انتخابی دھاندلی، پارلیمانی کمیٹی یا کمیشن؟

انتخابی دھاندلی، پارلیمانی کمیٹی یا کمیشن؟

اطلاع ہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے حزب اختلاف کے قائد اور قومی اسمبلی میں دوسرے پارلیمانی لیڈروں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں تاکہ اجلاس بلا کر پارلیمانی کمیٹی کے لئے اراکین نامزد کئے جا سکیں، یہ کمیٹی انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے تحقیقات کرے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی کی یہ کوشش اس فیصلے کے حوالے سے ہے جس کا اعلان ایوان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا کہ حکومت حزب اختلاف کا مطالبہ تسلیم کرتی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیق کرکے ایوان میں رپورٹ پیش کرے۔ شاہ محمود قریشی نے حزب اختلاف کا یہ مطالبہ بھی قبول کر لیا کہ کمیٹی کے نصف اراکین حزب اختلاف سے لئے جائیں، البتہ یہ بات نہیں مانی گئی کہ چیئرمین بھی حزب اختلاف سے ہو، وزیرخارجہ کے مطابق یہ نام وزیراعظم کی طرف سے آئے گا اور نامزدگی ہوگی۔اس وقت حزب اختلاف میں مسلم لیگ (ن) کے بعد بڑی جماعت پیپلزپارٹی ہے۔ پھر ایم ایم اے ، اے این پی ،بی این پی(مینگل) پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور آفتاب شیرپاؤ کی جماعت بھی شامل ہے۔ اصولی طور پر اپوزیشن کے نام قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے دینا ہیں۔ تاہم روائت کے مطابق وہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں سے مشاورت کریں گے کہ اس وقت پیپلزپارٹی متحدہ حزب اختلاف کا حتمی حصہ (اٹوٹ انگ) نہیں سمجھی جا رہی، اس لئے یہ مسئلہ ذرا تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ اور دھاندلی کا الزام پیپلزپارٹی کی طرف سے بھی ہے۔دوسری طرف سیاسی جماعتوں خصوصاً پارلیمانی پارٹیوں کے لئے ایک اور مسئلہ سامنے آ گیا۔ جب سینٹ کے سابق چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے آواز بلند کی اور کہا کہ صرف قومی اسمبلی کی اجارہ داری منظور نہیں، پارلیمانی کمیٹی نہیں پارلیمانی کمشن بننا چاہیے اور اس میں سینت کو بھی نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سینیٹ کا حق چھیننے نہیں دیا جائے گا۔یہ حالات شاید حکومت کے لئے تو سازگار ہوں، مگر حزب اختلاف کے لئے تاخیر غیرمناسب ہوگی۔ اور اس کا بھی حل نکالنا پڑے گا کہ رضا ربانی کی تائید سینٹ میں بھی کی گئی ہے۔ بہتر عمل یہ ہے کہ پھر سے مشاورت کی جائے کہ جس اپوزیشن نے پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ منوایا اس میں وہ تمام جماعتیں شامل ہیں جن کی نمائندگی سینٹ میں بھی ہے۔اس لئے یہ سب ان جماعتوں کے درمیان باہمی آہنگی اور مشورے سے کوئی مفاہمتی فارمولا بنا لیں، اور سینٹ کو بھی نمائندگی دے دیں، کمیٹی ذرا وسیع تو ہو جائے گی لیکن دونوں ایوانوں کی نمائندگی اسے اور قابل قبول کر دے گی۔ انتخابات میں دھاندلی کا الزام اور پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ محاذ آرائی کا باعث بنتا نظر آ رہا تھا جسے حزب اختلاف کے چیلنج کے باعث حزب اقتدار نے تسلیم کرکے دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔ اب اگر سینٹ سے آواز بلند ہوئی ہے تو اسے بھی نظر انداز نہ کریں اور فیصلہ جلد کر لیں۔

مزید : رائے /اداریہ