وزیراعظم عمران خان اور بیورو کریسی

وزیراعظم عمران خان اور بیورو کریسی
وزیراعظم عمران خان اور بیورو کریسی

  

وزیراعظم عمران خان نے چند روز پہلے سول بیوروکریسی سے خطاب کیا ہے۔ اُن کا لہجہ اُن کے ماضی اور مزاج کے برعکس خاصا مصالحانہ تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ بیوروکریٹوں کے نام لے کر کہا کرتے تھے کہ اوئے فلانے میں اقتدار میں آکر تمہیں اُلٹا لٹکا دوں گا، لیکن اب انہوں نے یہاں تک کہا کہ مجھے آپ کی سیاسی وابستگیوں سے کوئی غرض نہیں، گویا سول سرونٹس کی سیاسی وابستگیاں ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں، حالانکہ الیکشن سے پہلے تک تو انہی لوگوں کو روزمطعون کیا جاتا تھا کہ یہ شریف فیملی کے غلام ہیں، پھر قانون اور آئین کی رو سے سول سرونٹ کوئی سیاسی وابستگی نہیں رکھ سکتا، اُس کی وابستگی تو سٹیٹ سے ہوتی ہے۔ مسلم لیگ کی حکومت پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اُن کے دور میں بیوروکریسی Politicize ہوگئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت میں پیدا ہوئی تھی، کیونکہ پوری سوسائٹی پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو میں تقسیم ہوگئی تھی، لہٰذا بیوروکریسی بھی رجحان کا شکار ہوگئی۔ پتہ نہیں وزیراعظم صاحب کو کس نے بریف کیا۔ مصالحانہ رویئے کا مشورہ تو میں نے بھی ایک پچھلے کالم ’’عمران خان اور حکمرانی کا چیلنج‘‘ میں دیا تھا اور کہا تھا کہ آپ سول سرونٹس کو اعتماد میں لیں اور اُن کے ماضی کو بنیاد نہ بنائیں تاکہ وہ آپ کے ساتھ آسانی سے کام کر سکیں۔

بیوروکریسی کے ساتھ کسی حکومت یا وزیراعظم کا رویہ اور تعلقات حکمرانی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ عمران خان کے مصالحانہ خطاب سے مجھے معین قریشی کا بیوروکریسی سے خطاب یاد آگیا۔ وہ وقت اور تھا اور یہ خطاب بھی الوداعی تھا، انہوں نے انگریزی میں خطاب کیا اور کھری کھری سنائیں۔ میں اُس تقریب میں موجود تھا، انہوں نے کہا کہ آپ میں بہت سے لوگ بڑے لائق ہیں اورقابل قدر کام کر رہے ہیں لیکن بہت سے لوگ سول سرونٹس کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ ایک روایت ہے کہ پیپلزپارٹی کے پہلے دور میں ڈاکٹر مبشر حسن وزیر خزانہ تھے، انہوں نے بھی اپنی وزارت کے اعلیٰ حکام سے خطاب کیا اور اُن کی خوب خبر لی اور آئندہ کے لئے اپنی پالیسی بتائی۔ اجلاس ختم ہوا تو سب لوگ واپس اپنے اپنے دفتر پہنچ گئے۔ ایک گروپ اپنے ایک سینئر کے ساتھ اُن کے دفتر پہنچا۔ چائے کا آرڈر دیا گیا اور وزیر خزانہ کی تقریر پر تبصرہ شروع ہوگیا۔ تبصرے کا لب لباب یہ تھا کہ دیکھو یار یہ کام کرتے کرتے ہمارے بال سفید ہو گئے ہیں اور اب ڈاکٹر مبشر حسن صاحب ہمیں بچہ اور جاہل سمجھ کر اقتصادیات کا سبق پڑھا رہے ہیں، حالانکہ وہ خود انجینئر ہیں۔ اس دوران نائب قاصد چائے سرو کر رہا تھا۔ اُس زمانے میں چھوٹا طبقہ پیپلزپارٹی کا بڑا پُرجوش حامی تھا، اُس نے یہ سارے تبصرے پارٹی کے کسی سینئر تک پہنچا دیئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سارے تبصرہ نگار معطل کر دیئے گئے۔ پتہ نہیں اب افسران عمران خان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے؟ اس بارے میں قیاس آرائی بھی شاید بہت سارے لوگوں کو گراں گزرے گی اس لئے اس سے پرہیز ہی بہتر ہے۔ شاید افسران سوچ رہے ہوں کہ ساری عمر اس نے کرکٹ کھیلی ہے اور اب ہمیں سٹیٹ کریفٹ سمجھا رہا ہے۔

حکومت کی تبدیلی،اپوزیشن کے طور پر عمران خان کے جارحانہ رویے اور پھر احد چیمہ اور فواد حسن فواد جیسے لوگوں کی گرفتاری نے ایک دفعہ تو بیوروکریسی کو انتہائی ڈی موریلائز کر دیا ہے۔ حکومت نے تو پالیسیاں بنانی ہوتی ہیں، اُن پر عملدرآمد تو بیوروکریسی ہی نے کرنا ہوتا ہے، اسی صورت حال کے پیش نظر عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے نیب کے چیئرمین سے بات کرلی ہے، لہٰذا آپ بے فکر ہو جائیں۔ پتہ نہیں نیب کے چیئرمین کو کوئی ہدایت دینا اور اس کا یوں اعلان کرنا وزیراعظم کے لئے مناسب تھا یا نہیں؟ کیونکہ پی ٹی آئی بڑی شدت سے نیب جیسے اداروں کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ ایک اور پہلو بھی غورطلب ہے کہ حکومت سادگی پر بہت زور دے رہی ہے اور اس رجحان کو عوامی سطح پر پسند بھی کیا جا رہا ہے۔ سادگی کی زدبھی سیاستدانوں کے علاوہ بیوروکریسی پر پڑے گی، اب بجا طور پر طے کیا جا رہا ہے کہ افسران بڑے گھر چھوڑ کر چھوٹے گھروں میں رہیں اور دورے کم کریں۔ پھر رہائشی پلاٹوں کی جو لوٹ مچی ہوئی ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اس معاملے میں ابھی تک خاموش ہے۔

پتہ نہیں وہ کتنی انقلابی ہو سکتی ہے۔ اس وقت گریڈ بائیس کے افسر کو دو پلاٹ الاٹ ہوتے ہیں، اگر اُس کی بیوی بھی 22 میں پہنچ گئی ہے اور ایسی کئی مثالیں ہیں تو اُسے بھی 2 پلاٹ الاٹ ہوں گے۔ اگر کوئی افسر ایک سال تک سی ڈی اے کا چیئرمین رہے تو اُس کو ایک پلاٹ پھر گرے سٹرکچر کے بہانے پلاٹ۔ تو یہ تو طے ہے کہ اس لوٹ کھسوٹ کو بند ہونا چاہئے، لیکن بہرحال اس صورت حال کے کچھ منفی اثرات بھی ہوں گے، کیونکہ کوئی آدمی مراعات چھوڑنے کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہوتا وہ تو بڑھانے کے چکر میں ہوتے ہیں، مثلاً پہلے گریڈ بائیس کو ایک پلاٹ الاٹ ہوتا تھا، لیکن چند سیکرٹریوں کے مشورے پر جناب شوکت عزیز نے دو پلاٹوں کی منظوری دے دی۔

شوکت عزیز اُس حکومت کے نمائندے تھے جو سیاستدانوں کی لوٹ مار اور دھاندلیوں کے خاتمے کا دعویٰ لے کر قائم ہوئی تھی اور جس کا مقصد میرٹ کا قیام تھا۔ خیر یہ ایک لمبی بحث ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں نہ جمہوریت راس آتی ہے اور نہ آمریت سے ہمارا بھلا ہوتا ہے۔ سول سرونٹس کی حوصلہ شکنی کئی اور طرح سے بھی ہو رہی ہے۔ عمران خان یہ تکرار کررہے ہیں کہ وہ بیوروکریسی خصوصاً پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کریں گے۔ پولیس کتنی آزاد ہوئی ہے اُس کا بھانڈا تو پہلے مہینے ہی پاک پتن کے ڈی پی او کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے ہی پھوٹ گیا،جب افسروں کو چیف منسٹر ہاؤس بلا کر ایک غیرمتعلق آدمی سے بے عزت کروایا گیا اور پھر رات کے بارہ بجے تبادلہ کیا گیا ۔ اب سپریم کورٹ کے کہنے پر پنجاب کے اُس وقت کے آئی جی نے جو رپورٹ پیش کی ہے وہ اُن کی ’’دیانت‘‘ کی گواہی دے رہی ہے۔ آخر انہوں نے اسی حکومت میں آئی جی لگنا تھا۔ پنجاب نہ سہی سندھ میں لگ گئے، کچھ بااثر کالم نگار تو انہیں پنجاب کے لئے Recommend کر چکے تھے۔

چیف جسٹس نے وہ رپورٹ مسترد کر دی ہے اور کلیم امام پر اس قدر ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ اُن کی نوکری خطرے میں ہے ۔پھر چکوال اور راجن پورمیں دو واقعات پیش آ گئے۔ اب حکومت کا اپنے دعوے پر عمل کرنے کا وقت تھا کہ وہ اپنے ارکان اسمبلی کو سمجھاتے کہ یہ نیا پاکستان ہے، وہ پرانے ہتھکنڈوں سے باز آ جائیں۔ افسروں نے بھی سوچا ہو گا کہ اُن کو اس اُصول پرستی میں حکومت کی حمایت حاصل ہوگی اور شاید شاباش ملے گی لیکن خبر یہ ہے کہ اُن افسران کو شوکازنوٹس مل چکے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار نے اس معاملے پر بڑا دلچسپ کارٹون شائع کیا ہے۔ حکومت کی پالیسیاں تو عوام کی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں اور توقع کرنی چاہئے کہ وقت کے ساتھ ساتھ معاملات صحیح رُخ اختیار کر لیں گے لیکن یہ ڈر بھی لگتا ہے کہ اگر ان پالیسیوں کو صحیح طرح ہینڈل نہ کیا گیا تو اِن کے منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ سادگی کی مہم میں افسروں سے مراعات واپس لینا پتہ نہیں انہیں کتنا ہضم ہو گا اور پھر سروس میں نئے آنے والوں کے لئے کہیں یہ چیز حوصلہ شکنی کا باعث نہ بن جائے۔ ہماری سول سروس کا معیار تو پہلے ہی گِر چکا ہے۔ اب ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے تو سول سروس میں نہیں آتے۔ کہیں یہ اقدامات مزید گراوٹ کا سبب نہ بن جائیں۔

مزید : رائے /کالم