بلوچستان شورش

بلوچستان شورش
بلوچستان شورش

  

تحریر: بلال حیدر رانا (میونخ جرمنی)

قوموں اور سرحدوں کا آغاز اور قومیت کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں کا ایک بڑا مرکز یورپ ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند رہنا بھی آج کل یورپ میں ہی پائے جاتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں نسل پرستی کا عفریت لاتعداد بے گناہ لوگوں کو ہڑپ کرگیا، مگر آج بھی یورپ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو دوسرے ملکوں سے آنے والے لوگوں کو اپنے تمام تر مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ان کا مقصد نسل پرستی ہے جو کہ ایک عالمی مسئلہ ہے اس کا تعلق بلوچستان کے خراب حالات سے جوڑنا ہے، ظاہر ہے کہ بلوچستان میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں وہ جو پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل جوڑنا چاہتے ہیں اور دوسے وہ جو بلوچستان کو ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں جو کہ اُن کے خیال میں پاکستان کی غلام ہے۔ اس معاملے میں یہ لوگ بہت سے دلائل پیش کرتے ہیں اور ان دلائل کا استعمال کرکے ریاست اور ریاستی اداروں دوسرے صوبے مثلاً پنجاب اور خیبرپختونخوا سے آنے والوں پر حملے کرنے والوں کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان ایک الگ علاقہ ہے اور اس کا پاکستان اور دوسرے پاکستانیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سلسلے میں کچھ نسل پرست خیالات جن کو پوری دنیا میں عمومی طور پر ناقابل قبول کرقرار دیا جاچکا ہے اُس کا استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں خاص طور پر نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد تقریباً 1200 افراد کو بلوچ نہ ہونے کے جرم میں قتل کیا جاچکا ہے۔ کچھ دہشت گرد جماعتیں مثلاً BRA, BLA اور BSO(AZAD) ناصرف ان تمام لوگوں کے قتل پر خاموش ہیں بلکہ ان لوگوں کے قاتل دہشت گردوں کو قومی ہیرو قرار دیتی ہیں۔ تقریباً 2 لاکھ سے زائد لوگ بلوچستان سے ہجرت کرچکے ہیں جو وہاں کئی دہائیوں سے رہ رہے تھے۔ ان دہشت گردوں اور ان سے ہمدردی رکھنے والی جماعتوں کا خاص نشانہ پنچابی ہیں۔ خاص طور پر لاہور، سوشل میڈیا پر پنجابیوں کے خلاف زہریلیا پراپیگنڈا کرکے عام لوگوں کو اس بات کے لئے تیار کیا جارہا ہے کہ پنجابی قدرتی طور پر بلوچوں کے دشمن ہیں اُن کو مارنا ہی ہر مسئلے کا حل ہے جبکہ پاکستان کی بلوچ آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب میں رہتا ہے۔ پنجاب کے سابقہ گورنر لطیف کھوسہ بھی ان ہی بلوچوں میں سے ہیں جو کہ پنجاب میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی بلوچوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی بھی نسلی نفرت نہیں پائی جاتی۔ بلوچ پاکستان کے تمام علاقوں میں دیگر پاکستانیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں، مگر چند بلوچ قوم پرست نفرت کی جو آگ بڑھکانے کی کوشش کررہے ہیں اس میں سب سے زیادہ نقصان خود بلوچوں کا ہی ہوگا۔ بلوچستان پاکستان کے رقبے کا 44% حصہ ہے اور بلوچ پاکستان کی آبادی کا 3.6% حصہ ہیں۔ بلوچستان میں تقریباً نصف افراد بلوچ ہیں اور صرف بلوچ لوگوں پر مشتمل ملک بنانے کا مطالبہ کسی طرح بھی قابل عمل نہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ قوم پرست ایران اور افغانستان پر مشتمل بلوچ علاقے بھی آزاد کرانا چاہتے ہیں جس کا مطلب فرد رہ آزاد اور خود مختار ممالک سے جنگ کرنا ہے۔ پاکستان کی قومی شناخت میں رہتے ہوئے بلوچوں نے اپنی شناخت، زبان، روایات اور تہذیب کو قائم رکھا ہے اور آگے بھی قائم رہے گی اور جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ بلوچستان کے وسائل کو لوٹاجارہا ہے تو ایسی صورتحال تو پورے پاکستان میں ہے اور ہم سب کو اس کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ہے۔ افسوس ہے کہ بلوچستان میں کوئی ”ماما“ نہیں جو بے گناہ آباد کاروں، مزدوروں اور ہماری فوج کے جوانوں کے فعل پر بھی کوئی واک کرلے۔ آباد کاروں کی مخالف جماعتوں کے تمام سربراہ خود ہجرت کرکے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں بیٹھے ہیں اور بلوچستان آنے والے پاکستانیوں کو قتل کروارہے ہیں، یہ کیسی اندھیر نگری ہے کہ خود تو ہجرت بھی کرو اور دوسرے ملکوں کی شہریت بھی لو، مگر کسی پاکستانی کو بلوچستان میں نہ رہنے دو۔ دنیا کے تمام ممالک میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دئیے جاتے ہیں اور پنجابی بلوچوں کی طرح باقی پاکستانیوں کو بھی حق ہے کہ وہ پاکستان میں ہر جگہ رہیں اور کام کریں بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو پوری دنیا سے پڑھے لکھے اور کام کرنے والے لوگوں کو جمع کررہے ہیں۔ یہ تمام تر پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان میں چند نسل پرستوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے پراپیگنڈہ کا مقابلہ کریں اور عام بلوچوں کو اس کے شکار ہونے سے بچائیں اور حقوق کے حصول، کرپشن کے خاتمے کے لئے ہم سب کو جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ آپس میں جنگ اور وہ بھی مسلح کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ بلوچی اور دیگر پاکستانی ایک ہی ہیں اور ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ امیر بلوچی اور امیر پنجابی دونوں ہی اچھی زندگی گزاررہے ہیں اور کمزور اور غریب طبقات دونوں صوبوں میں پس رہے ہیں۔ اس مسئلے کو نسلی رنگ دینا صرف بدنیتی ہے۔

مزید :

بلاگ -