سی پیک کے متعلق خوش آئند اعلان

سی پیک کے متعلق خوش آئند اعلان

چین کے صدر شی چن پنگ نے کہا ہے کہ سی پیک خطے میں امن وترقی کا آغاز ہے جس میں پاک فوج کا کردار بہت اہم ہے پاکستان ہمارا آہنی بھائی اور ہر آزمائش پر پورا اُترنے والا دوست ہے، اس دیرپا اور مثالی دوستی میں پاکستانی فوج کا کردار بڑی اہمیت رکھتا ہے، چین پاکستان کی سٹرٹیجک پارٹنر کے طور پر حمایت جاری رکھے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و امان کی اہمیت سمجھتا ہے سی پیک کی کامیابی کے لئے تمام وسائل استعمال کریں گے اور پاک فوج سی پیک کی سیکیورٹی ہر قیمت پر یقینی بنائے گی آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان چین کی حمایت کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، چینی صدر اور پاکستان کے آرمی چیف نے اِن خیالات کا اظہار بیجنگ میں ملاقات کے دوران کیا جو چینی صدر شی کی خصوصی دعوت پر ہوئی۔

سی پیک کے حوالے سے چین کے صدر اور پاکستان کے آرمی چیف نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اگرچہ وہ پہلی دفعہ تونہیں کہے گئے تاہم آج کے حالات میں ان کا اعادہ بہت ضروری تھا اور چینی صدر شی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے دوران سی پیک پر اگر ایک بار پھر مستحکم خیالات کا اظہار کیا گیاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملک ترقی و خوشحالی کے ضامن اس منصوبے کی تکمیل کے لئے پُرعزم ہیں اور اس کے راستے میں آنے والی مشکلات کو پرِکاہ کے برابر اہمیت نہیں دیتے، ویسے تو جب سے اس عظیم منصوبے کا آغاز ہوا ہے اس کے خلاف کسی نہ کسی انداز میں پروپیگنڈہ ہو رہا ہے اور اسے متنازع بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن گزشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر نے سنسنی پھیلادی تھی کہ سی پیک کے منصوبوں پر نظر ثانی ہوسکتی ہے، چونکہ ملائشیا بھی ایسا کررہا ہے اِس لئے پاکستان میں اس ضمن میں نہ صرف تشویش کی لہر دوڑ گئی بلکہ یہ محسوس کیا گیا کہ سی پیک کی اندرون اور بیرونِ ملک مخالف لابی نے پروپیگنڈے کی مہم تیز کردی ہے اور بھارت اس ضمن میں جو فنڈنگ کررہا ہے وہ برگ وبار لانے لگی ہے، اس ضمن میں وزیر اعظم کے ایک مشیر عبدالرزاق داؤد کا حوالہ بھی آیا جو خود بھی ممتاز صنعت کار ہیں اور سی پیک کے متعلق اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اُن کی کمپنی سی پیک کے بعض منصوبوں کے تعمیراتی کام کے حصول کی خواہش مند تھی لیکن جن پانچ منصوبوں میں شرکت کے لئے اس نے بِڈ میں شرکت کی اُن میں سے کوئی بھی منصوبہ اُن کی کمپنی کو نہیں ملا، برطانوی اخبار کی خبر میں اُن کا انٹرویو بھی شامل ہوا تو پڑھنے والوں نے عبدالرزاق داؤد کے سی پیک کے بارے میں خیالات کو اس کے ساتھ ملا کر دیکھا تو اُن کے کان کھڑے ہوگئے اور اُن کا فوری ردِ عمل یہ تھا کہ شاید سی پیک کے مخالفین کی دیرینہ خواہش پوری ہونے والی ہے، ویسے تو اس انٹرویو کی یہ تردید ضرور کردی گئی کہ یہ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ دراصل عبدالرزاق داؤد کیا کہنا چاہتے تھے اور کیا چھپ گیا اِس لئے وضاحت کے باوجود تشنگی برقرار رہی۔

