تبدیلی یا مجبوری ؟

تبدیلی یا مجبوری ؟
تبدیلی یا مجبوری ؟

  

تحریک انصاف نے پہلی بار پاکستان میں حکومتی منصب سنبھالا ہے ، 22سال پہلے اس سیاسی جماعت نے جب اپنا سفر شروع کیا تو اس کو کبھی تانگے کی سواریوں والی جماعت اور کبھی نا مکمل اور نا سمجھ سیاست دان کی بنائی گئی جماعت کا نام دیا گیا تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے جب کوئی جلسہ کیا جاتا تو اُس میں شریک لوگوں کی تعداد دیکھ کر دوسری سیاسی جماعتیں مزاحیہ فقرے کسنا اپنا فرض سمجھتی تھیں، لگتا بھی یہی تھا کہ ایک کرکٹر یا کھلاڑی گراونڈ میں میچ اور ورلڈ کپ تو جیت سکتا ہے لیکن سیاسی میدان مارنا اُس کے بس کی بات نہیں ، تحریک انصاف کے چیئر مین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان اپنے ساتھیوں سمیت نیا پاکستان بنانے اور تبدیلی کا نعرہ لے کر سرگرم عمل رہے ، وقت کے ساتھ ساتھ عمران خان کے کچھ ساتھی انہیں چھوڑ گئے لیکن زیادہ تعداد میں لوگوں نے عمران خان کو جوائن کر لیا ، حالیہ الیکشن میں تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر اکھٹے ہونے والے دوسری سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے میدان مارا اور حکومت بنا لی ۔

حالیہ الیکشن میں امیدواروں کو دی جانے والی ٹکٹوں پرتحریک انصاف کے پرانے ساتھ چلنے والے ناراض بھی ہوئے لیکن اس کے باوجود ٹکٹوں کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا گیا ۔ نئی بنائی جانے والی وفاقی کابینہ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو وزراء میں وہ لوگ سامنے آئیں گے جو مختلف حکومتوں کے ادوار میں وزیر رہ چکے ہیں ، لہذا یہ کہنا کہ وہ تحریک انصاف کے وزراء ہیں بالکل غلط ہو گا ۔

اسی طرح صوبہ پنجاب کی کابینہ بھی زیادہ تر انہیں وزراء پر مشتمل ہے جو پہلے دوسری سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم استعمال کرتے رہے ہیں ۔اسے تبدیلی کہیں یا مجبوری ؟ کہ مسلم لیگ قاف کی نو سیٹوں کی وجہ سے صوبائی اسپیکر اور وزارت قانون جیسی طاقت پرویز الہیٰ اور راجہ بشارت کو صرف اس لئے دی گئی کہ وہ مسلم لیگ قاف کی طرف سے کامیاب ہوئے اور سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھی رہے ۔

