جندول،سابق سٹیٹ ملازمین انتطامیہ کیخلاف سراپا احتجاج

جندول،سابق سٹیٹ ملازمین انتطامیہ کیخلاف سراپا احتجاج

جندول (نمائندہ پاکستان) سب ڈویژن جندول کی سابق سٹیٹ ملازمین انتظامیہ کے خلاف بھڑک گئیں ، تعمیر شدہ املاک کو مسمار کئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاک افغان شاہراہ کو تحصیل ثمرباغ بازار کے مقامی پر کسی بھی قسم کے ٹریفک کیلئے بند کر کے شٹر ڈاون ہڑتال کیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سابق سٹیٹ ملازمین کی نمائندہ تنظیم کی کال پر جندول میں املاک کی مسماری کے خلاف احتجاجی ریلی اور جلسہ منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں سابق سٹیٹ ملازمین اور پشت در پشت اولاد نے شرکت کی۔احتجاجی ریلی بازار ثمربا غ سے ہوکر کمپلیکس کے مقام پر اختتام پذیر ہوئی اور جلسہ کا شکل اختیار کر لیا۔ریلی کے دوران ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی ہوئی ۔احتجاج کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے ضلعی صدر ملک عبد الستار ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سربلند خان ، بہادر خان ، سلیم خان ، شامراد خان ، کسان کونسلر مبارک شاہ، لطیف و دیگر نے کہا کہ جندول کی آراضی1880سے سابق ملازمین کی زیر قبضہ ہے اور ملازمین کے علاوہ ان زمینوں کو کوئی دوسرا مستند و قانونی وارث موجودنہیں انہوں نے کہا کہ 1960میں جندول آزاد ریاست سے حکومت پاکستان کے رٹ میں چلے جانے کے بعد1974میں ان آراضیات کی ملکیت کیلئے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت میں لینڈ کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے آراضیات کو سابق ملازمین کی ملکیت قرار دیا تھا تاہم اب ضلعی انتظامیہ ان آراضیات کو سرکری قرار دیکر یہاں املاک کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتے اور تعمیر کی صورت میں اسے مسمار کر دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان ملازمین نے پاکستان کی آزادی سے قبل ان زمینوں کیلئے بہت قربانیاں دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈی سی عوام اور حکومت کو لڑا کر بد امنی پیدا کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ انتظامیہ نے املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو مساجد میں اعلانات کر کے عوام کو نکال کر زبردستی مسماریوں روک لینگے اور اس دوران قتل مقاتلہ یا کسی قسم کے نقصان کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر اور مقامی انتظامیہ پر ہوگی۔مشران نے آئندہ 30ستمبر کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے گھیراوں کا اعلان کر دیا اور کہا کہ یہ احتجاج تب تک جاری رہیگا جب تک زمینیں سابق ملازمین کو الاٹ نہیں کی جاتی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر