کربلا کی یاد

کربلا کی یاد
کربلا کی یاد

  

کائنات میں اسلام کی نشرواشاعت اور اس کی بقا کے لئے بے شمار مسلمان شہید کئے گئے مگر ان تمام شہداء میں سید الشہداء حضرت امام حسینؓ کی شہادت بے مثل ہے۔ تاریخ میں اسلام کی سربلندی کے لئے آپؓ نے لازوال قربانی پیش کی ۔ امام عالی مقامؓ کی شہادت پر پوری کائنات میں سب سے زیادہ گریہ کی گئی ۔ جس نے یزیدیت کو مردہ کر دیا ۔ اسے دنیا میں نہیں پھیلنے دیا اور دین اسلام کو مسخ ہونے سے بچالیا ۔ کربلا کے سفر میں امام عالی مقامؓ کے تین صاحبزادے آپؓ کے ہمراہ تھے۔ یہ کربلا میں شہید ہو گئے۔ آپؓ کی ایک صاحبزادی حضرت سکینہؓ بھی ہمراہ تھیں۔

امام عالی مقامؓ کی دو بیویاں آپؓ کے ہمراہ تھیں۔ ایک شہربانو اور دوسری حضرت علی اصغرؓ کی والدہ ۔ حضرت امام حسنؓ کے چار نوجوان صاحبزادے آپ کے ہمراہ تھے جو کربلا میں شہید ہوئے۔ حضر ت علی کرم اللہ وجہہ کے پانچ فرزند آپؓ کے ہمراہ تھے۔ سب نے شہادت پائی اور حضر ت عقیلؓ کے فرزندوں میں سے حضرت مسلمؓ تو حضرت امامؓ کے کربلا میں پہنچنے سے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے اور تین فرزند امام عالی مقامؓ کے ہمراہ حاضر ہو کر شہید ہوئے اور حضرت جعفرؓ طیار کے دو پوتے حضرت محمد و حضرت عون حضرت امامؓ کے ہمراہ حاضر ہو کر شہید ہوئے۔ ان کے والد کا نام عبداللہ بن جعفر ہے اور حضرت امام حسینؓ کے حقیقی بھانجے ہیں۔ ان کی والدہ حضرت زینبؓ حضرت امامؓ کی حقیقی بہن ہیں۔

صاحبزادگان اہل بیت میں سے کل 17حضرات امام عالی مقامؓ کے ہمراہ مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے اور حضرت امام زین العابدینؓ، عمرؓ بن حسنؑ ، محمد بن عمرؓبن علیؓ اور دوسرے کم عمر صاحبزادے قیدی بنائے گئے۔ (سوانح کربلا)

مٹی میں مل گئے ارادے یزید کے

لہرا رہا ہے آج بھی پرچم حسینؓ کا

حضرت امام حسینؓ جب مکہ شریف سے باہر نکلے تو حاکم مکہ عمروبن سعید کے حکم سے ایک فوجی دستہ نے شہر سے باہر آکر آپؓ کو روکا اور چاہا کہ واپس چلیں۔ حضرت امام حسینؓ نے واپس ہونے سے انکار کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں طرف کے لوگوں میں مارپیٹ ہوئی ۔ آپؓ کے ساتھی بڑی بہادری سے فوجی دستہ کی مزاحمت کو روکنے پر تیار تھے۔ اس لئے ان لوگوں کو ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا اور قافلہ آگے روانہ ہو گیا (طبری ص213 ج 2 )

جب آپ مقام صفاح تک پہنچے تو فرزوق شاعر سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نے اس سے کوفہ والوں کا حال دریافت کیا ۔ کہا کہ ان کے دل آپ کی طرف ہیں لیکن ان کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہوں گی۔ آپ نے فرمایا تم سچ کہتے ہو لیکن ہر بات اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اگر اللہ نے ہماری خواہشوں کے مطابق کیا تو ہم اس کا شکر ادا کریں گے اور اگر قضائے الٰہی ہمارے مطلب کے خلاف ہوئی تو انسان کے لئے یہی کیا کم ہے کہ اس کی نیت میں خلوص اور اس کے دل میں پارسائی ہو ۔ (طبری ص214 ج 2 )

