مکی آرتھر اور سرفراز کا احتساب ضروری!

مکی آرتھر اور سرفراز کا احتساب ضروری!
مکی آرتھر اور سرفراز کا احتساب ضروری!

  

دوبئی میں جاری ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں روائتی حریف بھارت کی ٹیم نے پاکستان کے شاہینوں کو چاروں شانے چت کردیا، کھیل کے کم از کم دو شعبوں بیٹنگ اور باؤلنگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم پر برتر ثابت ہوئی، کرکٹ ایک کھیل ہے، کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، یہ کھیل تو یوں بھی ’’بائی چانس‘‘ کہلاتا ہے، دنیا کے ہر کھیل میں مقابلہ ہوتا ہے، لیکن یہاں تو یہ معاملہ ہوا کہ ایسا ہوا ہی نہیں میدان میں یہ محسوس ہوا کہ پاکستانی شاہین روائتی جذبہ ہی بھول چکے ہیں، میدان میں احساس ہوتا تھا کہ ان حضرات نے ہاتھ پیر ہی چھوڑ دیئے ہیں، اس گروپ میچ میں پرفارمنس کا یہ عالم تھا کہ بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ اور فیلڈنگ تک کسی بھی شعبے میں ٹیم زمبابوے سے گئی گزری ثابت ہوئی، بیٹنگ میں تو بے بی کرکٹ ٹیم ہانگ کانگ کے مقابلے میں بھی کم تر ثبوت دیا، اس ٹیم کو پاکستان کرکٹ ٹیم نے 8وکٹوں سے شکست دی تھی، (اللہ کا شکر کہ بچ گئے) اور بھارت کی ٹیم سے اتنی ہی وکٹوں سے شکست کھا کر حساب برابر کردیا، حالانکہ بھارت اور ہانگ کانگ کے میچ میں بھارت کو پسینے آگئے تھے کہ ہانگ کانگ کی پہلی وکٹ پر 174 رنز بنے اور اور وہ جیتنے جا رہے تھے کہ قسمت نے ساتھ نہ دیا اور 26رنز سے ہار گئے، اس سے تو ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بہت بلند ہونا چاہئیں تھے لیکن یہاں تو ایسا کھیل ہوا جیسے میچ فکس کیا گیا ہو۔

حسب روائت کپتان سرفراز احمد نے سارا بوجھ بلے بازوں پر ڈال دیا اور وہ یہ بھول گئے کہ یہ شکست خود ان کی اپنی بدولت ہے کہ وہ میدان میں کپتان کی حیثیت سے جدوجہد (فائٹ) کرتے نظر نہیں آئے، بلکہ بیٹنگ میں 162رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد جب فیلڈنگ میں آئے تو ان کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے، خود ان کا اپنا سکور 6رہا، ہمارے نزدیک اس شکست کی ذمہ داری سرفراز احمد، مکی آرتھر اور انضمام الحق کو مشترکہ طورپر قبول کرلینا چاہئے۔

جہاں تک میچ اور پھر مزید کھیل کا تعلق ہے تو شائقین کو ٹوٹے دل کے ساتھ تھوڑا اور انتظار کرلینا چاہئے کہ ابھی سپرفور میں بھارت سے ایک اور میچ ہوگا اور اگر ان کھلاڑی حضرات نے خامیوں پر قابو پایا تو امکانی طور پر دونوں حریف ٹیمیں فائنل میں بھی مدِ مقابل ہوسکتی ہیں بشرطیکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کہیں بنگلہ دیش یا افغانستان سے بھی ہاتھ پیر چھوڑ کر ہار نہ جائے۔

