وزیر اعظم نے اپنے پہلے ہی دورہ میں کشکول اٹھا لیا،مولانا حیدری

وزیر اعظم نے اپنے پہلے ہی دورہ میں کشکول اٹھا لیا،مولانا حیدری

اسلام آباد(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم اور وزراء کو اپنے پہلے دورے میں چندہ نہیں مانگناچاہئے تھا، قرضہ نہ لینے کا ڈھونگ رچاکر دورہ عرب امارات میں وزراء سمیت کشکول اٹھاکر امداد مانگی گئی، پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ کی طرف سے نمائندگی ہونی چاہئے تھے مگر نہیں معلوم حکومت نے کمیشن کے بجائے کمیٹی تک کیوں محدود کیا ، جمعیت کے کارکن ملک بھر میں رکنیت سازی کرینگے رکنیت سازی کا مطلب تجدید عہد ہے کہ ہم اپنے نظریہ اور ملک کی فلاح وبہود اور اسلامی ریاست کے قیام کیلئے جدوجہد کو مزید تیز کردینگے ،قوم 9 اور 10 محرم کو روزہ رکھ کر ملک کی امن وسلامتی کیلئے دعاؤں کا اہتمام کریں یہ دن ہمیں ایثار اور قربانی کی یاد دلاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے پارلیمنٹ لاجز میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے جو دعوے اور بیانیہ تھا وہ قوم نے چند دنوں میں ہی دیکھ لیا ملک کو اپنے پاوں پہ کھڑا کرنے کے دعویداروں نے سعودی حکومت سے پہلی ملاقات میں ہی کشکول پیش کردیا چائیے تو یہ تھا کہ وزیر اعظم پہلی ملاقات میں جذبہ خیر سگالی کے ایسا نہ کرتے لیکن افسوس کی بات ہے کہ وزراء سمیت کشکول اٹھاکر امداد مانگی گئی۔ چندے اور بھیک سے تو شوکت خانم ہسپتال نہیں چل سکا یہ ملک کیسے چلے گا انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیشن سے پارلیمانی کمیٹی میں تبدیل ہونا حیرت انگیز ہے حکومت نے پہلے دونوں ہاوسز پہ مشتمل کمیشن کا کہا تھا مگر انہوں نے صرف قومی اسمبلی پہ مشتمل ارکان کی کمیٹی بنائی جو بہت سے شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے انہوں نے کہا کہ کہیں دھاندلی زدہ انتخابات کی تحقیقات سے راہ فرار کیلئے تو ایسا نہیں کیا جارہا اب بھی ہمارا مطالبہ ہوگا کہ کمیٹی میں سے سینیٹ سے بھی ارکان لیا جائے تاکہ شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہوسکے ۔

مولانا حیدری

مزید : صفحہ آخر