حضرت امام حسینؓ فرذوق سے گفتگو کرنے کے بعد جب آگے بڑھے تو آپ کے بھانجے حضرت محمد اورعون راستے میںآکر آپ سے ملے اور اپنے والد گرامی حضرت عبداللہ بن جعفر طیارؓ کا خط آپؓ کی خدمت میں پیش کیا ۔ اس میں لکھا تھا کہ میں آپؓ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپؓ میرا خط دیکھتے ہی واپس چلے آئیے۔ اس لئے کہ جہاں آپؓ جارہے ہیں وہاں آپؓ کی ہلاکت اور اہل بیت کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر خدانخواستہ آپؓ ہلاک ہو گئے تو دنیا میں اندھیرا چھا جائے گا۔ آپؓ ہدایت والوں کے رہنما اور مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ سفر میں جلدی نہ کیجئے ۔ اس خط کے پیچھے میں بھی آرہا ہوں۔ (طبری ص216 ج 2 )

صاحبزادوں کے بدست خط روانہ کرنے کے بعد حضرت عبداللہ بن جعفرؓ حاکم مکہ ، عمروبن سعید سے جا کر ملے اور اس سے گفتگو کر کے حضرت امام عالی مقامؑؓ کے لئے امان کا پروانہ حاصل کیا اور حضرت کے اطمینان کے لئے عمروبن سعید کے بھائی یحیٰی بن سعید کو ساتھ لے کر آپ کے پاس پہنچے ۔ یحییٰ نے خط پیش کیا اور آپ نے اسے پڑھا مگر واپس آنے سے انکار کیا۔ ان لوگوں نے کہا کہ آخر کیا بات ہے؟ آپؓ عراق جانے پر اس قدر بضد کیوں ہیں؟ حضرتؓ نے فرمایاکہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت کی ہے ۔ آپ ﷺ نے اس خواب میں جو حکم فرمایا ہے وہ میں ضرور پورا کروں گا۔ چاہے اس میں ہمارا نقصان ہو یا فائدہ ! ان لوگوں نے کہا کہ وہ خواب کیا ہے؟ آپؓ نے فرمایا کہ وہ خواب اب تک نہ میں نے کسی سے بیان کیا ہے اور نہ بیان کروں گا یہاں تک کہ اپنے خدا سے جاملوں۔ (طبری ص216 ج 2)

امام عالی مقامؓ نے عمرو بن سعید کی تحریر کا جواب لکھ کران کے سپرد کیا ۔ حضرت عبداللہ کچھ مجبوریوں کے سبب اس سفر میں آپؓ کے ساتھ نہیں جاسکتے تھے۔ انہوں نے اپنے صاحبزادگان عون ومحمد کو آپ کے ساتھ رہنے کی ہدایت کی اور خود واپس ہوگئے۔ ابھی آپؓ تھوڑا سا چلے تھے کہ حر کے سپاہیوں نے آکر روک دیا اور کہا کہ بس یہیں اتر پڑیئے ۔ دریائے فرات یہاں سے دور نہیں ہے۔ آپؓ نے پوچھا اس جگہ کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے کہا اس کا نام کربلا ہے۔اس لفظ کو سنتے ہی آپؓ گھوڑے سے اتر پڑے اور فرمایا یہ کربلا ہے جو مقام کرب و بلاہے۔ یہیں ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ (یہیں ہمارے مال و اسباب اتریں گے اور اسی مقام پر ہمارے ساتھی شہید کئے جائیں گے)۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ حضرت امام عالی مقامؓ کے ساتھ کل 82 آدمی ہیں ۔ جن میں بیبیاں اور بچے بھی ہیں اور پھر جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے ۔ اسی لئے جنگ کا سامان بھی نہیں رکھتے تھے۔ مگر اہل بیت نبوت کی شجاعت اور بہادری کا ابن زیاد کے دل پر اتنا اثر تھا کہ ان کے مقابلے کے لئے 22 ہزارکا لشکر جرار بھیج دیا ۔

تیر و نیزہ و شمشیر کے 72 زخم کھانے کے بعد آپؓ سجدے میں گرے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے واصل حق ہو گئے۔ 56 سال 5 ماہ 5 دن کی عمر مبار ک میں جمعہ کے دن محرم کی دسویں تاریخ 61 ہجری مطابق 680 ؁ء کو امام عالیٰ مقامؓ نے اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی۔

واقعہ کربلا کے بعد دنیا میں دو طرح کے انسان آئے: ایک حسینی اور دوسرے یزیدی۔ اللہ کا شکر ہے ہم حسینی ہیں۔ یزیدیوں نے سمجھا کہ ہم نے حسین ؑ کو مار ڈالا اور وہ مر گئے ۔ لیکن زمین کربلا کا ذرہ ذرہ زبان حال سے ہمیشہ یہ پکارتا رہے گا کہ حسینؓ معصوم ہیں ، مظلوم نہیں!

قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلا کے بعد

مزید : رائے /کالم