اب ذرا کھیل پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی مکی آرتھر اور کپتان سرفراز ہی ذمہ دار ہیں کہ میچ سے قبل ہانگ کانگ سے جیتنے کے بعد سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ بھارت کے لئے تیار ہیں اور ہم جارحانہ کھیل کھیلیں گے، ان کی یہ ’’جارحیت‘‘ ہی شکت کا باعث بن گئی کہ اوپنر امام الحق نے روائتی تحمل کے بعد تیز کھیلنے کی بجائے ابتدا ہی میں باہر نکل کر بھونیشور کو چھکا مارنے کی کوشش کرلی اور ایج ہوکر کیچ ہوگئے ان کے بعد فخر زمان بھی روائتی کھیل کی بجائے جلد ہی زچ ہو کر بڑی شارٹ کھیلنے کے چکر میں کیچ اچھال بیٹھے۔ اب اگر غور کریں تو آپ کو بابر اعظم اور شعیب ملک کے کھیل میں تحمل، روائت اور پھرتیزی بھی نظر آئے گی اگرچہ اس وقت تک بھارتی باؤلر حوصلہ پاکر ذہنی طور پر مضبوط ہو چکے تھے، یہ دونوں بھی زیادہ دیر جم کر نہ کھیل سکے، بہر حال عزت رکھ لی، جہاں تک شعیب ملک کا تعلق ہے تو وہ رن آؤٹ ہوئے اس میں ان کی تیزی اور نصیب کا تعلق ہے کہ وہ آگے بڑھے لیکن فیلڈر کی ڈائریکٹ ہٹ کی وجہ سے کریز تک نہ پہنچ سکے، یہاں گزارش یہ کرنا ہے کہ دوسرے کنارے پر موجود آصف کو خود قربانی دے کر اپنی وکٹ گنوانا چاہئے تھا کہ شعیب ملک سینئر اور اس وقت سیٹ تھے اور ان میں بڑی ہٹیں لگا کر سکور اوپر اٹھانے کی بھی اہلیت ہے، بہر حال آصف ایسا نہ کرکے خود بھی جارحانہ کھیل ہی ہدایت کا شکار ہوگئے۔

اب ذرا باؤلنگ پر غور کریں کہ محمد عامر روائتی طور پر آؤٹ آف فارم ہی نظر آئے، چیمپئنز ٹرافی کے بعد سے وہ کوئی بہتر کارنامہ سر انجام نہ دے سکے، ان کی گیند بھی سوئنگ نہیں کرتی اور وہ بلاک ہول میں بھی گیند نہیں کرپارہے، اگر وہ ٹیم میں درجہ اول رکھتے ہیں تو ان پر توجہ دیں اور ان کی نفسیاتی کمی دور کریں جو گورے صاحبان نے پیدا کی کہ ان کو روکا اور دوسرے باؤلروں کی پٹائی کی مسلسل وکٹ نہ ملنے سے وہ دباؤ میں ہیں ان کی لائن لینتھ دوبارہ سمجھانے اور ان کو پرانی ویڈیو دکھانے کی ضرورت ہے یا پھر ان کو کچھ عرصہ کے لئے ڈراپ کردیں ایک اور امر پر غور لازم ہے، شاداب خان کا میڈیکل بورڈ سے چیک اپ کرائیں کہ کیا وہ واقعی ’’ان فٹ‘‘ ہوئے یا جان بچا کر پویلین میں چلے گئے۔

ہمارے اندازے کے مطابق ٹیم میں سب اچھا نہیں، سرفراز احمد مسلسل ناکام جارہے ہیں، نہ صرف یہ کہ ان سے سکور نہیں ہوتا، وہ وکٹ کیپنگ میں بھی معیاری کھیل کا مظاہرہ نہیں کررہے، معلوم نہیں کہ وہ کون سی پرچی ہے جس نے تمام سابقہ اصول توڑ کر ان کو ہر تین قسم کی ٹیموں کا کپتان بنا دیا، قسمت ہو تو ایسی کہ پہلے فارمولا الگ الگ کپتان کا تھا، فکر نہ کریں یہ مصباح الحق اور محمد حفیظ کی باری تھا، سرفراز کی لابی تگڑی ہے، بہتر یہی ہے کہ اگلے میچ سوچ سمجھ کر حوصلے سے کھیلیں اور ایک کے بدلے میں بھارت کو دوبار ہراکر ٹرافی تو جیت ہی لیں۔

مزید : رائے /کالم