جبر اور جمہوریت (قسط نمبر8)

جبر اور جمہوریت (قسط نمبر8)

میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز غیر سیاسی خاتون ہونے کے باوجود سیاست میں کردار اکرنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔خاتون اوّل کے طور پر اپنے معمولات منصبی ادا کرنے کے باوجود وہ خالصتاًگھریلوخاتون تھیں لیکن12 اکتوبر1999کے فوجی انقلاب میں جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب میاں نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے ہٹا کرانہیں انکے بھائی شہباز شریف سمیت طیارہ کیس میں جیل پہنچا دیا گیا تو چند ہی دنوں میں بیگم کلثوم نواز شریف نے گھر سے نکل کر سیاسی جدوجہد شروع کردی ۔انہوں نے کن حالات میں حکومت کے خلاف میدان سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ،وہ کیا گھڑیاں تھیں۔ان کے اہل خانہ اور جماعت پر کیا گزری ؟بیگم کلثوم نواز شریف نے بعد ازاں ان حالات کو انتہائی باریکی اور دردمندی سے ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کیا تھا ۔بیگم کلثوم نوازکی یہ سیاسی جدوجہد انکے غیر معمولی کردار،دلیری اور جذبے کی داستان ہے کہ انہوں نے سنگین ترین حالات میں آمریت کو چیلنج کیا اور جمہوریت کی شمع روشن کئے رکھی ۔روزنامہ پاکستان میں اس کتاب کو قسط وار شائع کیا جارہا ہے ۔

مسلم لیگ کی GDA سے آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لئے گفتگو اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ چنانچہ ان رابطوں کے سبب مسلم لیگ کی طرف سے ظفر علی شاہ نے دبئی میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پی پی پی کی طرف سے محترمہ کے علاوہ مخدوم امین فہیم اور فتح محمد حسنی بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں اصولی طور پر یہ طے پایا کہ اپنی اپنی سیاسی سوچ سے وابستہ رہتے ہوئے ملک و قوم کو آئین اور جمہوریت کی طرف واپس لانے کے لئے مشترکہ جدوجہد کی جانی چاہیے اور ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو بحالی جمہوریت کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر مل بیٹھنا چاہیے۔ ظفر علی شاہ نے وطن واپسی کے فوراً بعد مجھے اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو پی پی پی سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا تاکہ میں میاں صاحب کو اس پیشرفت سے آگاہ کرسکوں اور ان کی ہدایات پارٹی کے دیگر اکابرین تک پہنچادوں۔

پارٹی کے عہدیداروں کو GDA سے مذاکرات کے متعلق صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد اکتوبر کے تیسرے ہفتہ میاں صاحب نے ایک رتین رکنی کمیٹی قائم کی جس کا یہ مینڈیٹ تھا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک جمہوری ایجنڈے پر لے کر آئے۔ اس کمیٹی میں راجہ ظفر الحق، سرانجام خان اور ظفر علی شاہ شامل تھے۔ جس دن میاں صاحب نے اس کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا اس دن راجہ ظفر الحق نے چودھری شجاعت سے ملاقات کی تاکہ ان کی تمام منفی سرگرمیوں کے باوجود ان کو ان معاملات میں اعتماد میں لیا جائے اور پارٹی اتحاد کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔

20 اکتوبر کو راجہ ظفر الحق، سرانجام خان، جاوید ہاشمی اور ظفر علی شاہ کی نوابزادہ نصرا للہ مرحوم سے ملاقات ہوئی اور ملک کو درپیش بحران میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو محترم کرنے اور مثبت سمت میں پیش قدمی کے حوالے سے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا۔

اگلے دن ہی ہم خیالوں کا اجلاس خورشید قصوری کے گھر ہوا۔ جس میں سیاسی جماعتوں کی مفاہمانہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے اس اتحاد کو مسترد کردیا جو ابھی معرض وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔ اس دن ہی سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ طیارہ کیس میں آیا جس میں میاں صاحب کی ایک عمر قید مزید ختم کردی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ہم خیالوں کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے خلاف بدستور ہرزہ سرائی کی گئی، ہم خیالوں کے لارڈ اور رئیس چوہدری شجاعت، میاں ظہر اور اعجاز الحق تھےْ

بہرحال نواز شریف صاحب نے مجلس عاملہ کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ موجودہ غیر دستوری حالات کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک مشترکہ ایجنڈرا اپنائیں تاکہ قوم کو اس آمریت کی رات کے بعد جمہوریت کی صبح دیکھنا نصیب ہوسکے۔

