سے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے نکلوانے کے معاملے کی انکوائری کی ،الزامات ثابت نہ ہونے پر انکوائری بند کر دی گئی ، اس کے باوجود محکمہ اینٹی کرپشن نے درخواست گزاروں کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت بے بنیاد مقدمہ درج کر لیا۔عدالت نے مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کرنے اور تفتیشی افسر کی لاعلمی کی بناءپر ڈی جی انٹی کرپشن کو فوری طور پر عدالت میں طلب کر کے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں عدالت کو جان بوجھ کر گمراہ کر کے ملزموں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔بادی النظر میں محکمہ اینٹی کرپشن نااہل افسروں سے بھرا پڑا ہے جنہیں کروڑوں روپے کی کرپشن کے معاملات نمٹانے میں کوئی دلچسپی نہیں،اتنے بڑے کیس میں ایک اہلکار کو بھیج دیا گیا جسے حقائق کا کچھ پتہ نہیں،ادارے کی نااہلی پر عدالت خاموش نہیں رہ سکتی جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ نیب نے نجی ادارے یا فرد کو کس قانون کے تحت نوٹس جاری کئے اور انکوائری کر کے انہیں کلین چٹ دے دی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب خرم خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب نے قانونی طریقہ کار اختیار کئے بغیر انکوائری کی،نیب اینٹی کرپشن کی منظوری سے ہی نجی افراد کے خلاف انکوائری کا اختیار رکھتا تھاجس پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے کیس سے متعلقہ تمام ریکارڈ عدالتی فائل کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا۔

مزید :

لاہور -