سندھ حکومت بھی تبدیلی کی راہ ، پر سادگی اختیار کرنے کا عزم

سندھ حکومت بھی تبدیلی کی راہ ، پر سادگی اختیار کرنے کا عزم

تجزیاتی رپورٹ( نعیم الدین )سندھ حکومت کا نو ماہ کا بجٹ کیا عوام کے لئے خوشحالی ثابت ہو سکے گا یا عوام ماضی کی طرح صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے محروم رہیں گے البتہ اس بجٹ سے یہ اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرح سندھ حکومت سادگی اپنا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کے نوماہ میں کیا اثرات نظر آئیں گے اس وقت پورے ملک کی حالت مہنگائی کے باعث بدتر ہوتی جارہی ہے دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات غریباں دی پر بری طرح کے پڑھ رہے ہیں جبکہ سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جائیں گے عوامی حلقوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گیس کی قیمتیں گھریلو صارفین پر کم پڑھیں گے لیکن صنعتی پیداوار اور دوسرے شعبوں کی پیداوار بھی شامل ہے پر زیادہ پڑھیں گے جن میں بجلی کی پیداوار بھی شامل ہے ان کی قیمتیں بڑھ جائیں گی ۔بازار میں روٹی کی قیمت بڑھ جائے گی جو روٹی صرف 10 روپے کی ہیّ وہ پندرہ ہوجائے گی جبکہ دیگر اشیاء پر بھی اس کے اثرات ہونگے حکومت سندھ کی اس بات پر عوام نے اطمینان کااظہار کیا ہے ۔سندھ حکومت نے مالیاتی انتظام میں سادگی اپنائی ہے تاکہ غیر پیداواری سرکاری اخراجات کی نگرانی کی جا سکے ۔یہی وجہ ہے کہ گاڑیوں کی خریداری میں کمی کی گئی ہے ۔ ۔ پولیس فورس آپریشنل امور کے لیے گاڑیوں اور اسپتالوں کیلئے گاڑیوں پر بھی کنٹرول رکھا گیا ہے امن و امان کا قیام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔سندھ حکومت نے تعلیم کے لیے 235 ارب روپے اور اور صحت کے لئے 144 ارب روپے اور امن و امان کے لیے 102 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی رکھی گئی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک سندھ میں ترقیاتی کاموں میں کیا کارکردگی ہے جس سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے سندھ کے تعلیمی اداروں کا حال انتہائی خستہ ہے جب کہ اسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی کارکردگی کو بہتر کرنا ہوگا عوام کے لیے روزگار کے نئے منصوبے بنانا ہوں گے بجٹ کو صحیح جگہ استعمال کرنا ہوگا تاکہ صوبہ ترقی کر سکے۔

مزید : علاقائی