لہو میں تر فاتح واسطی علی پور

لہو میں تر فاتح واسطی علی پور

لہو میں تر فاتح واسطی علی پور

رن میں پڑے ہیں پھول سے پیکر، لہو میں تر

صحرائے نینوا کا ہے منظر، لہو میں تر

ہاتھوں پہ ہے حسینؓ کے، اصغرؓ لہو میں تر

کُملا گیا یہ پھول بھی، ہوکر لہو میں تر

کیا حشرِ بے کسی ہے، کہ زہراؓ کے لعل کا

حلقومِ خشک ہے تہِ خنجر، لہو میں تر

بہنے لگا ہے، خونِ شہیداں، زمین پر

ہونے لگا ہے، دشت کا منظر، لہو میں تر

ہر سطر خوں چکاں ہے، شہادت کے باب میں

اوراقِ کربلا ہیں سراسر، لہو میں تر

کیا حشرِ انقلاب ہے، اللہ کی پناہ

گلزارِ مصطفےٰ ؐ کا گُلِ تر، لہو میں تر

مقتل میں ہو گیا، قمرِ ہاشمیؓ غروب

نکلا ہے آج چاند فلک پر، لہو میں تر

گُلکاریاں ہیں دامنِ صحرا میں خون سے

ذرّاتِ خاکِ دشت ہیں یکسر، لہو میں تر

تصویرِ مصطفےٰؐ، علیؓ اکبر کہیں جسے

گہنا گیا یہ چاند بھی، ہو کر لہو میں تر

بوسے ہیں جس پہ ثبت، علیؓ و بتولؓ کے

زیبِ سناں ہے آج وہی سر، لہو میں تر

دفنائے کون، فرصتِ غسل و کفن کسے

لاشے پڑے ہیں ریگِ تپاں پر، لہو میں تر

بڑھتی ہی جا رہی ہے، سکینہؓ کی بے کلی

دیکھا ہے کس کا لاشہ ء بے سر، لہو میں تر

خوں بہہ گیا کسی کا، بہایا کسی نے خوں

تاریخِ انقلاب ہے یکسر، لہو میں تر

ایثارِ کاروانِ حسینیؓ کے ہیں گواہ

تیغ و سنان و ناوک و خنجر، لہو میں تر

گزرے ہیں وہ حوادثِ خونیں، نگاہ سے

رہتی ہے چشمِ عابدِ مضطر، لہو میں تر

فاتح، یہ کیوں جبینِ فلک ہے عرق عرق

دیکھا ہے کس کا رُوئے منوّر، لہو میں تر

مزید : ایڈیشن 1