پاکستان نے قیام امن کیلئے گرانقدر قربانیاں دیں،گوپنر پنجاب

پاکستان نے قیام امن کیلئے گرانقدر قربانیاں دیں،گوپنر پنجاب

لاہور( نمائندہ خصوصی )گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ آج پوراعالمِ اسلام اپنے ماضی کی شاندار روایات اور عظمت و شوکت سے محروم نظر آتا ہے تو اُس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اسلام کے بنیادی نقطے اتحاد و ایمان سے نظریں چُرا رکھی ہیں اور اپنی عظیم روایات کو فروعی اختلافات اور فرقوں کی نذر کر رکھا ہے۔ وقت کا تقاضا اور محفوظ مستقبل کی کامیابی یہی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں یکسوئی اور اپنے رویوں میں برداشت پیدا کرتے ہوئے عالم اسلام اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنا اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گورنر ہاؤس لاہور میں تمام مکاتب فکر علماء پر مشتمل مجلس علماء پاکستان کے نمائندہ وفد اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے کیا جنہوں نے مولانا عبدالخبیر آزاد کی قیادت میں گورنر ہاؤس لاہور میں ان سے ملاقات کی۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان دُنیا کی واحد اسلامی مملکت ہے جو نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی اور یہی نظریہ ہمارے دین اور ایمان کا حصہ ہے اور اس کا صحیح تشخص اُجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی قربانی پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اس نبیٌ کے پیروکار ہیں جنہوں نے ہمیشہ محبت، رواداری اور بھائی چارے کا دَرس دیا ہے، گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمیں اپنے مسلک کو چھوڑو نہ اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تمام انتظامی معاملات کو خود ذاتی طور پر مانیٹرنگ کررہا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ اقلیتوں کے لئے بھی ایک محفوظ سرزمین ہے اور غیر مسلموں کو دی جانے والی مذہبی آزادی حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ بعد ازاں، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پاکستان پُر اَمن ملک ہے جس نے اَمن کے لئے گراں قدر قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان یورپین یونین سمیت اپنے دوست ممالک سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں گورنر ہاؤس لاہور میں وائس پریذیڈنٹ ای سی آر جرمنی ہنس اولف ہینکل کی قیادت میں آئے ہوئے یورپین کنزرویٹو اینڈ ریفامسٹس گروپ آف پارلیمنٹیرین کے چھ رُکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔

مزید : صفحہ آخر