’’آج بھی میاں جیتا ہے‘‘

’’آج بھی میاں جیتا ہے‘‘
 ’’آج بھی میاں جیتا ہے‘‘

  

اتور17ستمبر کو لاہور کے حلقہ این اے 120میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی بیگم کلثوم نواز جیت گئیں۔ پاناما فیصلے کے بعد یہ مسلم لیگ (ن) کے لئے سیاسی اور نفسیاتی لحاظ سے بڑا ریلیف ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا منفرد معرکہ تھا۔ مسلم لیگ(ن)نے نہایت نامساعد حالات میں یہ الیکشن لڑا۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی نااہلی کے خلاف نظر ثانی درخواتیں بھی مسترد ہوچکی تھیں، جبکہ الیکشن کے دو روز بعد احتساب عدالت میں پیشی کے سمن بھی جاری ہو چکے تھے۔ پانچ سال پہلے لاہور ہائی کورٹ سے نمٹایا جانے والا حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کا عمل شروع تھا، بیگم کلثوم نواز کینسر جیسے موذی مرض کے باعث لندن میں تھیں۔

ادھر خاندان میں بھی اختلافات کی خبریں عام تھیں اور انتخابی مہم مریم بی بی چلا رہی تھیں۔ اس کے باوجود اس الیکشن کے نتائج سے نواز شریف کے لئے عوامی حمایت برقرار رہنے کا ثبوت مل گیا۔ یہ الگ بات کہ جیت کا مارجن وہ نہیں جو 2013ء کے عام انتخابات میں تھا تب کم و بیش 40,000ووٹ کا مارجن تھا۔ لیکن مشکل ترین حالات میں 15ہزار ووٹ سے کچھ کم کا یہ مارجن بھی کم نہیں۔ حمزہ شہباز جنہیں ضمنی الیکشن لڑنے کا ’’ماہر‘‘ سمجھا جاتا ہے اور ان کی رسائی گراس ووٹ لیول کے کارکنوں تک ہے اس مہم سے الگ رہے یا الگ کردیئے گئے۔ اگر یہاں حمزہ اور مریم مل کر مہم چلاتے تو نتائج 2013ء والے ہی ہوتے اور مارجن لیڈ وہی رہتی۔ حمزہ شہباز صحیح معنوں میں سیاسی کارکن ہیں۔ اپنے والد کے بعد پنجاب کی سیاست کو لیڈ کررہے ہیں۔

مریم نواز 2013ء کے عام انتخابات میں بھی یہاں سے اپنے والد محمد نواز شریف کی مہم چلا چکی تھیں۔ اس بار بھی ان کی مہم موثر اور جاندار تھی۔ لوگوں نے انہیں اچھا رسپانس دیا لیکن ووٹ محمد نواز شریف کی محبت اور بیگم کلثوم نواز کے احترام میں تھے۔ محمد نواز شریف سیاست میں ایک برانڈ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ، ووٹر اور سپورٹر دونوں کی کمٹمینٹ اپنے قائد کے ساتھ ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ محمد نواز شریف پنجاب میں ناقابلِ شکست ہیں ۔

قومی سطح پر ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ عمران خان اپنے یوٹرن اور غیر سنجیدہ سیاست کی وجہ سے غیر موثر ہوتے جارہے ہیں۔ قرطبہ چوک میں ان کا ناکام جلسہ اس بات کا ثبوت تھا۔ اس الیکشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریفرنڈم قرار دینا بھی سیاسی حرکت تھی۔ البتہ ان کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے انتخابی مہم بہت اچھی چلائی لیکن میاں نواز شریف کا ووٹر بیوفائی پر آمادہ نہ ہوا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ضمنی الیکشن میں 40سے زائد امیدوار شریک تھے۔ اس الیکشن میں سب سے زیادہ تشویش پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کو اپنے ووٹ بینک کے حوالے سے ہونی چاہئے، کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں لاہور پی پی پی کا گڑھ تھا خود بے نظیر یہاں سے الیکشن جیتا کرتی تھیں لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 2600 جبکہاس بار1414ووٹ لئے۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی صورت حال یہ ہے کہ اس بڑے ضمنی الیکشن میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو جلسہ کرنے نہ آئے۔ مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی کے مد مقابل تو اس کا کوئی امیدوار انتخاب لڑنے کو تیار نہیں تھا۔

قمر زمان کائرہ نے اعتزاز احسن کا نام تجویز کیا لیکن انہوں نے معذرت کرلی کہ یہ میرے مزاج کا حلقہ نہیں پھر کائرہ صاحب نے عزیز الرحمن چن کا نام لیا کہ حلقے میں آرائیں برادری کافی زیادہ ہے لیکن انہوں نے جواب میں کائرہ صاحب کا نام ہی تجویز کردیا۔ایسی صورت حال میں قرعہ فال فیصل میر کے نام نکلا ،لیکن وہ بھی کیا کرتے؟ لوگ آصف علی زرداری کی کارکردگی اور 2008-2013ء میں ہونے والی اذیت ناک لوڈشیڈنگ نہیں بھولے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی جس کے امیر جناب سراج الحق خود کو نہایت سادہ اور ایماندار کہلوانا پسند کرتے ہیں کے امیدوار جناب ضیاالدین انصاری کو صرف592 ووٹ ملے ،جو 2013ء میں حافظ سلمان بٹ کو حاصل ہونے والے 954ووٹوں سے بھی کم ہیں

یہ صور تحال اس حقیقت کی غمازی کررہی ہے کہ لوگ جماعت کی پالیسیوں سے خوش نہیں اور نہ ہی اعتماد کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف دو آزاد امیدوار محمد یعقوب شیخ اور شیخ اظہر حسین رضوی نے ماضی کی ان دونوں مین سٹریم جماعتوں سے کئی گنا زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ آزاد امیدوار محمد یعقوب شیخ کو جماعت الدعوہ کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا بھرپور تعاون حاصل رہا ملی مسلم لیگ اس کا نیا روپ ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے بعد سب سے مہنگی اور موثر مہم محمد یعقوب شیخ کی تھی۔ فلیکس اور پوسٹرز میں انہوں نے دونوں جماعتوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ انہوں نے 6ہزار ووٹ حاصل کئے۔ دوسری طرف تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوار اظہر حسین رضوی نے سات ہزار سے زائد ووٹ تھے۔

مذہبی رجحان رکھنے والا یہ ووٹ پہلے مسلم لیگ (ن) کو ملتا تھا۔ مسلم لیگ (ن)کی اس کامیابی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مستقبل کی سیاست میں محمد نواز شریف کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہے، عدالتی نااہلی کے باوجود وہ عوام کے دلوں میں رہتے ہیں’’ کل بھی میاں جیتا تھا آج بھی میاں جیتا ہے‘‘۔

مزید :

کالم -