الزام تراشیاں نہیں، کھلے مناظرے !!

الزام تراشیاں نہیں، کھلے مناظرے !!

نئی حکومت کے ترجمانوں، وزراء و دیگر رہنماؤں وغیرہ نے پارٹی قیادت کی ہدایت پر وضع کردہ حکمتِ عملی کے تحت ملکی میڈیا چینلز پر آن آن کر سابق وفاقی و صوبہ پنجاب کی حکومتوں (یعنی موجودہ اپوزیشن) کے منصوبہ جات، مالیاتی پالیسیوں اور دیگر اقدامات وغیرہ پر جارحانہ انداز میں، جائز و ناجائز طور پر، کیڑے نکالنے اور الزامات دھرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اگرچہ، اس سے قبل بھی ہر تبدیلی حکومت پر کم و بیش یہی رویہ دیکھنے میں آتا رہا ہے، مگر اس بار حکومتی زبان و بیاں اور الزام تراشیوں میں گرمی و تندی ماضی کے مقابلے میں بام عروج پر ہے۔ مذکورہ سابق حکومتوں کے جملہ منصوبوں اور سکیموں میں بے تحاشا کرپشن، اربوں روپے کی کک بیکس (Kick Backs) غیر شفافیت اور ناقص مالی و انتظامی بے اعتدالیوں کے الزامات اپنے تئیں پورے تیقن کے ساتھ لگائے جا رہے ہیں الزامات کی پٹاری سے میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، لیپ ٹاپ سکیم، دانش سکولز، ہزاروں ارب روپے کی قرض داری، گیارہ سو ارب روپے سے زائد کا گردشی قرضہ اور نجانے کیا کیا کچھ چن چن کر نکالا جا رہا ہے! چلو، نوبت یہیں تک رہتی تو کہہ لیتے کہ گھر کی بات گھر ہی میں تو ہے!

ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ دوست ممالک کے ساتھ ’’ایل این جی‘‘ (LNG) کے معاہدوں کے علاوہ ’’چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری‘‘ یعنی CPEC جیسے قومی نوعیت کے منصوبوں پر بھی انگلی اٹھانے کے بعد نظرثانی (Review) کا عندیہ دے کر قوم اور ہر دو متعلقہ دوست ممالک کو ان معاہدوں سے شعوری و غیر شعوری طور پر بد گمان و بدظن کیا جا رہا ہے۔ یہ باور کرانے کی چنداں ضرورت اس ضمن میں نہیں کہ بد گمانی اور شکوک و شبہات ایک بار دلوں میں جا گزین ہو جائیں تو پھر مٹائے نہیں مٹتے! لا محالہ، اس غیر ذمہ دارانہ اندازِ سیاست کے باعث دنیا بھر میں وطن عزیز کی پوزیشن الگ خراب ہوتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ دوسری جانب، بدقسمتی یہ بھی ہے کہ حکومتی ترجمانوں کے ان تابڑ توڑ حملوں کے جواب میں سابق حکومتوں (موجودہ اپوزیشن) کے مختلف سیاسی رہنما یا متعلقہ سابق ذمہ داران مختلف میڈیا چینلز پر جزواً جزواً (In Piecemeal) صفائیاں دینے کی سعی کرتے نظر تو آتے ہیں، مگر الزامات کی بوچھاڑ کے آگے ان کی وضاحتیں اور صفائیاں زیادہ موثر، جاندار یا تسلی بخش محسوس نہیں ہوتیں۔

 

تاہم، اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ حکومتی ترجمانوں کی جانب سے کی جانے والی الزام تراشیاں کلی طور پر حقیقت پر مبنی ہیں۔۔۔ لہٰذا عوام الناس کی کماحقہ آگاہی اور تسلی وتشفی کے لئے اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ الزامات لگانے والے (موجودہ) حکومتی ترجمانوں اور الزامات کی زد میں آنے والے متعلقہ سابق سربراہانِ ادارہ و محکمہ جات کو میڈیا چینلز پر آمنے سامنے بٹھا کر تصدیق شدہ دستاویزات اور مسلمہ اعداد و شمار کی بنیاد پر سیر حاصل کھلے مناظروں (Open Debates) کے سلسلے کا اہتمام و آغاز کرایا جائے۔ فریقین کو اس بات کا پابند بھی کیا جائے کہ مناظرے ادھورے چھوڑ دینے کی بجائے ایشو بہ ایشو منطقی انجام (Logical End) تک پہنچنا چاہئیں تاکہ عوام الناس کے روبردودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو سکے۔

 

اس ضمن میں ایک تجویز اس ناچیز کی یہ بھی ہے کہ اس نوعیت کے مناظروں کا سلسلہ نہ صرف موجودہ دورِ حکومت، بلکہ مستقبل میں بھی جاری و ساری رہنا چاہئے۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ موجودہ حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں باہمی مشاورت سے مناظروں کے مجوزہ سلسلے کو، مناسب پارلیمانی قواعد و ضوابط مرتب کر کے، لازمی قرار دلوائیں۔۔۔ آخر میں موجودہ حکومت سے استدعا ہے کہ وسیع تر قومی مفاد کی خاطر وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالفت برائے مخالفت کا شعار اپنانے کی بجائے مذکورہ بالا سابق حکومتوں کے احسن اقدامات کو تسلیم کریں اور جانے والے، اچھے کام جہاں چھوڑ گئے ہیں، وہیں سے انہیں آگے بڑھائیں۔ آیئے، یہ نئی روایت ڈال دیجئے وطنِ عزیز کو مل جل کر ہی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔۔۔ پاکستان، پائندہ باد!

مزید : رائے /کالم