پاکستان ایک خوبصورت راز

پاکستان ایک خوبصورت راز
پاکستان ایک خوبصورت راز

  

’’پاکستان ایک ایسا خوبصورت راز ہے، جسے دنیا کی نظروں سے بڑی حفاظت سے چھپا کر رکھا گیا ہے، اس سحرانگیز زمین نے میرا دل چرالیا ہے۔ آج کل مَیں اپنے ملنے والوں سے پاکستان سے محبت کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا‘‘۔ یہ تاثرات میکسیکو نژاد امریکی شہری آرتیوروکاستیلانوس کے ہیں جو امریکہ کے انتہائی ممتاز تعلیمی ادارے کارنل سکول آف لاء میں قانون میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ آرتیو رونے یہیں سے ایل ایل ایم کیا تھا، جس کے بعد وہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، انہوں نے گزشتہ دنوں پاکستان کا دس دن کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد ان کا محبت بھرا خط پاکستان کے ایک ممتاز انگریزی اخبار میں شائع ہوا تھا، جس کی نقل ہمارے ایک مہربان امریکہ میں مقیم پاکستان کے ایک شیدائی قمر بدرالدین کی معرفت موصول ہوئی۔

آرتیورونے لکھا ہے کہ انہوں نے دنیا کے بہت سے ملکوں کا دورہ کیا ہے، لیکن انہیں کہیں بھی گرمجوشی کا ویسا ماحول میسر نہیں آیا، جیسا انہوں نے پاکستان میں دیکھا۔ یہاں کے کرتے اتنے شاندار ہیں کہ ان کا رنگ اور سٹائل ہی انسان کو حیرت زدہ کردیتا ہے۔ لوگوں کا مذہبی لگاؤ اور دل کو گرما دینے والی روحانیت ذہن کو ایک عجیب ساگداز بخشتی ہے۔ کرکٹ کا جنون تو جیسے چھوکر لگنے والی بیماری کی طرح پھیلا ہوا نظر آتا ہے، قوالی کی تال اور دھمال اس قدر جوش و خروش پیدا کرتی ہے کہ میرے لئے خود کو رقص سے روکنا ممکن نہیں تھا۔ پاکستان نے میری توقعات کا معیار اس قدر بلند کردیا ہے کہ اب مجھے دنیا میں کہیں اور یہ توانائی اور ولولہ میسر آنے کا امکان نظر نہیں آتا۔

آرتیو رونے اپنے خط میں جن مقامات کا ذکر کیا ہے، ان میں لاہور کا شاہی قلعہ اور عطا آباد کی جھیل شامل ہیں، انہوں نے کچھ اور مقامات بھی دیکھے ہوں گے، لیکن اگر وہ پاکستان کے تمام قابل دید مقامات کی سیر کرلیتے تو نہ جانے ان کاکیا حال ہوتا۔ پاکستان کی خوبصورتی کے حوالے سے عموماً اس کے شمالی علاقوں کا ذکر آتا ہے، جومنفرد نوعیت کے حسین مناظر سے مالا مال ہیں، لیکن پاکستان کا جنوب بھی سیاحوں کے لئے اپنے اندر کس قدر کشش رکھتا ہے، اس کا اندازہ مجھے سلطنت اومان کی سیاحت کے دوران ہوا۔ اومان میں قدرتی حسن کے لحاظ سے سلالہ کی حیثیت پورے مشرق وسطیٰ کے لئے وہی ہے، جو پاکستان میں مری کی ہے۔ یہاں سردیوں میں برف تو نہیں پڑتی، البتہ گرمیوں میں بارشیں سلالہ کو گل و گلزار بنا دیتی ہیں، جس سے لطف اندوز ہونے کے لئے عرب ملکوں سے شیوخ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سلالہ کا یہ سہانا منظر یورپی سیاحوں کے لئے کوئی کشش نہیں رکھتا، بلکہ وہ سردیوں میں اومان کے صحرائی علاقوں میں بڑی تعداد میں آتے ہیں، جہاں ان کے قیام کے لئے فائیو سٹار ہوٹلوں کی سہولت موجود ہے۔

ہمارے عزیز مہربان سمیر قریشی نے جن کی زندگی اومان کے دشت کی سیاحی میں گزری ہے، اس کی وجہ یہ بتائی کہ یورپ میں نہ تو حسین مناظر کی کمی ہے اور نہ بارشوں کی اس کے علاوہ وہاں لوگوں کی بھیڑ بھی اچھی خاصی رہتی ہے، جس سے بچنے کے لئے امن و سکون کے متلاشی یورپی سیاح اومان کے صحرائی علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ صحرا میں موجود تاریخی مقامات ان کا دل لبھانے کے لئے کافی ہوتے ہیں، جنہیں دیکھنے کے لئے وہ جہاز بھر بھر کے آتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کے جنوب میں ایک وسیع اور خوبصورت ساحل سمندر سے لے کر ملتان میں شاہ رکن الدین عالم کے مزار تک موہن جوداڑو سمیت دیگر تاریخی مقامات کس قدر مقناطیسیت رکھتے ہوں گے، کسی نے اس کے بارے میں شاید یہی سوچا ہو۔