اب چینی صدر اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے دوران سی پیک کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اس سے یہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ اِن شااللہ ان منصوبوں کی تکمیل ہوگی اور بروقت ہوگی اور انہیں راستے میں ادھورا نہیں چھوڑا جائیگا کیونکہ سی پیک کے منصوبے نہ صرف پاکستان اور چین کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ خطے کی ترقی کے لئے بھی اہم ہیں ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد پورا خطہ باہم مواصلات کے ایک جدید اورلائق اعتماد نیٹ ورک سے مربوط ہو جائے گا اور دنوں کا سفر جب گھنٹوں میں مکمل ہوگا تو ترقی کا پہیہ تیزرفتاری سے چلے گا، لیکن جو قوتیں یا جو دماغ خطے کو پس ماندہ رکھنے کے لئے کوشاں ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو اس لئے وہ کسی نہ کسی بہانے اس منصوبے کو ہدفِ تنقید بناتے رہتے ہیں، کبھی اُنہیں یہ دکھ ہوتا ہے کہ اِن منصوبوں پر چینی انجینئر اور ماہر افرادی قوت کیوں کام کررہی ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی ماہرین پر انحصار کیوں نہیں کیا جاتا کبھی وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ چین سے جو قرضے لئے گئے ہیں وہ بہت مہنگے ہیں، بعض لوگوں کو چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں استعماری عزائم چھپے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں تک مہنگے قرضوں کا تعلق ہے اس کی کئی بار وضاحت کی جاچکی ہے کہ یہ مروجہ طریق کار کے تحت دئے جارہے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی پوشیدہ عزائم نہیں، پھر یہ بات مسلمہ ہے کہ دنیا بھر میں جو کمپنیاں سرمایہ کاری کرتی ہیں وہ اپنے انجینئروں اور ماہرین کی خدمات حاصل کرتی ہیں اور یہ کوئی انوکھا طرزِ عمل نہیں ہے دنیا کی ہر انٹرنیشنل کمپنی ایسا ہی کرتی ہے۔

پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ چینی ماہرین اورانجینئروں کو خوف زدہ کرنے کے لئے بھی بہت سے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں اُن کے اغوا کی وارداتیں بھی ہوچکی ہیں، فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے ہیں یہاں تک کہ بعض کیسوں میں تو چینی ماہرین کو قتل بھی کیا گیا یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کو سی پیک کی سیکیورٹی کے لئے خصوصی فورس بنانی پڑی چینی صدر اور آرمی چیف کی ملاقات میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے خاص طور پر ذکر کیا کہ سی پیک کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائیگا اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب بھی سی پیک کے لئے نہ صرف سیکیورٹی کے مسائل موجود ہیں بلکہ یہ سب کچھ سی پیک کے خلاف مہم کا ہی حصہ ہے اِس لئے چین کے صدر شی چن پنگ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بیجنگ میں ملاقات کے دوران جو خیالات سامنے آئے ہیں ان سے یقین ہو جاتا ہے کہ سی پیک کے مخالفین کواپنی سازشوں کوآگے بڑھانے کاموقع نہیں ملے گا اور اگر حکومت کے اندر بعض عناصر خود اپنے کاروباری مفادات یا کسی ’’دوست ملک‘‘ کی دوستی کی خاطر سی پیک پر ’’نظر ثانی‘‘ کے شوشے چھوڑ رہے ہیں تو انہیں بہت بروقت یہ پیغام مل گیا ہے کہ ایسا نہیں ہونے والا اور سی پیک کا کام جاری رہے گا، جن ملکوں کو یہ منصوبے پسند نہیں، انہیں تو پروپیگنڈہ جاری رکھنے سے نہیں روکا جاسکتا ان ملکوں میں بھارت بھی شامل ہے تاہم پاکستان کے اندر چینی صدر اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات میں ہونے والے دو ٹوک اعلان سے اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے اور شکوک و شبہات کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