حضرت امام حسینؓ

حضرت امام حسینؓ

لالہء صحرائی ؒ

یاد آ گیا مجھے المِ خانہء بتولؓ

طبعِ حزیں ہوئی ہے مری، اور بھی ملول

قائم کئے ہیں اپنے لہو کے ستون پر

قرآن کے، حسینؓ نے سب دلکشا اصول

رب کی رضا کا عکس تھی، دنیا حسینؓ کی

دنیائیں سب ہماری ہیں، اغراض کی نقول

خونِ رگِ گلو سے ہے دھوئی حسینؓ نے

عرفانِ حق کے چہرے پہ جو جم گئی تھی دھول

کردارِ نوعِ انساں پہ جو قرضِ عشق تھا

وہ کربلا کے سانحہ سے ہو گیا وصول

تابانی ء حسینؓ سے خیرہ ہوا ہے وقت

اہلِ خرد کی ہو گئی ہیں دنگ اب عقول

ذراّتِ ریگِ کربلا کی دائمی ہے ضو

اک روحِ تابناک نے ان میں کیا حلول

نورِ فراستِ نبوی کے تھے وہ امیں

لیکن عدد حسینؓ کے تھے اجہل و جہول

تا یومِ حشر گردشِ دوراں کے درمیاں

’’اے کربلا کی خاک! اس احسان کو نہ بھول

تڑپی ہے تجھ پہ لاشِ جگر گوشہ ء بتولؓ

مولانا ظفر علی خانؒ

مزید : ایڈیشن 1