سندھ اسمبلی کا ہونے والا بجٹ اجلاس بڑا ہنگا مہ خیز ثابت ہو سکتا ہے

سندھ اسمبلی کا ہونے والا بجٹ اجلاس بڑا ہنگا مہ خیز ثابت ہو سکتا ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کا پیر سے شروع ہونے والا بجٹ اجلاس بڑا ہنگامہ خیز ثابت ہوسکتا ہے،اپوزیشن کے پارلیمانی گروپوں نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کی ابھی سے تیاری شروع کردی ہے۔متحدہ اپوزیشن سندھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی، پی پی کے گزشتہ دس سالہ دور حکومت میں سرکاری فنڈز کے بے جا استعمال، مبینہ کرپشن اور اقربا پروری کے معاملات پر بھرپور آواز اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے جو مطالبات زر منظوری کے لئے ایوان میں پیش کئے جائیں گے ان کی بھی پوری شدت کے ساتھ مخالفت کی جائے گی۔ سندھ اسمبلی کے پارلیمانی زرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے سب زیادہ منظم انداز میں ہوم ورک پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کیا جارہا ہے اس نے سندھ اسمبلی کے اپنے تمام 29ارکان کو یہ ذمہ داری تفویض کی ہے کہ وہ سندھ کے تمام اضلاع کا مرحلہ وار دورہ کریں تاکہ وہاں دستیاب بنیادی سہولتوں ، صحت و صفائی کی صورتحال کے علاوہ درسگاہوں اور اسپتالوں کی حالت کا خود جائزہ لے سکیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ عوام کو درپیش مسائل اور صحت و صفائی کی ناگفتہ بہ صورتحال کی تصاویر اور ویڈیو کلپس بھی تیار کریں تاکہ انہیں بطور ثبوت سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیش کیا جاسکے۔معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے حال ہی میں شہداد کوٹ اور دوسرے قریبی علاقوں کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے مختلف اسپتالوں، فائر بریگیڈ اسٹیشن اور اسکولوں میں جاکر وہاں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا جس کی رپورٹ وہ اپنی پارٹی کی صوبائی لیڈر شپ اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی کو پیش کریں گے اسی طرح سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے اپنی جماعت کے ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ تھرپارکر اور عمر کوٹ کے اضلاع کا دورہ کیا وفد میں ڈاکٹر عمران علی شاہ اور دعا بھٹو بھی شامل تھیں۔وفد نے تھر میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال، عوام کو درپیش مسائل اور دوسرے امور کا تفصیلی جائزہ لیا وفد اپنے اس دورے کے نتیجے میں سامنے اانے والے حقائق کو سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیش کرے گا۔ دوسری جانب گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی میں نمبر گیم کے اعتبار سے اگرچہ پیپلز پارٹی کو واضح عددی اکثریت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سندھ میں گزشتہ دس سال کے دوران ہونے والی کرپشن، سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور اقربا پروری کے معاملات پر خاموش نہیں رہے گی اور اس ضمن میں بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔

مزید : علاقائی