ماڈل ٹاؤن میں مسلم لی کے اجلاس بار بار منعقد ہورہے تھے تاکہ ہرامکانی صورت کا بغور جائزہ لے کر کو ئی فیصلہ کیا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کی ہدایت پر راجہ ظفر الھق صاحب نے چودھری شجاعت سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ ان کو بھی لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔ نواز شریف صاحب مسلم لیگ کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے امکانی حد تک ہم خیالوں کے اقدامات سے صرف نظر کررہے تھے تاکہ جماعت کسی بھی خلفشار سے محفوظ رہے۔ مگر دوسری طرف مسند اقتدار کے حصول کی دوڑ میں شریک یہ افرا دکسی بھی مفاہمانہ طرز عمل کو خاطرمیں نہیں لارہے تھے بلکہ جب انہوں نے سپریم کورٹ حملہ کیس میں سزا یافتہ افرا دکو توہین عدالت کی سزا مکمل ہونے پر ظہرانہ دیا تو اس میں بھی ان لوگوں کا لب و لہجہ ایسا تھا کہ اب مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ فخریہ لوگوں کو بتارہے تھے کہ آمریت سے ہمارا معاہدہ طے پاگیا ہے اور وہ اب ہم کو اقتدار میں اپنے ساتھ شریک کرلیں گے۔ چھ نومبر کو راجہ ظفر الحق سے ملاقات میں تو چوہدری برادران نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر GDA سے کسی مفاہمت کی کوئی بات مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہوئی تو بدمزگی ہوگی۔ اس جارہانہ طرز عمل کے بعد بھی نواز شریف او راجہ ظفر الحق کی طرف سے پارٹی اتحاد بچانے کی کوششیں ترک نہ کی گئیں بلکہ جب 16 نومبر کو اجلاس بلانے کا فیصلہ ہیوا تو سرانجام خان نے خودفون کرکے چودھری شجاعت کو اجلاس میں آنے کی دعوت دی تاکہ اجلاس کے حوالے سے امکانی بدمزگی کو بچایا جاسکے اور مسلم لیگ میں موجود تمام دھڑوں کو فیصلہ سازی میں موقع دیا جاسکے۔

16 نومبر کو مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں چوہدری شجاعت وغیرہ نہ آئے۔ اس اجلا س میں 52 ارکان نے شرکت کی اور تمام نے ہی بحالی جمہوریت کے لئے سیاسی جماعتوں سے مفاہمت اور GDAکے ساتھ اسی نکتہ پر اتحاد ہونے کی توثیق کردی۔ چوہدری شجاعت اور اعجاز الحق کے نہ آنے کے باوجود یہ فیصلہ ہوا کہ پریس بریفنگ میں ان افراد کے حوالے سے کوئی تلخ جملہ نہ استعمال کیا جائے گا۔ چنانچہ راجہ ظفر الحق نے چوہدری شجاعت اور اعجاز الحق سے رابطے جاری رکھے۔ 20 نومبر کا دن مسلم لیگ میں باقاعدہ پھوٹ ڈالنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے مسرت و شادمانی کا دن تھا۔ صبح 8 بجے ان گنت مسلح افراد نے مسلم لیگ ہاؤس پر قبضہ کرلیا۔ تمام ریکارڈ ارو نواز شریف صاحب کی تصاویر جلادی گئیں۔ ایک لیگی رہنما اور ملازمین کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ بعد میں ہم خیالوں نے افراد کی سربراہی کرتے ہوئے مسلم لیگ ہاؤس اسلام آباد پر بھی قبضہ کرلیا اور اس تمام سانحہ کے پس پردہ اسرار کو آشکارا کردیا۔ اس صورتحال میں عاملہ کا اجلاس میری رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ GDAسے معاملات طے کرنے کے لئے چھ رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس میں سرانجام خان کو مسلم لیگ ہاؤس پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دے دیا گیا۔ ہم نے اتمام حجت کے طور پر اس وقت بھی جاوید ہاشمی، تہمینہ دولتانہ اور سعد رفیق کو چوہدری شجاعت کے گھر بھیجا جہاں دیگر ہم خیال بھی موجود تھے مگر انہوں نے پانچ مطالبات رکھ دئیے بلکہ بہ الفاظ دیگر عاملہ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔

اس صورتحال سے ہم گھبراگئے، ہم پرویزی آمریت کی اس خواہش کو کبھی پورا نہیں ہونے دینا چاہتے تھے مگر سیاسی طاقتیں ایک میز پر اکٹھی نہ بیٹھ سکیں۔ اس لئے اگلے روز ہی مسلم لیگ کا ایک وفد نوابزادہ نصر اللہ مرحوم سے ملاتا کہ اس مفاہمانہ فضا کو حقیقت کے قالب میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اس ملاقات میں کم و بیش تمام امور طے کرلئے گئے تاکہ آئندہ مشکلات پیش نہ آئیں۔

پارٹی میں خلفشار کو روکنے کے لئے نواز شریف صاحب اور راجہ ظفر الحق ابھی تک تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ راجہ ظفر الحق نے معاملات کو حل کرنے کے لئے ایک 5 رکنی مصالحتی کمیٹی قائم کی جس کے ارکان وسیم سجاد، الہٰی بخش سومرو، گوہر ایوب، سرتاج عزیز اور ممنون حسین تھے۔

26 نومبر کو GDA نے اس بات کا باضابطہ فیصلہ کرلیا کہ مسلم لیگ اور ان کا سفر اب مشترکہ ہوگا چنانچہ تین دسمبر کو GDA کی جگہ اے آر ڈی کا قیام عمل میں آیا اور ایک ضابطہ اخلاق کی منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے علاوہ کسی بھی طرح کی ترمیم کو تسلیم نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ اس وقت متحدہ قومی موومنٹ بھی اے آر ڈی کا حصہ تھی۔ میں بھی اس اجلاس میں شامل تھی مگر اچانک پتہ چلا کہ بڑے میاں صاحب کی طبیعت سخت خراب ہے۔ چنانچہ میں فوراً اجلاس کے دوران ہی چلی گئی۔ اسی طرح سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑ اجمہوری اتحاد وجود میں آیا۔

1971ء کی جنگ جس کے نتیجے میں مملکت خداد داد پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک خوفناک سازش تھی اگر کوئی محب وطن سقط ڈھاکہ کے بعد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرتا تو وقتی مشکلات کے باوجود وہ قوم کو حقائق سے آگاہ کرواجاتا۔ سقوط ڈاکہ پر کمیشن بنا مگر اس کی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہ آسکی۔ اسی لئے کارگل کے آپریشن پر میں نے انکوائری کا مطالبہ کیا تاکہ خون شہیداں رائیگاں نہ جائے اور قوم کے سامنے کارگل کی مہم جوئی کی ضرورت اور اس کے نتائج واضح ہوسکیں۔

خوفناک سازش

کارگل پر بات کرنے سے پہلے میں یہ ضرور سمجھتی ہوں کہ 1971ء کی جنگ کے نتیجہ میں مملکت خداداد پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کو بے نقاب کروں۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اگر کوئی محب وطن کسی کمیشن کا مطالبہ کرتا تو وقتی طو رپر تو وہ پابند سلاسل ہوجاتا مگر قوم کو حقائق سے آگاہ کروایا جاتا۔ سقوط ڈھاکہ پر کمیشن تو بنا مگر اس کی رپورٹ آج تک کسی آمر کے ہاتھوں دبی ہوئی ہے۔ یہ عظیم ملک برصغیر کے اندر لاتعداد قربانیوں اور شہداء کے خون سے حاصل کیا گیا تھا۔ اس کے پیچھے برصغیر کے اولیاء اللہ کی دعائیں تھیں۔ نبی کریم ﷺ کا اپنی امت پر خصوصی کرم تھا کہ اس خطے میں نہتے مسلمان نے اپنے لئے ملک حاصل کیا۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اس کے پیچھے قلندر لاہور ڈاکٹر اقبالؒ کا دو قومی نظریہ مضمر تھا۔ قائداعظمؒ کی خلوص نیت اور قابلیت شامل تھی۔ کروڑوں ماؤں اور بہنوں کی دعائیں شامل حال تھیں اور میرے کئی بھائی اور بیٹوں کا اللہ کی رضا کے لئے خون دینا شامل تھا۔ اس ملک کو حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے کئی دریا عبور کرنے پڑے، عصمتیں لٹیں، گردیں نیزوں پر چڑھیں، سینوں نے برچھیاں کھائیں مگر افسوس صد افسوس اس پوری تاریخ کو پیچھے رکھ کر اس وقت کے ایک آمر نے اپنے چند حواریوں کے ساتھ اقتدار کے نشہ میں چور ہوکر بلکہ شراب کے نشہ میں چور ہوکر اس سلطنت خداداد پاکستان کو تھوڑے سے دنوں کی جنگ کے نتیجے میں دو حصوں میں تقسیم کروادیا بلکہ ایک جسم کے دو ٹکڑے کردئیے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /اداریہ