یمن میں50لاکھ بچے شدید ترین غذائی قلت کا شکار ہیں، اقوام متحدہ

یمن میں50لاکھ بچے شدید ترین غذائی قلت کا شکار ہیں، اقوام متحدہ

صعنا(آئی این پی ) بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہیمن میں 50 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، یمنی بچوں کی پوری نسل بم، بھوک اور مہلک مرض بیلو ڈیتھ جیسے سنگین مسائل سے دو چار ہے، اتحادیوں اور باغیوں کے تنازعے نے یمن کو انتہائی بد ترین صورتحال سے دو چار کر دیا ہے، یمن کو خطرناک انسانی بحران کا بھی سامنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساؔ ں ادارے کے مطابق بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی سے 50 لاکھ بچوں پر مشتمل پوری ایک نسل شدید غذائی قلت سے دوچار ہے جس کے نتیجے میں ان پر موت کو خطرات منڈلارہا ہے۔۔اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے اطفال(یونیسیف)کے مطابق 2 کروڑ 80 لاکھ افراد پر مشتمل یمنی آبادی جنگ کے باعث بدترین انسانی بحران کا شکار ہے ، جہاں 84 لاکھ افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ افراد امداد پر انحصار کرتے ہیں۔سیودی چلڈرن انٹرنیشنل کے سربراہ ہیلے تھرونگ نے کہا کہ لاکھوں بچے نہیں جانتے کہ انیہں کب اور کیا اگلے وقت کا کھانا ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یمنی بچوں کی پوری نسل سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے جس میں بم، بھوک اور مہلک مرض بیلو ڈیتھ شامل ہے۔

مزید : عالمی منظر