چوکنڈی کا قبرستان، ٹھٹھہ کی مسجد شاہجہانی، خیر پور کا فیض محل، نگرپارکرکا جبن مندر، اکبر بادشاہ کی جائے پیدائش عمر کوٹ میں ھاروی کا کنواں، رانی کوٹ کا قلعہ چوکنڈی کی منفرد قبریں، عبداللہ شاہ غازی، شاہ لطیف بھٹائی اور لال شہباز قلندر کے مزار، ہالہ میں ہاتھ کے بنائے ہوئے ظروف اور دیگر ساز و سامان، سمیت سیاحوں کی دلچسپی کے مراکز کی ایک طویل فہرست ہے، جس کا ذکر ایک علیحدہ مضمون کا تقاضا کرتا ہے۔ اس وقت تو بات دریائے سندھ کے کنارے سکندر اعظم کے آباد کئے ہوئے شہر اسکندریہ پر ختم کرنا مناسب ہوگا، جو اب اوچ شریف کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کا ذکر سندھ کی تاریخ سے متعلق حال ہی میں بارورڈ یونیورسٹی سے شائع ہونے والی ایک اہم تحقیقی کتاب ’’دی کونکیسٹ آف سندھ‘‘ میں مرکزی نکتے کے طور پر آیا ہے، کتاب میں محمد بن قاسم سے لے کر قیام پاکستان تک کے تاریخی سفر کے دوران ہونے والے انکشافات کے علاوہ اوچ شریف میں بی بی جیوندی کے مقبرے سمیت دیگر مقابر اور مساجد کا بھی ذکر ملتا ہے،

جس سے پاکستان میں بہت کم لوگ آگاہ ہوں گے۔ مقابر کا ذکر آئے تو ملتان میں شاہ رکن الدین عالم کے مقبرے کے فن تعمیر کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اور ملتان سے پہلے بہاولپور بھی توجنوب میں ہی ہے، جہاں نورمحل سلطان مسجد اور ہرنوں کی افزائش کے لئے قائم نیشنل پارک قابل دید مقامات ہی ہیں، لیکن دیکھ بھال سے محروم قلعہ دراوڑ ان سب پر بھاری ہے۔ بہاولپور سے تیس میل دور صحرائے چولستان کی اپنی دنیا ہے، جس کی خوبصورتی سے فی الحال تو عرب شیوخ ہی مستفید ہو رہے ہیں، جو وہاں تلور کا شکار کھیلنے آتے ہیں، لیکن یورپی سیاحوں کو بھی اس کا دیدار کرا دیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یورپی شیخ بھی سردیوں میں یہیں ڈیرے لگایا کریں۔

جنوب کے یہ قابل دید مقامات اپنے اندر ایک بہت بڑا خزانہ لئے ہوئے ہیں۔ جن تک رسائی صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے، جب ان مقامات سے سے لطف اندوز ہونے کے لئے درکار سہولتیں یعنی معیاری ہوٹل گاڑیاں وغیرہ آسانی سے میسر ہوں اور کوئی انتظام ہوسکے یا نہ ہوسکے ہر تاریخی اور قابل دید مقام پر اعلیٰ معیار کے واش روم کا انتظام ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس کی ہمہ وقت صفائی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ادھر حالات یہ ہیں کہ مثال کے طور پر شالا مار باغ جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل تاریخی مقام میں واش روم اس نوعیت کا ہے کہ کسی غیر ملکی سیاح سے چھپا کررکھنا ہی بہتر ہے۔

دوسری طرف پاکستانی شہریوں کے لئے یہ انتظام انتہائی تکلیف دہ ہے، خاص طور پر خواتین کے لئے جن کی مشکلات پر ہمارے معاشرے میں کم ہی توجہ دی جاتی ہے، یہ ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف اس لئے حل نہیں ہو رہے، کیونکہ عام مسائل ہونے کی وجہ سے انہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔پاکستان کے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کو سیاحت کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اس کی مدد سے ملک گیر سطح پر یہ مسائل آسانی سے حل کئے جاسکتے ہیں، یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے سیاست کا شعبہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، چنانچہ ان کی ذاتی دلچسپی کے سبب امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں جنوب سمیت سیاحت کی صنعت تیزی سے اور زبردست ترقی کرے گی، جس کے ذریعے نہ صرف دنیا بھر کے سیاح نیا پاکستان دیکھ سکیں گے، بلکہ خود پاکستانیوں کو پاکستان نیا نیا سا لگنے لگے گا۔

مزید : رائے /کالم