کالا باغ ڈیم ، کیوں اور کیوں نہیں ؟

کالا باغ ڈیم ، کیوں اور کیوں نہیں ؟
کالا باغ ڈیم ، کیوں اور کیوں نہیں ؟

  

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت کے مسلہ پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ملک میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے زیر انتظام فنڈ جمع کرنے کی مہم کا اعلان کیا۔ ان ڈیموں میں بھاشا اور دیا میر کے مقام پر پانی کے بڑے ذخائر تعمیر کرنا ہے۔ ایک اور سماعت کے موقع پر انہوں نے کہہ دیا کہ کالا باغ ڈیم سمیت تمام ڈیم اتفاق رائے سے تعمیر کئے جائیں گے اور مخالفت کرنے والوں کے خلاف آئین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا ۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا ذکر آیا تو صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام سمیت تمام قوم پرست سیاسی عناصر اس کے خلاف مہم جوئی پر نکل کھڑے ہوئے۔ اخبارات میں بیانات کا بھونچال آگیا۔ بعض شہروں میں جلوس بھی نکالے گئے۔

اسی دوران حیدر آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک طویل قراردار منظور کر دی جس میں کہا گیا کہ دریائے سندھ پر کوئی بھی ڈیم تعمیر نہیں کیا جائے۔ جس اجلاس میں یہ قرار داد منظور کی گئی اس میں صدر اور جنرل سیکریٹری اپنی اپنی مصروفیات کی وجہ سے موجود نہیں تھے۔ صوبہ سندھ میں کالا باغ کے مقام پر دریائے سندھ پر ڈیم کی تعمیر کے خلاف کئی عشروں سے رائے عامہ ہموار ہے۔ سندھ اسمبلی بھی اس کی تعمیر کے خلاف قرار دار منظور کرچکی ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان اسمبلیاں بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف اپنی قراردادوں میں اظہار کرچکی ہیں۔

پاکستان میں پانی کی شدید قلت سے اکثر مقامات بری طرح متاثر ہیں۔ کئی علاقوں میں کاشت کاری ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ بعض علاقوں میں لوگ پینے کے پانی کی صبر آزما قلت سے دوچار ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے مسلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے کسی نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے سندھ کے دوروں کے مواقع پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا عندیہ دیا تھا، لیکن انہوں نے بھی پانی کی قلت کی سنگینی کا تدارک نہیں کیا۔ ایک موقع پر تو حیدرآباد میں یہ تک کہہ دیا کہ انہوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا ذکر کرکے شوشہ چھوڑا تھا۔ اس سے قبل 1998ء میں سندھ پنجاب کی سرحد پر پیپلز پارٹی نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف دھرنا دیا تھا، جس میں مرحومہ بے نظیر بھٹو بھی شریک ہوئی تھیں۔

سندھ کے لئے یہ مسلہ زندگی اور موت کا مسلہ بنا دیا گیا ہے۔ سندھ کے اعتراضات ، خدشات اپنی جگہ ضرور درست ہوسکتے ہیں، لیکن اعتراضات کیا ہیں؟ کیا ان اعتراضات کی بنیاد ٹیکنیکل ہے، جیسا کہ خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کا اعتراض ہے کہ اس ڈیم کی وجہ سے نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ بار ایسوسی ایشن کی قرار دار قائم مقام صدر وسیم شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئی۔ ان سے جب گفتگو ہوئی تو انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے نتیجے میں سندھ کے لوگ پینے کے پانی کے لئے بھی ترس جائیں گے، زراعت اور کاشت کاری تو دور کی بات ہے۔ عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے دوران اس میں ایسی گنجائش رکھ دی جائے گی جس کی وجہ سے پنجاب اپنی ضرورت کے پیش نظر اپنے حصے سے زیادہ پانی استعمال کرلے گا جس کا کوئی تدارک نہیں ہو سکے گا۔

پاکستان میں وفاق کی ہیئت اور صوبوں میں آبادی کے قدرتی عدم توازن کی وجہ سے وفاقی سیاست مشکل کام ہے۔ پھر ماضی میں کئی واقعات کے علاوہ بعض ایسے واقعات ہیں، جن کی وجہ سے وفاق کو ماضی میں بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ 1970ء کے ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر کرائے جانے والے پہلے عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار نہیں سونپا گیا تو پھر تاریخ نے کروٹ لی اور ایک نئی انمٹ تاریخ رقم کر دی گئی۔ دوسرا واقعہ آبادی کے لحاظ سے اس وقت کے بڑے صوبہ مشرقی پاکستان کو پارلیمنٹ میں مغربی پاکستان کے ہم پلہ کرنے کے لئے صوبوں پر مشتمل ون یونٹ قائم کیا گیا، جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں تو ردعمل پیدا ہی ہوا، لیکن مغربی پاکستان میں بھی صوبوں کے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی تھی۔ تیسرا واقعہ چشمہ جہلم لنک کنال کے قیام کے مقاصد سے تجاوز کیا گیا۔

سیلاب کے دوران اس نہر کو کھولنا ہی قانونی تقاضہ اور مقصود تھا، لیکن ایک موقع پر جب پانی کی قلت تھی تو اس وقت کے پنجاب کے گورنر جنرل جیلانی کی ہدایت پر کنال کو کھول دیا گیا۔ جس کی وجہ سے سندھ کو ملنے والے اس کے حصے کے پانی میں کمی پیدا ہوئی تھی اور کاشت کاروں کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ سندھ میں جب پنوں عاقل کے مقام پر فوجی چھاؤنی تعمیر ہونے کا منصوبہ سامنے آیا تھا تو اس کے خلاف بھی ایسے ایسے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ جنہیں سن کر ہی خوف آتا تھا، لیکن جب چھاؤنی مکمل ہوگئی تو آج اس علاقہ کے لوگ اس کے قیام کی وجہ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی واقع ہوگئی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے قیام کے باوجود سندھ کو اپنے حصے میں پانی کی قلت کی شکایت رہتی ہے۔ یہ شکایت کتنی جائز ہوتی ہے، لیکن ارسا کے اراکین نے جن کا تعلق چاروں صوبوں سے ہے، تفصیلی وضاحت کرنے سے گریز ہی کیا ہے۔ موٹی موٹی شکایات کی وجہ سے پاکستان کے وفاقی یونٹوں کے عوام کے درمیان ایسی بداعتمادی پیدا ہوگئی ہے جسے دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ حکومت یا سپریم کورٹ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے عناصر سے ان کے اعتراضات کی بنیاد تو معلوم کرے۔ ایسے گروپوں سے ملاقاتوں کے طویل سلسہ کا آغاز کیا جائے۔ اگر ڈیموں کی تعمیرات کے ماہرین جن میں بین الاقوامی ماہرین کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے، ان اعتراضات کے ٹیکنیکل پہلوؤں کے پیش نظر سندھ، خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے اعتراضات کے حق میں رائے رکھتے ہیں تو کالا باغ کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کے معاملہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے۔ بار بار یہ ذکر کرکے کہ صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، معاملہ کو زندہ رکھنا کسی طور پر بھی دانش مندانہ حکمت عملی نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم