بھارت پاکستان پر کبھی بھی حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ۔۔۔

بھارت پاکستان پر کبھی بھی حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ۔۔۔
بھارت پاکستان پر کبھی بھی حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ۔۔۔

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)کشمیر میں فوج پر حملے کے بعد بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور وہ پاکستان کو دھمکیاں بھی دے رہا ہے لیکن اس کی معیشیت اس بات کی متحمل نہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے۔کریڈٹ سوئس کا کہنا ہے کہ بھارتی معیشیت ترقی کررہی ہے اور اس کی حکومت کی کوشش ہے کہ 2019ءتک ملک کے ہر حصے میں ہرجگہ تک بجلی فراہم کی جائے۔اگر پاکستان کے ساتھ جنگ کا آغاز ہوتا ہے تو بھارتی معیشیت کو اس کا شدید نقصان ہوگااور معاشی ترقی کے سارے خواب چکنا چور ہوجائیں گے۔

بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ یہ خود کو چین کے ہم پلہ طاقت ظاہر کرسکے اور اس مقصد کے لئے گاہے بگاہے مضحکہ خیز دعوے بھی کرتا رہتا ہے، لیکن انٹرنیشنل انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سوئس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت ابھی بھی اکثر شعبوں میں چین سے 15 سے 20 سال پیچھے ہے۔

جریدے فوربز کے مطابق کریڈٹ سوئس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو بھارت جی ڈی پی کے لحاظ سے چین سے 16 سال پیچھے ہے۔ دھاتوں کے استعمال کے حوالے سے بھارت چین سے 22 سے 24 سال پیچھے ہے۔ کریڈٹ سوئس نے یہ رپورٹ اپنی ایک خصوصی ٹیم کے حالیہ دورہ بھارت کے بعد جاری کی ہے، جس میں دہلی، کولکتہ اور ممبئی جیسے شہروں میں متعدد کمپنیوں اور ایجنسیوں کا مشاہدہ کیاگیا۔

مشن کشمیر کے نام سے سفارتی مہم شروع، بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کیلئے بلوچستان کا معاملہ اچھال رہاہے: صدر آزادکشمیر

اگرچہ بھارت کی معاشی حالت چین کے مقابلے میں بہت کمزور ہے لیکن کریڈٹ سوئس کا کہنا ہے کہ اب یہ ملک آگے بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ حکومتی پالیسیوں کا زور اس بات پر ہے کہ 2019ءتک ملک کے ہر حصے میں ہرجگہ تک بجلی فراہم کی جائے جبکہ 2022ءتک تمام شہریوں کے لئے رہائشی سہولیات فراہم کردی جائیں۔ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کی جارہی ہے۔ بھارت نے صنعتی شعبے میں استعمال ہونے والی اہم دھاتوں کی مقامی طور پر پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرلیا ہے۔

بھارت کی اس پیشرفت کے پیش نظر اسے لوہا اور کوئلہ برآمد کرنے والی کمپنیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ آنے والے وقت میں بھارت ان سے دھاتوں کی خریداری میں واضح کمی لاسکتا ہے، البتہ بھارت کو تانبہ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لئے فی الحال اچھے مواقع موجود ہیں کیونکہ اس دھات کی مقامی طور پر پیداوار تاحال بہتر نہیں ہوسکی۔

مزید :

بین الاقوامی -