اگست میں جاری کھاتے کا خسارہ 60کروڑ ڈالر رہا، سٹیٹ بینک

اگست میں جاری کھاتے کا خسارہ 60کروڑ ڈالر رہا، سٹیٹ بینک

کراچی( آن لائن ) درآمدات میں ایک ارب ڈالر کمی اور برآمدات و ترسیلات مستحکم رہنے سے اگست کے مہینے میں جاری کھاتے کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں ڈیڑھ ارب ڈالر تک کم رہا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق اگست کے مہینے میں جاری کھاتے کا خسارہ 60کروڑ ڈالر رہا جبکہ جولائی کے مہینے میں 2ارب 12کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی کے مقابلے میں اگست کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ 71.71فیصد کم رہا۔ اگست کے مہینے میں برآمدات کی مالیت 2ارب 8کروڑ 70لاکھ ڈالر جبکہ درآمدات کی مالیت 4ارب 46کروڑ60لاکھ ڈالر رہی اس طرح اگست کا تجارتی خسارہ 2ارب 37کروڑ 90لاکھ ڈالر رہا، جولائی میں برآمدات 2ارب ڈالر جبکہ درآمدات 5ارب 49کروڑ 30لاکھ ڈالر رہیں اور 3ارب 48کروڑ 40لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا رہا۔اگست کے مہینے میں خدمات کی ایکسپورٹ 45کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 71کروڑ ڈالر رہیں اور خدمات کا خسارہ 26کروڑ ڈالر کی سطح پر رہا جولائی کے مہینے میں خدمات کی برآمد 40کروڑ اور درآمدات کی مالیت 90کروڑ ڈالر رہی اس طرح خدمات کی تجارت کو جولائی کے مہینے میں 50کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا اگست کے مہینے میں اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ جولائی کے مقابلے میں ایک ارب 34کروڑ ڈالر کمی سے 2ارب 64کروڑ 20لاکھ ڈالر رہا۔

اگست میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 2ارب 3 کروڑ 70لاکھ ڈالر جبکہ جولائی میں ایک ارب 93 کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔

Back to

مزید : کامرس