چاول کی برآمد ات کا حجم 2ارب 35کروڑ ڈالر ہے،برآمدکنندگان

چاول کی برآمد ات کا حجم 2ارب 35کروڑ ڈالر ہے،برآمدکنندگان

فیصل آباد(بیورورپورٹ )پاکستان رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت بھارت بین الاقوامی منڈی میں چاول کا سب سے بڑا بیوپاری ہے جبکہ پاکستان ،برازیل،تھائی لینڈاور ویتنام سے بھی چاول کی بڑی کھیپ سپلائی ہوتی ہے تاہم ماسوائے پاکستان کے سب ممالک نے اپنے رائس سیکٹرز کو صنعت کا درجہ دے رکھا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس پر توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث پاکستان میں چاول کی برآمد کا حجم 2ارب 35کروڑ ڈالر ہے جسے حکومتی تعاون سے آئندہ چند سال میں بڑی آسانی سے 4سے 5ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا بہت بڑا المیہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی شعبہ مسلسل تنزلی کا شکار رہا ہے اور ہماری بڑی فصلیں جن میں گنا ،گندم ،کپاس اور چاول کا شمار ہوتا ہے ہم ان میں بھی خود کفیل نہیں ہوسکے اور نہ ہی برآمد ات بڑھا سکے بلکہ الٹا عالمی سطح پر ہم نے برآمد کا حصہ کھویا ہے یہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل اور چاول جیسی مصنوعات کی برآمدمیں کمی کی وجہ سے 2018ء میں درآمدات و برآمدات میں فرق 34ارب ڈالر تک چلاگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں چاول کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے لیکن اس سیکٹر کو بدقسمتی سے حکومتی معاونت میسر نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ ہمارے چاول کا کسان اور برآمدکنندہ دونوں تشویش کا شکار نظر آتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا چاول دنیا بھر میں اپنی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے جانا پہنچانا جاتا ہے تاہم اگر وفاقی حکومت رائس سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دے دے تو صرف ملکی زراعت میں ہی انقلاب نہیں آئے گا بلکہ پاکستانی چاول کے ایکسپورٹ کی مد میں مزید 30فیصد اضافہ اور ملک کے لیے کثیرزرمبادلہ کماسکتے ہیں جس کے لیے حکومت کو کوئی ریلیف پیکج بھی نہیں چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں چاول کی برآمد کا حجم دوارب 35کروڑ ڈالر ہے جسے حکومتی تعاون سے آئندہ چند سال میں ہی بڑی آسانی سے چارسے 5ارب ڈالر تک لے جایا جاسکتا ہے جو کوئی بڑا ہدف نہیں۔

اور اس سے نہ صرف چاول کی فصل اور صنعت کو ترقی ملے گی بلکہ معاشی ترقی کی راہ میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا بہترین چاول پاکستان میں پیدا ہوتا ہے تاہم ریسرچ انسٹی ٹیوٹس کا فقدان ہے، بھارت سے ایکسپورٹ ہونے والا چاول کوالٹی کے لحاظ سے پاکستا ن سے کم ہے اس لیے دنیا میں بھارتی چاول کی قیمت کم ہے جبکہ پاکستانی چاول 100ڈالر فی ٹن مہنگا بکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین نے چین کے نجی شعبے کے سائنس دانوں کی 20سال کی مشترکہ تحقیق کے بعد چاول کا ہائبرڈبیج تیارکرلیا ہے اوریہ بیج مقامی استعمال اور بین الاقوامی طور پر برآمدی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے ،یہ بیج مقامی استعمال میں نمایاں پیداوار کے حامل چاول کے ہائبرڈ بیج کی برآمد کے ساتھ جلد ہی اعلیٰ پائے کی زرعی تحقیق کرنے والے ممالک کے کلب میں شامل ہوجائے گا جبکہ تجارتی ضوابط کی منظوری کے مختلف مراحل کے بعد پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ چاول کا ہائبرڈ بیج برآمد کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 100ٹن ہائبرڈ بیج برآمد ہوگا جو تقریباً15ہزار ایکڑ زمین کاشت کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے گرم موسم اور پانی کی کمی سے نمٹنے کی صلاحیت کے حامل بیج کی اہمیت بڑھ گئی ہے اس حوالے سے پاکستان میں چاول کی بہترین پیداواری صلاحیت کے حاول ہائبرڈ بیج کی کامیاب کاشت ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

مزید : کامرس