اب اگر دیکھا جائے تو ہمیں یا عوام کو ان باریک بینیوں میں جانے کی ضرورت نہیں ، بلکہ عوام اب پاکستان کو ترقی یافتہ اور کرپشن سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں ، عوام نے عمران خان اور ان کی حکومت سے بہت سی وہ اُمیدیں وابستہ کر لی ہیں جو انتخابی مہم کے دوران عمران خان اور اُن کے ساتھیوں نے اپنے خطابات میں لگائی تھیں ،اوپر سے ستم ظریفی یہ کہ انتخابی مہم کے دوران کئے جانے والے وعدے تو کیا پورے ہونے تھے نئے وعدوں کی بھر مار شروع کر دی گئی ہے ، پہلے سو دن میں نیا پاکستان بنانے والے اب عوام کو دو سال انتظار کا کہہ رہے ہیں ، اب اُن اُمیدوں اور وعدوں کا ذکر کرنا فضول ہے کیونکہ جو کچھ کہا گیا تھا اُس میں سے کچھ بھی پورا نہیں ہو سکا ، نہ تو گورنر ہاؤسز گرائے گئے ، نہ ہی مہنگائی کا جن بوتل میں بند ہوا ، کفائت شعاری اور سادگی کا نعرہ بھی پورا نہ کیا جا سکا ، تین ماہ تک کسی دوسرے ملک کا سفر نہ کئے جانے کا وعدہ ، پرائیویٹ طیاروں پر سفر ، جہازوں کی بزنس اور فسٹ کلاسز کا خاتمہ ، یکساں انصاف ، غریبوں کے لئے خصوصی پیکجز اور دوسرے بہت سے ایسے وعدے جو انتخابی مہم کا حصہ تھے اور جن کو دیکھتے ہوئے پاکستانی عوام نے تحریک انصاف کو واضح برتری دلائی وہ کچھ بھی پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا ، وزیر اعظم پاکستان با اختیار ہونے کے باوجود اتنے بے اختیار کیوں ہیں ؟ یہ سوال اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔پنجاب گورنمنٹ میں ناصر درانی کو پنجاب پولیس کی اصلاحات مرتب کرنے کا مشیر بنایا گیا ہے لیکن ابھی تک انہوں نے پولیس ’’ ری فارمز ‘‘ کے حوالے سے باقاعدہ کوئی کاروائی کرنا شروع نہیں کی ، میں ناصر درانی مشیر وزیر اعلیٰ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پولیس اصلاحات کرتے وقت سب سے پہلے پولیس کا پرانا یونیفارم بحال کریں ، پولیس کا نیا یونیفارم پاکستان آرمی کے یونیفارم کی کاپی ہے ، پاکستان آرمی نے اپنے ملک کا دفاع اُسی یونیفارم کو پہن کراور دُشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر کرنا ہوتا ہے ، پاک آرمی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر سرحدوں پر سینہ تان کر کھڑی ہوتی ہے ، انہیں مٹی رنگ کی یونیفارم پہننا انتہائی ضروری ہے جبکہ پولیس کو ایسی یونیفارم پہننی ہوتی ہے جو لوگوں کو نظر آ ئے کیونکہ پولیس نے سامنے رہ کر جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کرنا ہوتا ہے ، کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد دور سے پولیس کو دیکھ کر جرم نہیں کرتے اور بھاگ جاتے ہیں ، پنجاب پولیس کی موجودہ یونیفارم سے ظاہر ہی نہیں ہوتا کہ وہ پولیس والے ہیں ، پاکستان کے پبلک ایریاز میں ایسی یونیفارم نہ تو دہشت پیدا کرتی ہے اور نہ ہی وہ جرائم پیشہ افراد پر کوئی اثر چھوڑ رہی ہے ، موجودہ یونیفارم سے ملازم پولیس مین کم اور ’’ڈاکیا ‘‘ زیادہ لگتا ہے جو پنجاب پولیس کے معتبر ادارے کے لئے انتہائی معیوب بات ہے ، کچھ لوگ پولیس کی موجودہ یونیفارم پہنے ملازمین کو ’’ بہروپیا ‘‘ بھی سمجھتے ہیں ۔جو عموماً شادیوں میں پولیس والے بن کر پہلے ڈراتے ہیں اور پھر ’’ بھاگ لگے رہن ‘‘ کا نعرہ بلند کرکے انعام مانگ لیتے ہیں ، پولیس کی اصلاحات کے لئے مقرر کئے گئے مشیر وزریر اعلیٰ پنجاب کو چاہیئے کہ وہ پنجاب پولیس کی کالی قمیض اور خاکی پینٹ والی یونیفارم کو فی الفور دوبارہ لاگو کریں تاکہ پولیس والے صرف پولیس ملازمین لگیں نہ کہ کوئی دُوسری مخلوق ۔اس کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشنوں پر خواتین کے احترام کو یقینی بنائیں ، تھانے میں تشدد کے کلچر کو ختم کریں ، پولیس کو اختیارات دیں ، پولیس کے محکمے میں بھرتیوں ، ایف آ ئی آر ، تبادلے ، فنڈز اور تنخواہوں کے معاملات میں سیاسی مداخلت کو فوراً بند کیا جانا نہائت ضروری ہے ۔سٹریٹ کرائم کو روکنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ٹریفک پولیس کو اختیارات دیئے جائیں کہ وہ بغیر لائسنس چلائی جانے والی ہر قسم کی گاڑی کا چالان کر سکیں اور اگر کوئی بد تمیزی کرے تو وہ گاڑی بند کر دی جائے ،کیونکہ جرائم پیشہ افراد واردات کرنے سے پہلے اور بعد میں شاہراہوں کو ہی استعمال کرتے ہیں ۔

اور جب کسی تیز رفتار گاڑی کو روکا جائے تو وہ روکنے والے پولیس مین کی بات کو سنی ان سنی کرکے نکل جاتے ہیں ۔گاڑیوں کو بند کرنے کے بعد انہیں کہیں کھڑا کرنے کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے حکومت کی کسی ناکارہ زمین پر ایسا انتطام کیا جائے جہاں قانون توڑنے والی ہزاروں گاڑیاں بند کی جا سکیں ۔ اس طرح جرائم پیشہ افراد پولیس کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے ۔

تفتیشی افسران کو مجبور کریں کہ وہ حقائق کے مطابق تفتیش کریں ،کسی کی طرف داری نہ کریں تاکہ ایمانداری سے ک جانے والی تفتیش سے کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔ پاکستان کے غریب عوام کے لئے یہ سہولیات مہیا کرنا بہت ضروری ہے جس پر فوری عمل درامد کروایا جانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔

مزید : رائے /کالم